اعصاب شکن بریکنگ نیوز : جب جنرل پرویز مشرف نے جمہوریت کی بساط لپیٹی

آج میں آپ کو بارہ اکتوبر کی اعصاب شکن بریکنگ نیوز کی کہانی سنانے جا رہا ہوں۔ اکتوبر کا مہینہ پاکستان میں ایوب دور سے ہی بہت اہم رہا ۔ بارہ اکتوبر کی کہانی اور حالیہ اکتوبر میں ایک تعلق یہ ہے کہ نواز شریف کو 1999 میں اسی اکتوبر میں اقتدار سے محروم کیا گیا اور اب وہ اسی اکتوبر کی اکیس تاریخ کو وطن واپس آ رہے ہیں۔

 1999 کی کہانی کچھ اس طرح ہے: 11اکتوبر 1999 سوموار کا دن اور روزنامہ نوائے وقت ملتان کا نیوزروم ۔ ان دنوں میری ڈیوٹی تین بجے سہ پہرسے دس بجے رات والی شفٹ میں ہوتی تھی۔ ہم نوائے وقت کی پہلی ڈاک کا پرچہ تیارکرتے تھے۔ پہلی ڈاک کے لیے لیڈ سٹوری عموماً آخری وقت تک تبدیل ہوتی رہتی تھی۔ دوسری اورتیسری ڈاک کے درمیان چونکہ وقت کم ہوتا تھا اس لیے ہماری کوشش ہوتی تھی کہ ایسی لیڈ تیار کرکے جائیں جو دوسری ڈاک میں بھی چل جائے۔ گھر سے نکلتے ہوئے مجھے یہ معلوم تھا کہ آج لیڈ سٹوری کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرناپڑے گا۔ وزیراعظم نوازشریف اس روز مجاہد علی شاہ اور جاوید علی شاہ کی دعوت پر شجاع آباد آئے ہوئے تھے اور وہاں انہوں نے تین بجے جلسے سے خطاب کرناتھا۔ دوتین روز سے یہ بات بھی زیربحث تھی کہ نوازشریف کے گزشتہ دور حکومت کا خاتمہ بھی شجاع آ باد کے دورے کے بعد ہوا تھا۔ کیا اس مرتبہ بھی ایسا ہوگا؟

مجھے اندازہ تھا کہ نوازشریف کا جلسہ بہت تاخیر کا شکاربھی ہوا تو چاربجے تک ختم ہوجائے گا اور پہلی ڈاک میں ہی نوازشریف کے جلسے کی لیڈ تیارہوجائے گی جومعمولی ردوبدل کے ساتھ لوکل تک چل جائے گی لیکن مجھے یہ ہرگز معلوم نہیں تھا کہ آج خبر کی تیاری میں صبح کے چار بج جائیں گے ۔ اب مجھے یاد نہیں کہ نوازشریف نے اس روز کیا تقریر کی تھی لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ پانچ ساڑھے پانچ بجے کے قریب میں لیڈ سٹوری بناچکا تھا۔ شجاع آ باد جانے کے لیے نوازشریف خصوصی طیارے کے ذریعے ملتان آئے تھے اور یہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ایئرپورٹ پر موجود ان کے طیارے میں ان کے تقریرنویس نذیر ناجی موجود ہیں۔ نوازشریف انہیں طیارے میں ہی چھوڑ کر شجاع آباد چلے گئے تھے تاکہ جب تک وہ واپس آئیں اس وقت تک نذیرناجی وہ تقریر لکھ لیں جو نوازشریف نے واپس اسلام آباد جاکر کرنا تھی۔ اس وقت تک کسی کویہ معلوم نہیں تھا کہ نوازشریف شجاع آباد روانگی سے قبل جنرل پرویز مشرف کی جگہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ضیاالدین بٹ کو ترقی دے کر چیف آف آرمی سٹاف مقرر کرآئے ہیں۔

پرویزمشرف ملک میں موجود نہیں تھے۔ وہ سری لنکا کے دورے پرگئے ہوئے تھے۔ یہ فیصلہ اتنی عجلت میں اور خفیہ طور پر کیا گیا کہ جنرل ضیاالدین بٹ کو آرمی چیف کے جو بیج لگانے تھے وہ بھی بازار سے خریدناپڑے۔ نوازشریف اس تقریب کے بعد ملتان آگئے اور وزیراعظم ہاؤس میں پرویز مشرف کی ریٹائرمنٹ اور ضیاالدین بٹ کی تقرری کے احکامات تیارکیے جانے لگے جو چاربجے سہ پہر جاری کردیے گئے۔ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ کارگل کے بعد سے نوازشریف کے تعلقات بہت کشیدہ جارہے تھے لیکن کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ معاملات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ نوازشریف انتہائی اقدام کرنے والے ہیں۔ شجاع آ باد کے جلسے میں نواز شریف نے کوئی چار اورپانچ بجے کے درمیان تقریر شروع کی۔ ابھی وہ آدھی تقریر ہی کرپائے تھے کہ اسلام آباد سے آئے ہوئے ان کے ایک افسر نے ان کے کان میں آکرکوئی بات کی اور یہ بات سنتے ہی نوازشریف تقریر مختصر کرکے فوری طورپر واپس ملتان اور وہاں سے اسلام آباد روانہ ہوگئے۔

شجاع آباد کے صحافیوں نے نوازشریف کے جلسے کی تقریر اورجھلکیاں بنا کر اخبارات کو فیکس کرنا شروع کردیں اور نوائے وقت ملتان کے دفتر میں مجھے وہ خبر موصول ہوگئی جس کے لیے میں ذہنی طورپر پہلے سے تیارتھا۔ نیوزایڈیٹرعاشق علی فرخ پانچ بجے کے قریب دفتر آئے تو میں نے تیارشدہ لیڈ ان کے سامنے رکھ دی۔ انہوں نے ایک نظر اس پر ڈالی اور سوال کیا کہ تصویریں کب تک آئیں گی؟ میں ابھی اس سوال کا جواب ہی نہیں دے پایا تھا کہ پانچ بجے کی خبروں کا وقت ہوگیا۔ پانچ بجے کی خبروں میں چند سطروں کی یہ خبر نشر ہوئی کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کوریٹائر کرکے ان کی جگہ ضیاالدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کردیا گیا ہے۔ میں جو اس وقت لیڈ تیارکیے بیٹھا تھا فوری طورپر نئی خبر کی تیاری میں مصروف ہوگیا۔ وہ ضمیمے کا دور تھا۔ اطلاعات تک رسائی آج کی طرح اتنی تیز نہیں تھی۔ اس چند لائنوں کی خبر سے مجھے ضمیمے کا پورا صفحہ تیارکرناتھا۔ نوازشریف کی شجاع آباد میں ہونے والی تقریر بھی اسی ضمیمے میں استعمال کرلی گئی۔ آدھ گھٹنے کے اندر ہم نے ضمیمہ چھاپ کر مارکیٹ میں بھیج دیا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اسلام آباد میں کیا ہورہا ہے۔ پانچ بجے تک ٹرپل ون بریگیڈ حرکت میں آچکی تھی اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزلیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز خود اس آپریشن کی نگرانی کررہے تھے ۔ پی ٹی وی ، ریڈیو پاکستان اور دیگر نشریاتی اداروں کا کنٹرول فوجی جوانوں نے سنبھال لیا تھا۔

ٹی وی کی نشریات تعطل کا شکارہوئیں تو یکدم افواہوں کا بازار گرم ہوگیا۔ موبائل فون اس وقت چند لوگوں کے پاس ہوتے تھے ۔ ان کی سروس بھی منقطع کردی گئی۔ ہوا یہ تھا کہ پاک فوج نے جنرل ضیاالدین بٹ کو اپنا سربراہ تسلیم کرنے سے انکارکردیاتھا۔ جوائنٹ چیفس آف دی سٹاف کمیٹی کی جانب سے نوازشریف کی فوجی قیادت کی تبدیلی کی کوشش ناکام بنادی گئی تھی۔ جو ضمیمہ ہم نے مارکیٹ میں بھیجا تھا اس کی فروخت بھی رک گئی ۔ معلومات کا واحد ذریعہ اب بی بی سی ٹی وی تھا جو ہم ڈش اینٹینا کے ذریعے مانیٹر کرتے تھے۔ وہاں سے معلوم ہوا کہ فوجی دستوں نے جنرل مظفرعثمانی کی قیادت میں کراچی ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ پرویز مشرف کا جو طیارہ کولمبو سے آرہا تھا، وہ کراچی کے قریب پہنچ چکاتھا ۔ اسے شیڈول کے مطابق ساڑھے چھ بجے کراچی پہنچنا تھا لیکن کنٹرول ٹاور سے اسے ہدایت کی جارہی تھی کہ طیارے کا رخ نواب شاہ کی جانب موڑ لیا جائے اور مبینہ طورپر یہ کوشش وزیراعظم کی ہدایت پر اس لیے کی جارہی تھی تاکہ پرویزمشرف کو پاکستان پہنچتے ہی حراست میں لے لیا جائے۔ طیارے میں موجود جنرل پرویزمشرف کو صورتحال کا اندازہ ہوگیا تھا۔ انہوں نے پائلٹ کوہدایت کی کہ وہ کراچی ایئرپورٹ کی جانب ہی پرواز جاری رکھے کہ وہ کراچی ہی اترنا چاہتے تھے۔ پائلٹ کی جانب سے بتایاگیا کہ طیارے میں صرف سات منٹ کا پٹرول باقی ہے اور اس صورت میں کوئی حادثہ بھی ہوسکتا ہے لیکن پرویزمشرف نے کراچی اترنے پر اصرارجاری رکھا ۔

اسی دوران کنٹرول ٹاور پر پاک فوج کے جوانوں نے صورتحال کو قابو کرلیا اور پرویز مشرف کا طیارہ بحفاظت کراچی اتارلیا گیا۔ طیارہ روکنے کی اس کوشش کو بعد ازاں ہائی جیکنگ کی کوشش قرار دیا گیا اور نواز شریف اس کیس میں سزا یافتہ ہونے کے بعد جلا وطنی پر مجبور کئے گئے ۔ رات سوا دس بجے ٹی وی کی نشریات بحال ہوئیں۔ اوروہاں قومی ترانے دکھائے جانے لگے۔ اس دوران پی ٹی وی سنٹر میں فوج کے داخل ہونے کی وہ تصویریں بھی اے ایف پی کے ذریعے اخبارات کوموصول ہوگئی تھیں جن میں فوجی جوان پی ٹی وی سنٹر کاگیٹ پھلانگ رہے ہیں۔ وزیراعظم ہاﺅس میں بھی فوج داخل ہوچکی تھی۔ نوازشریف نے پرویز مشرف کی سبکدوشی کے احکامات واپس لینے اور مستعفی ہونے سے انکار کیا تو انہیں وزیراعظم ہاؤس سے لے جاکر ایک ریسٹ ہاؤس میں نظربند کردیا گیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں موجود دیگر اہلکاروں اور وزرا کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ صدیق الفاروق وزیراعظم ہاؤس کے ایک غسل خانے میں چھپ گئے تھے وہ وہیں بند رہ گئے۔ ٹیلی فون بحال ہونا شروع ہوئے اورنوازحکومت کی برطرفی کی خبر بھی آگئی۔

یہ سب کو معلوم تھا کہ فوج نے اقتدار پرپھرقبضہ کرلیا ہے لیکن سرکاری اعلان کا ابھی انتظارتھا اور وہ اعلان خود پرویز مشرف نے کرناتھا۔ رات دوبجے تک بھی جب پرویزمشرف کی تقریر نہ شروع ہوئی توعاشق علی فرخ صاحب نے مجھے گھرجانے کی اجازت دے دی لیکن گھر کس نے جانا تھا۔ ایک دوست کی بیٹھک میں ملک عامرڈوگرسمیت بہت سے سیاسی کارکن اور دانشور تقریر سننے کے لیے جمع تھے۔ اور وہاں نوازحکومت کے خاتمے کی خوشی میں مٹھائی بھی تقسیم ہورہی تھی۔ میں بھی وہاں پہنچ گیا۔ رات تین بجے پرویزمشرف نے کمانڈو کی وردی میں قوم سے خطاب کیا ۔ نوازحکومت کے خاتمے اور ملکی سلامتی کے خلاف ”سازش“ ناکام بنانے کا اعلان کیا۔ ابھی انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ انہوں نے کس حیثیت میں حکومت کرنی ہے۔ تقریر میں مارشل لاکے نفاذ کا لفظ بھی استعمال نہ کیا گیا۔ نہ ہی مارشل لاایڈمنسٹریٹر جیسی کوئی اصطلاح ان کی زبان پرآئی۔ ابھی تو انہیں کسی آئینی ماہر نے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ تخلیق کرنے کا مشورہ بھی نہیں دیا تھا ۔یہ سارے معاملات اگلے دو روز میں آئین کے جادوگر شریف الدین پیرزادہ نے طے کرن اتھے۔

قوم بس یہ جانتی تھی کہ امیر المومنین کے منصب پر فائز ہونے والے نوازشریف سے اسے نجات مل چکی ہے۔ لوگ مٹھائیاں تقسیم کررہے تھے جیسے انہوں نے بھٹو کی رخصتی اور پھانسی پر تقسیم کی تھیں۔ اور جیسے وہ آئندہ بھی جمہوریت کے خاتمے پر تقسیم کریں گے۔ نوازشریف کی جو لیڈ سٹوری میں نے پانچ بجے تیار کی تھی وہ اگلے روز کے اندرونی صفحات پر سنگل کالم سرخی کے ساتھ شائع کی گئی۔ سرخی یہ تھی ” نوازشریف کی شجاع آباد میں آخری تقریر“۔