نواز شریف کی واپسی
- تحریر مزمل سہروردی
- جمعرات 12 / اکتوبر / 2023
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف لندن سے پاکستان کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ ابھی تک کی خبریں یہی ہیں کہ نواز شریف کی دبئی سے لاہور کے لیے ایک خصوصی فلائٹ بک کر لی گئی ہے۔ عرف عام میں ایک جہاز چارٹر کروا لیا گیا ہے۔
اس جہاز میں ان کے ساتھ ان کے کچھ ساتھی اور صحافی بھی ہوں گے۔ ابھی تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق وہ لاہور پہنچنے کے بعد ہیلی کاپٹر سے مینار پاکستان پہنچیں گے۔ جہاں ایک جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے ٹھوکر میں ایک کامیاب جلسہ کے بعد لاہور میں دیگر جلسے اور کارنر میٹنگ منسوخ کر دی ہیں۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ مزید جلسے اور ورکرز کنونشن کیوں منسوخ کیے گئے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ کارکنوں میں جس جوش و خروش کی ضرورت ہے، وہ بن گیا ہے۔ اب بار بار ورکرز کنونشن اور جلسے کرکے انہیں تھکانا نہیں چاہتے۔ کوشش یہی ہے کہ سب 21 اکتوبر کو مینار پاکستان ہی آئیں۔ میں سمجھتا ہوں سیاسی طور پر یہ ٹھیک ہے۔ بہرحال پہلی دفعہ پاکستان مسلم لیگ (ن) یونین کونسل کی سطح پر زور لگا رہی ہے۔ مریم نواز یونین کونسل کی سطح پر عہدیداروں سے مل رہی ہیں۔ سابق کونسلرز اور یونین کونسل کے ناظمین سے مل رہی ہیں۔ ورنہ بہت عرصہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایسی تنظیمی سرگرمی نہیں کی تھی۔
یہ درست ہے کہ 21 اکتوبر کو لاہور سے باہر سے بھی بڑی تعداد میں لوگ آئیں گے۔ مسلم لیگ (ن) نے ہر جگہ سے لوگ لانے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن لاہور پر زیادہ زور لگایا جا رہا ہے۔ رائے یہی ہے کہ جب تک لاہور نہیں نکلے گا جلسہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ باہر سے جتنے مرضی لوگ لے آئیں، وہ جلسہ کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ جب تک لاہور کے لوگ نہیں آئیں گے بات نہیں بن سکتی۔ اس لیے لاہور پر زور لگایا جا رہا ہے۔
زیادہ فوکس بھی لاہور پر ہی نظر آرہا ہے۔ شاہدرہ کے ورکرز کنونشن کے بعد لاہور کے ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز پر واضح کر دیا گیا ہے اگر انہوں نے پارٹی سے ٹکٹ لینے ہیں تو انہیں اپنے اپنے حلقوں میں کارکردگی دکھانا ہوگی۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شاہدرہ کے جلسہ کے بعد جب یہ بحث شروع ہوئی تھی کہ یہ جلسہ تھا یا جلسی، شاہدرہ سے ارکان کی ٹکٹیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ یہاں سے رکن قومی اسمبلی ملک ریاض کے ٹکٹ منسوخ ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ان کے نیچے دونوں ارکان صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ بھی منسوخ کرنے کی باتیں بھی چل رہی ہیں۔ یوں سب کو پتہ چل گیا ہے کہ کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے سیاست کرنی ہے تو پھر 21 اکتوبر کے جلسے میں اپنی سیاسی کارکردگی دکھانی ہوگی۔
اس کے بعد لاہور سے مسلم لیگ (ن) کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں زور لگاتے نظر آرہے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگز نظر آرہی ہیں۔ انتخاب جیسا ماحول نظرا ٓرہا ہے۔ اب 21 اکتوبر کو اس کے نتائج کیا ہوں گے یہ تو دیکھنا ہوں گے۔ اس ساری سیاسی سرگرمی کے بعد کتنے لوگ خود آئیں گے، کتنے لائے جائیں گے۔ زیادہ اہم وہ لوگ ہیں جو خود آئیں گے۔ جب تک لوگ خود نہیں آئیں گے، سیاسی ماحول نہیں بنے گا۔
لاہور سے باہر سے لوگوں کو لانے کے لیے بھی مربوط حکمت عملی بنائی جا رہی ہے۔ بالخصوص لاہور سے ملحقہ شہروں سے لوگ لانے کے لیے پلان بنایا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم کے آخری جلسہ سے ایک سبق سیکھا گیا ہے کہ لوگ لاہور تو پہنچ جاتے ہیں لیکن ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے جلسہ گاہ تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس لیے اس بار یہ پلاننگ بھی کی جا رہی کہ لوگ جو باہر سے آئیں یا لاہور شہر سے بھی آئیں وہ آسانی سے جلسہ گاہ تک پہنچ سکیں۔ سب اندر آجائیں۔ باہر رہ جانے والوں کے آنے کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے شہروں کو علیحدہ علیحدہ روٹس دیے جا رہے ہیں تاکہ سب راوی کے پل پر نہ پھنس جائیں۔ روٹس بھی علیحدہ دیے جا رہے ہیں اور ٹائمنگ بھی علیحدہ علیحدہ دی جا رہی ہے تاکہ سب قافلے اکٹھے نہ پھنس جائیں۔
ایک سوال سب کے ذہن میں ہے کہ ن لیگ کے ذہن میں ٹارگٹ کیا ہے۔ وہ کتنے لوگ لانا چاہتے ہیں۔ اب تک اطلاعات کے مطابق لاہور کے تمام پرانے جلسوں کا ریکارڈ توڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایک نیا ریکارڈ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لاہور کے سیاسی جلسوں میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ن لیگ کتنی کامیاب ہوگی، کتنی ناکام ہوگی۔ اس سوال کا جواب تو 21 اکتوبر کو ہی ملے گا۔ کیا لاہور اب بھی ن لیگ کا ہے۔ کیا لاہور سے ن لیگ کا صفایا ہوجانے والے تبصروں میں کوئی حقیقت ہے کہ نہیں۔ کیا ن لیگ لاہور پر اپنی کھوئی ہوئی حاکمیت دوبارہ حاصل کر لے گی۔ 21 اکتوبر اس بات کو طے کرے گا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کا نواز شریف کی واپسی میں ایک کلیدی کردار ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بھی پارٹی کو اس واپسی کے لیے متحرک کرنے کے لیے ایک کردار ادا کیا ہے۔ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے ساتھ ان کی میٹنگز کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے انتخابی حلقہ میں جو ریلی نکالی اس نے بھی ایک اسپیڈ سیٹ کی تھی۔ وہ مسلم لیگ (ن) کی لاہور میں پہلی بڑی سیاسی سرگرمی تھی۔ اس کے بعد ٹھوکر کا جلسہ ہوا۔ نواز شریف کی واپسی سے ملک میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہو جائے گا۔
میں سمجھتا ہوں کہ لاہور میں نواز شریف کی واپسی پر ہونے والے جلسہ کے بعد باقی سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کرنا ہی ہوگا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ چپ رہیں۔ ویسے تو باقی سیاسی جماعتوں نے بھی پہلے جلسہ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ لیکن پھر بھی مینار پاکستان کا ن لیگ کا جلسہ ملک بھر میں انتخابی سرگرمیوں کو تیز کر دے گا۔ اس سے ملک میں انتخابی بگل بج جائے گا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بہت سالوں سے ایسی کوئی سرگرمی نہیں کی ہے۔ گزشتہ پانچ سال سے دباؤ کی ایک سیاست کی گئی ہے۔ لیکن یہ پہلی دفعہ ہے کہ انہیں سیاسی طور پر ایک مکمل فری ہینڈ ہے۔ اس لیے ان کے پاس ناکامی کا کوئی بہانہ نہیں ہوگا۔ ناکامی بھی ان کی ہوگی کامیابی بھی ان کی ہی ہوگی۔
(بشکریہ: روزنامہ ایکسپریس نیوز)