اسرائیل نے چوبیس گھنٹے میں شمالی غزہ خالی کرنے کا حکم دے دیا: اقوام متحدہ

  • جمعہ 13 / اکتوبر / 2023

اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وادی غزہ کے شمال میں رہنے والے ہر شخص کو اگلے 24 گھنٹوں میں جنوبی غزہ منتقل ہو جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ تعداد تقریبا 11 لاکھ ہے جو پوری غزہ پٹی کی آبادی کا تقریبا نصف ہے۔ متاثرہ علاقے میں گنجان آباد غزہ شہر بھی شامل ہے۔ یہ الرٹ غزہ اور یروشلم کے وقت کے مطابق آدھی رات سے کچھ پہلے دیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ تباہ کن انسانی نتائج کے بغیر اس طرح کی تحریک کا ہونا ناممکن ہے۔ اسرائیل غزہ کی سرحد پر زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں فوجی، بھاری توپ خانے اور ٹینک جمع کیے جا رہے ہیں۔ حماس کے عسکریت پسندوں کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد سنیچر کے روز سے غزہ پر فضائی حملے جاری ہیں۔

سرائیلی فوج نے غزہ شہر کے شہریوں کو براہ راست جنوب کی طرف نقل مکانی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ غزہ کی پٹی کا اہم شہری علاقے غزہ شہر سے مخاطب ہو کراسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ ’آپ غزہ سٹی میں صرف اس وقت واپس آسکیں گے جب اس کی اجازت دینے کا ایک اور اعلان کیا جائے گا۔

آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ حماس کے عسکریت پسند سرنگوں کے نیچے اور شہری آبادی والی عمارتوں کے اندر چھپے ہوئے ہیں۔ بیان میں شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ’اپنی حفاظت اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کے لیے شہر خالی کر دیں اور حماس کے دہشت گردوں سے دور رہیں جو آپ کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں، آئی ڈی ایف غزہ شہر میں نمایاں طور پر کام کرنا جاری رکھے گا اور شہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے وسیع پیمانے پر کوششیں کرے گا۔ یہ حکم ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب توقع ہے کہ اسرائیل غزہ میں زمینی حملہ کرے گا جس کے لیے ہزاروں فوجی سرحد پر جمع ہیں۔

اقوام متحدہ نے اس حکم نامے کو منسوخ کرنے کی پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انخلا سے ’خوفناک صورتحال‘ پیدا ہوسکتی ہے اور اس کے ’تباہ کن انسانی نتائج‘ برآمد ہوں گے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے شمالی غزہ کے 11 لاکھ افراد اگلے 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کے کسی بھی حکم کی تصدیق ہونے کی صورت میں اسے منسوخ کرنے کی پرزور اپیل کرتا ہے تاکہ اس سانحے کو ایک المناک صورتحال میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔

اسرائیلی فوج کے رابطہ افسران نے غزہ میں اقوام متحدہ کی ٹیم کے رہنماؤں کو انخلا کے حکم کے بارے میں بتایا تھا۔ اس حکم نامے میں جن لوگوں کو علاقے سے نکلنے کو کہا گیا ہے ان میں اقوام متحدہ کی تنصیبات بشمول سکول، صحت کے مراکز اور کلینکس میں پناہ لینے والے افراد اور عملہ بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جمعے کی سہ پہر ایک منعقد ہوگا۔ امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں۔

اسرائیل نے اقوام متحدہ کو ایک جواب میں اپنے انخلا کے حکم کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ بین الاقوامی ادارے کا بیان ’شرمناک‘ ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر گیلاڈ ایردان نے کہا کہ اسرائیل غزہ کے رہائشیوں کو قبل از وقت انتباہ دے رہا ہے اور حماس کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل نہ ہونے والوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’کئی سالوں سے اقوام متحدہ نے حماس کو مسلح کرنے اور غزہ کی پٹی میں شہری آبادی اور سویلین انفراسٹرکچر کو اپنے ہتھیاروں اور قتل و غارت گری کے لیے چھپنے کی جگہ کے طور پر استعمال کرنے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ اب اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے، جس کے شہریوں کو حماس کے دہشت گردوں نے قتل کیا تھا۔ یہ الٹا اسرائیل کو نصیحت کر رہا ہے۔

اسرائیلی سفیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کے لیے بہتر ہے کہ وہ یرغمالیوں کی واپسی، حماس کی مذمت اور اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت پر توجہ دے۔