نوازشریف کی وطن واپسی اور عام انتخابات
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 14 / اکتوبر / 2023
عالم اسلام شدید اضطراب کا شکار ہے۔ عالم عرب حسبِ سابق ویسا ہی ہے بے عمل، بے وقعت، عالم غرب میں پہلے کی طرح بیداری پائی جاتی ہے۔ معاملات کو بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ دیکھ ہی نہیں رہے ہیں بلکہ ردعمل بھی دے رہے ہیں اور عملی اقدامات بھی کررہے ہیں۔
حماس نے جو کچھ کیا اسرائیل کے اندر گھس کر اسے مارا، اس کے ناقابل شکست ہونے کے تصور اور تاثر کے پرخچے اڑا دیئے۔ دوسری جنگ عظیم کے وقت جس طرح جاپانیوں نے پرل ہاربر پر حملہ کرکے امریکی سرزمینوں کے ناقابلِ رسائی اور ناقابلِ تسخیر ہونے کے تصور کا بطلان کیا بالکل اسی طرح حماس نے اسرائیلی فضائی دفاع کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے تصور کو ہوا میں اڑا دیا۔ حماس نے یہ سب کچھ اسرائیلی مظالم کے خلاف، ردعمل کے طور پر کیا ۔ حماس کے جانبازوں نے عربوں کی بے حمتی اور بے حمیتی کا کفارہ ادا کیا ہے۔ 23کروڑ سے زائد عرب 91لاکھ اسرائیلی یہودیوں کے سامنے جس طرح سرنگوں ہو چکے ہیں ۔
یہودی جس طرح بیت المقدس پر قابض ہو چکے ہیں اس کے لئے حماس کی مجاہدانہ کارروائیاں قابل ستائش ہی نہیں ہیں بلکہ ابھرتے ہوئے ایک نئے منظر کے ابتدایئے کی نوید دے رہی ہیں۔ نیا منظر کیا ہے؟ وہی ہے جس کی پیش گوئیاں نبی آخر الزمان اور مخبر صادق محمد عربیؐ پہلے ہی کر چکے ہیں۔ ایک عظیم الشان جنگ، الملمۃ العظمیٰ۔ آر کا گیڈون، یہاں اس عظیم الشان خونریزی کی تفصیلات درج کرنے کا وقت نہیں ہے۔ بات کرنی ہے پاکستان کی۔ عالم ِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت جو اس وقت سیاسی، معاشی، معاشرتی و سفارتی گرداب کا شکار ہے، قومی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے،پیداوار کم ہے، معاشی نمونہ ہونے کے مترادف ہے۔
آئی ایم ایف شعبہ جاتی اصلاحات پر زور دے رہا ہے، اعانتیں ختم کی جا رہی ہیں، گردشی قرضے کم کرنے کی پالیسی نے بجلی، گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں زبردست اضافے کر دیئے ہیں۔ ٹیکس وصولیوں کے اہداف پورے کرنے کے لئے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بجائے، ٹیکس شرح بڑھائی جا رہی ہیں جس کے باعث مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ زرعی پالیسی کی شرح سود نے پیداواری عمل پر جمودطاری کر رکھا ہے۔ بے روزگاری عام ہونے کے باعث آمدنیاں گھٹ چکی ہیں، قدر زر شدید گراوٹ کا شکار ہے، مہنگائی،بے روزگاری اور سیاسی بے یقینی نے عوامی معیشت کو دیوالیہ کر دیا ہے۔ ہماری بیورو کریسی اور معاملات پر گرفت رکھنے والوں کو عوامی مشکلات سے نمٹنے یا انہیں کم کرنے سے رتی برابر بھی دلچسپی نہیں ہے ہر روز نئے نئے،عجیب و غریب ٹیکس اور پہلے سے لگے ٹیکسوں کی شرح میں خوفناک اضافے عوام پر عملاً قیامت ڈھا رہے ہیں۔
سیاست کروٹیں لے رہی ہے ویسے تو ہماری قومی سیاست 2017ء سے ہی کروٹیں لے رہی ہے جب نوازشریف کو منظر سیاست سے ہٹایا گیا تھا سیاست کو نئی کروٹ دینے کی تیاریاں 2011 سے ہی شروع ہو گئی تھیں جب کھلاڑی کو مینار پاکستان سے لانچ کیا گیا اور پھر 2018 میں اسے مسندِ اقتدارپر لا بٹھایا گیا 44ماہی اقتدار میں کھلاڑی نے صرف سیاست کے ساتھ ہی نہیں بلکہ قومی معیشت کے ساتھ بھی ایسا کھلواڑ کیا کہ الامان الحفیظ بات شاید 10اپریل 2021، تحریک عدم اعتماد تک نہ پہنچتی، اگر کھلاڑی نے ایمپائروں کے ساتھ بھی کھلواڑ کرنا شروع نہ کر دیا ہوتا۔ 9مئی کو کھلاڑی نے ریاست کو بھی اپنے ناپاک کھیل میں شریک کیا اور اس طرح سیاست میں اپنی قسمت پر ناکامی کی مہر لگوالی۔
شہبازشریف کی قیادت میں چلنے والی 16ماہی اتحادی حکومت نے ملک کو معاشی اور سفارتی فرنٹ پر تباہی سے بچا لیا لیکن عوام کو جان لیوا مہنگائی کی شکل میں اس کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ مسلم لیگ ن اس حوالے سے خصوصی طور پر ذمہ دار قرار دی جا رہی ہے مسلم لیگ ن کی عوامی پذیرائی میں کمی واقع ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوازشریف کی 21اکتوبر کو وطن واپسی کے حوالے سے ہونے والے اجتماعات میں ویسا جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آ رہا ہے جس کی ن لیگی قیادت توقع کررہی تھی لیکن معاملات کو آگے بڑھانے کی سرتوڑ کاوشیں جا ری ہیں۔ پاکستان کو معاشی و سیاسی گرداب سے نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ قومی سطح پر ڈائیلاگ ہو،جاری صورت حال کے پائیدار حل کے لئے صرف سیاسی عمل ہی کافی نہیں ہے بلکہ معاشی معاملات کی بہتری اور پائیدار حل کے لئے ضروری ہے کہ ایک ایسا قومی لائحہ عمل تشکیل دیا جائے جو معاشی پالیسیوں کے استقرار کو یقینی بنائے۔
نوازشریف کی آمد کو معاشی معاملات کی بہتری کے لئے ایک ”مسیحا کی آمد“ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ایسے کہاجا رہا ہے کہ جیسے ہی نوازشریف پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھیں گے معیشت ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گی۔ ن لیگ کم از کم ایسا ہی یک نکاتی بیانیہ تشکیل دینے میں مصروف ہے جو ابھی تک بہت زیادہ موثر نظر نہیں آ رہا۔ اس بارے میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ نوازشریف کے کریڈٹ پر پاکستان کی تعمیر و ترقی کے بہت سے کام ہیں۔ ان کے ادوارِ حکمرانی پاکستان میں عمومی خوشحالی اور معاشی ترقی سے عبارت کہے سنے اور گنے جاتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نوازشریف اپنا کوئی بھی دور حکمرانی پورا نہیں کر سکے۔ ان کی لڑائی ہو جاتی تھی اور پھر انہیں اقتدار سے الگ کر دیا جاتا رہا ہے۔ کسی بھی معاشی منصوبہ بندی کے اجرا اور تکمیل کا تعلق سیاسی ماحول سے ہوتا ہے۔ نوازشریف اور ان کی جماعت ابھی تک اس حوالے سے کسی پالیسی کا اعلان نہیں کر سکی ہے۔ جاری سیاسی بحران بھی ایک حقیقت ہے۔ کھلاڑی اور اس کی تحریک انصاف قومی سیاست کا ایک انتہائی اہم کردار ہیں پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ، ملک کے ایک مشہور اور معروف سیاسی لیڈر ہی نہیں ہیں بلکہ انہیں عوامی پذیرائی بھی حاصل ہے۔
کچھ ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق وہ پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر اور ان کی پارٹی سب سے زیادہ پسندیدہ جماعت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی مسلسل ایک ہی مطالبہ کر رہی ہے کہ الیکشن کرائے جائیں لیکن 9/10مئی کے افسوسناک واقعات سے نظریں چرانا بھی ممکن نہیں ہے۔ ریاست پر حملہ آور ہونے والوں کو ایسے ہی چھوڑ دینا قطعاً ملکی اور قومی مفاد میں نہیں ہے لیکن 5/6ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک ایسے معاملات کو کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچایا گیا کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں ہو سکا، پکڑ دھکڑ اور قید و بند تو جاری ہے لیکن معاملات عملاً جوں کے توں ہیں۔ ابھی تک یہ فیصلہ سامنے نہیں آسکا کہ کیا انتخابات میں بلے کا نشان ہوگا؟ پی ٹی آئی کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی؟ ویسے ابھی تک انتخابات کی حتمی تاریخ کے بارے میں بھی ابہام برقراررکھا جا رہا ہے۔
کچھ لوگ تو نوازشریف کی وطن واپسی کے بارے میں بھی ابہام پیدا کرنے میں مصروف ہیں لیکن ایک بات طے ہو چکی ہے یا کم از کم نظر آ رہی ہے کہ نوازشریف آرہے ہیں اور شیر دھاڑے گا ،عام انتخابات میں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)