غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے نفرت کو روکنا ہو گا: صدر بائیڈن
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران ختم کرنے کے لیے نفرت کو روکنا ضروری ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے عشائیے سے خطاب میں انہوں نے اسرائیل میں 1300 انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے بچوں اور معمر افراد کا ذکر بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا یہ ہالوکاسٹ کے بعد سے یہودیوں کا بدترین قتل عام ہے جو ایک اور طرح کی نفرت کو ظاہر کرتا ہے۔
غزہ کے انسانی بحران میں بے گناہ فلسطینی خاندانوں اور اکثریت کا حماس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہمیں نفرت کی ہر شکل کو مسترد کرنا ہو گا۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے لیے بجلی، پانی اور خوراک کی فراہمی پر پابندی کے بعد اتوار کے روز 23 لاکھ فلسطینیوں کے اس علاقے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد پانی اور خوراک کی تلاش میں ماری ماری پھرتی دکھائی دی۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ زیادہ تر بیکریاں بند ہو گئی ہیں اور روٹی نہیں مل رہی ۔
بے گھر فلسطینیوں کے لیے قائم پناہ گزین کیمپ جبالیا کی 25 سالہ امل ابو یحییٰ نے بتایا کہ ان کی بیسمنٹ کے پائپ میں قطرہ قطرہ پانی ٹپک کر آ رہا ہے۔ وہ دیر تک پانی اکھٹا کرنے کے بعد اپنے پانچ سالہ بیٹے اور تین سالہ بیٹی کو پینے کے لیے دیتی ہے اور خود کم سے کم پانی پیتی ہے۔
دوسری جانب ہر آنے والا لمحہ اسرائیل کے ممکنہ بھرپور فوجی حملے کو قریب تر کر رہا ہے جس کے خوف سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی جانیں بچانے کے لیے علاقے کے جنوبی حصے کی جانب جا رہی ہے۔ جب کہ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔
غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 2329 فلسطینی مارے جا چکے ہیں جب کہ 10 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ شہر پر فضا سے کتابچے گرائے ہیں جب کہ سوشل میڈیا پر بھی نئے انتباہ جاری کیے ہیں جن میں 10 لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو جو اس علاقے کی تقریباً نصف آبادی ہے ، جنوب کی جانب جانے کا حکم دیا گیا ہے۔
فوج کا کہنا ہے کہ وہ جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کرنے سے پہلے شہریوں کو وہاں سے نکالنا چاہتی ہے تاکہ بے گناہ لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں۔ دوسری جانب حماس کے کارکن فلسطینیوں پر اپنے گھر نہ چھوڑنے پر زور دے رہے ہیں۔