اسرائیل کی غزہ پر زمینی حملے کی تیاری، فلسطینیوں کا انخلا جاری

  • اتوار 15 / اکتوبر / 2023

اسرائیل فلسطینیوں کو شمالی علاقوں سے منتقل ہونے کے لیے کچھ مزید وقت دینے کے بعد اب غزہ پر زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

گزشتہ ہفتہ کو حماس کے اچانک حملے میں 1300 سے زائد اسرائیلی مارے گئے تھے جس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں حماس کو ٹارگٹ کرنے کے لیے بمباری کی۔ ان حملوں میں  2 ہزار 200 سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اسرائیل نے فلسطینی سرزمین کے شمال میں رہنے والے غزہ کے تقریباً 11 لاکھ شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ زمینی حملے سے قبل جنوب کی طرف انخلا کر جائیں۔ اسرائیلی فوج نے اشارہ دیا ہے کہ وہ حماس کی قیادت کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے غزہ شہر پر توجہ مرکوز کرے گی۔ غزہ کے شہریوں کو روانگی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے تاہم گزشتہ روز ایک ترجمان نے کہا کہ ان کے پاس زمینی حملے سے پہلے نکلنے کا وقت موجود ہے۔

جمعہ کے بعد سے غزہ کے ہزاروں شہری، جو کہ اسرائیل اور مصر دونوں کی جانب سے ناکہ بندی کے باعث وہاں سے باہر نہیں نکل سکتے، تھیلوں اور سوٹ کیس اٹھائے ملبے سے بھری گلیوں سے گزرتے نظر آئے۔ کاروں، ٹرکوں اور گدھا گاڑیوں کا ایک سلسلہ جنوب کی جانب سے رواں نظر آیا، جن پر تمام خاندان سوار تھے اور ان کے سامان، گدے، بستر اور بیگ لدے ہوئے نظر آئے۔

اسرائیل نے گزشتہ روز تازہ فضائی حملوں کے ذریعے شمالی غزہ کو نشانہ بنایا، جنوبی اسرائیل کے شہر سدروٹ کے قریب گنجان آباد علاقے میں فوجیوں کو گولی چلاتے ہوئے دیکھا گیا، جس سے آسمان پر سیاہ دھویں کے بڑے بڑے شعلے اٹھ رہے تھے۔ اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز کہا کہ حماس کے حملوں میں اغوا کیے گئے درجنوں یرغمالیوں میں سے کچھ کی لاشیں غزہ کے اندر آپریشن کے دوران ملی ہیں۔

حماس نے اس سے قبل بتایا تھا کہ اسرائیلی بمباری میں 22 یرغمالی مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس سے قبل سرحدی محاذ پر فوجیوں کا دورہ کیا۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو پر کئی فوجیوں کو کہتے سنا گیا کہ ’کیا تم تیار ہو جو آنے والا ہے؟ مزید کچھ آنے والا ہے‘۔

امریکی سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کرنے کی جانب بڑھنے کے خدشے سے بچنے کے لیے امریکا نے دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیا ہے جو اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کو روکے گا۔

ناکہ بندی اور محصور غزہ میں اس وقت فلسطینی شہریوں کے لیے مسلسل خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ امدادی ایجنسیوں نے کہا ہے کہ تنازع کے دوران غزہ کے باشندوں کی نقل مکانی ناممکن ہے۔ اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے خوراک، پانی، ایندھن اور طبی سامان کی کمی کے علاوہ امدادی ایجنسیاں انسانی بحران شدید ہونے کا انتباہ دے رہی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ روز کہا کہ جنوبی غزہ کی پٹی میں ہسپتالوں کے ہزاروں مریضوں کو انخلا پر مجبور کرنا سزائے موت دینے کے مترادف ہے۔ حماس کے سربراہ اسمٰعیل ہنیہ نے گزشتہ روز اسرائیل پر غزہ میں ’جنگی جرائم‘ کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کیا لیکن انہوں نے غزہ کے لوگوں کے انخلا کو مسترد کیا۔

اسرائیل کی جانب سے حماس پر عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کے مطابق چینی ایلچی ژائی جون سیز فائر پر زور دینے اور امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اگلے ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے۔ سعودی عرب نے بھی فوری سیز فائر پر زور دیا ہے۔ روس نے کہا کہ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے سیز فائر کے لیے اپنی قرارداد پر کل پیر کو ووٹنگ کرنے کو کہا ہے۔

ایران نے سوشل میڈیا پوسٹ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کی ’جنگی جرائم اور نسل کشی‘ نہ رکی تو صورت حال قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مشن کی جانب سے ’ایکس‘ پر یہ پوسٹ ’ایکسیوس‘ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس کے مطابق ایران نے اسرائیل کو اقوام متحدہ کے ذریعے بھیجے گئے ایک پیغام میں خبردار کیا کہ اگر اسرائیل، حماس کے زیر کنٹرول غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی کرتا ہے تو ایران کو جواب دینا پڑے گا۔

ایران کے اقوام متحدہ کے مشن نے پوسٹ کیا کہ اگر اسرائیلی نسل پرستی کے جنگی جرائم اور نسل کشی کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جس کی ذمہ داری اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور اُن ریاستوں پر عائد ہوتی ہے جو سلامتی کونسل کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مشن نے ’ایکسیوس‘ کی اِس رپورٹ یا ایران کی سوشل میڈیا پوسٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک ٹیلی فونک کال میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے کہا کہ امریکا خطے میں اقوام متحدہ، مصر، اردن اور دیگر کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ معصوم شہریوں کو پانی، خوراک اور علاج تک رسائی حاصل ہو۔ جوبائیڈن نے فلسطینی رہنما محمود عباس سے بھی بات کی اور وائٹ ہاؤس کے مطابق خاص طور پر غزہ میں فلسطینیوں کو انسانی امداد پہنچانے کی کوششوں میں فلسطینی اتھارٹی کی ’مکمل حمایت‘ کا وعدہ کیا۔