جرمِ ضعیفی!

پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس کی اساس دین اسلام ہے اور اس حوالے سے اسے اسلام کے قلعے کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی یہ پہلی اسلامی نظریاتی ریاست ہے جس کے مقابل پر یہود و نصاری نے سرزمین انبیا یعنی ارضِ فلسطین پر اسرائیلی ریاست کا فتنہ کھڑا کیا جس نے پوری دنیا کو ہیجان میں مبتلا کر رکھا ہے۔

دنیا ہٹلر کو مطلق العنان حکمران کے طور پر جانتی ہے جس سے یہودی قوم شدید نفرت کرتی ہے کیونکہ اس نے یہودیوں کا قتل عام کیا۔حیرت ہے کہ جن ممالک میں یہود کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے ہلاکت خیز اقدامات کئے گئے تھے آج وہی یورپ ان صہیونی عناصر کی، ان مسلمانوں کے خلاف دامے درمے سخنے مدد کر رہا ہے جنہوں نے یورپ سے نکالے گئے یہودیوں  کو اپنے ہاں سر چھپانے کی جگہ دی۔ رفتہ رفتہ یہ آگ لینے آئی قوم پوری گھر والی بن بیٹھی اور آج غزہ کی پٹی میں محصور اپنے محسنوں کو اس جگہ سے بھی بے دخل کرنے کے لئے کمر بستہ ہے جس کے وہ مالک ہیں مگر افتاد زمانہ نے انہیں اپنے ہی گھر میں غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

 ہولو کاسٹ کا بدلہ تو صہیونیوں کو اہلِ نصاری سے لینا چاہیے تھا مگر نشان سب و شتم بنا رہے ہیں بے چارے فلسطینیوں کو جو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی جانب سے عدم التفات و بے گانگی و بے حسی کا شکار ہیں۔ عرصہ دراز سے مظلوم فلسطینیوں کو نام نہاد امت مسلمہ کی طرف سے پیامِ یکجہتی کے دامِ فریب سے بہلایا جاتا رہا جبکہ اسلام دشمن قوتیں اپنی چالبازیوں سے ان مسلمان ملکوں کے لیڈروں کو ایک ایک کر کے راستے سے ہٹاتی رہیں جو اتحاد امت کے داعی تھے اور اس کے لئے وہ انہی کے دست و بازو بنے منافقین کو ورغلا کر استعمال کرتی رہیں۔ نوبت بایں جا رسید کہ آج دنیا کی مجموعی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ہونے کے باوجود دو ارب مسلمان اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی مدد کرنا تو در کنار ان کی دلجوئی کے لئے ہمدردی کے دو بول بولنے کے لئے بھی کسی اشارے کے منتظر پائے جاتے ہیں۔

 جوہری طاقت کے حامل اسلام کے قلعے کی حالت مغلوں کے ادوار کی یادگار کے طور پر محفوظ قلعوں سے مختلف نہیں جنہیں تاریخی اہمیت کے حامل ہونے کی بنا پر باعثِ تزئین و آرائش خیال کیا جاتا ہے۔ ادھر چالیس اسلامی ممالک کی مشترکہ تشکیل کردہ فوج اور اس کے سربراہ کا کردار معمہ بنا ہوا ہے۔وہ جو کبھی اسلام کے قلعے کی محافظ فوج کے سپہ سالار کی حیثیت سے خبروں پہ چھائے رہتے تھے آج مفقود الخبر ہیں۔ کوئی انہیں ڈھونڈ کے لائے ناں۔جب تک کوئی خیر خبر ملتی ہے آپ یہ نظم حرزِ جاں بنائیں:

. چوبِ اذیت!

ہمیں ساربانوں نے

اونٹوں کی کل سیدھی کرنے پہ رکھا

نکیلیں کھلی چھوڑ دیں

بگولے جو صر صر کی مستی میں جھکڑ بنے

تو پھر ریت کے اونچے ٹیلے بھی ریگِ رواں ہو گئے

شامِ صحرا بھی چشمہ سیماب سے

آبِ شب تاب کی

مشکیں بھر بھر کے اونٹوں پہ لادے گئی

ساربانوں نے

دردوں کے بندھن جو ڈھیلے کئے

تو پھر دارِ فرقت میں مہجور بستی کے خیمے اکھڑنے لگے

برہا نصیبوں نے

 اکھڑی طنابوں کو چوبِ اذیت سے باندھا

تو مہتاب کی بھی رگِ جاں میں چھبتی ہوئی سوئیاں

ستاروں سے اشکوں کی جھالر بنانے لگیں

فضائے تحیر میں

 وہم و گماں آبدیدہ ہوئے

تو پھر ساربانوں کے اونٹوں کی کل اور بیکل ہوئی

سبک رو سرابوں کے اسپِ جنوں خیز یکدم بدکنے لگے

جیسے بستی میں آسیب آنے پہ

گھوڑے لگامیں تڑاتے ہوئے بھاگتے ہیں

یا وہ لڑکیاں

جنہیں بھیڑیئے

 ہوسناکیوں کے شراروں میں جھونکیں

تو وہ ریگ زارِ  ہزیمت میں بیکل ہوئی دوڑتی ہیں

یہاں تک کہ خود موت ان کو لپک لے

ہمیں ساربانوں نے

اونٹوں کی کل سیدھی کرنے پہ رکھا

نکیلیں کھلی چھوڑ دیں

اور ہم خوف کی تان پہ گیت گاتے ہوئے

خاکی جسموں  سے سایوں میں تبدیل ہونے