غزہ میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں: حکام

  • سوموار 16 / اکتوبر / 2023

حماس کے زیرِانتظام غزہ کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ غزہ میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے ایک غیر معمولی حملے کے جواب میں 23 لاکھ آبادی پر مشتمل غزہ تک خوراک اور ایندھن پہنچنے سے روکنے کے لیے علاقے کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران اب تک 1300 اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیل نے اپنی تاریخ کے مہلک ترین راکٹ حملے کا سامنا کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر مسلسل بمباری شروع کردی اور تقریباً 2 ہزار 750 افراد مار ڈالے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ وزارت صحت کے مطابق حملوں میں 9 ہزار 700 فلسطینی زخمی ہوئے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے غزہ میں جنگ بندی کی خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جارہا تھا کہ حماس کے ساتھ تصادم کے 10 روز بعد امداد پہنچانے اور غیر ملکیوں کو مصر جانے میں مدد ملے گی۔ نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکیوں کو نکالنے کے لیے غزہ میں فی الحال کوئی جنگ بندی نہیں کی جارہی اور نہ ہی انسانی امداد کی اجازت دی جارہی ہے۔

تاہم اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندر ایسے راستوں پر حملہ کرنے سے گریز کرنے کا وعدہ کیا ہے جو غزہ کے شمال سے جنوب تک محدود وقت کے دوران صبح 8 بجے سے دوپہر تک لوگوں کے انخلا کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ قبل ازیں میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل، مصر اور امریکا نے اتفاق کیا ہے کہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کو آج کھول دیا جائے گا تاکہ غیر ملکی شہریوں کو نکلنے اور امدادی سامان پہنچانے کی اجازت دی جائے۔

غزہ میں 10 لاکھ سے زائد لوگ افراتفری اور مایوسی کی صورتحال میں اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔ اسرائیل نے حماس کے زیر اقتدار اِس علاقے پر بمباری کی اور ایک مکمل زمینی حملے کی تیاری کے لیے آج بھی فوجیوں کو جمع کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ غزہ کی پٹی کے جنوب میں منتقل ہونے کے اسرائیلی حکم کے بعد لوگ اپنے گھروں سے بھاگ کر سڑکوں پر اور اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکولوں میں پناہ لے رہے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے ’سی بی ایس نیوز‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حملہ کرنے اور ’شدت پسندوں‘ کو نکال باہر کرنا ضرروی ہے۔ لیکن اسرائیل کی جانب سے غزہ پر قبضہ کرنے کا کوئی بھی اقدام ’بڑی غلطی‘ ہو گی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حماس کا خاتمہ ضروری ہے لیکن فلسطینی ریاست کے قیام کا راستہ موجود ہونا چاہیے۔

اسرائیل نے غزہ کے باہر فوجوں کو جمع کرلیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یہ زمینی، فضائی اور سمندری حملہ ہوگا اور ایک ’اہم زمینی آپریشن‘ بھی کیا جائے گا۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کے ترجمان جوناتھن کونریکس نے کہا کہ ہم غزہ شہر میں شدید اور مؤثر فوجی کارروائیوں کے آغاز پر ہیں۔ شہریوں کے لیے وہاں رہنا غیر محفوظ ہوگا۔

ایران اور لبنان کی حزب اللہ تحریک نے خبردار کیا ہے کہ غزہ پر حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا کہ اگر اسرائیل، غزہ میں اپنے فوجی بھیجتا ہے تو صورت حال پر قابو پانے اور تنازع نہ بڑھنے کی ضمانت کوئی بھی نہیں دے سکتا۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن خطے کی غیر مستحکم صورتحال کے پیشِ نظر بحران کو ٹالنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ہنگامی دورے کے بعد آج اسرائیل میں مذاکرات کرنے والے ہیں۔ اسرائیل، حماس کے اِس حملے کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ عرب لیگ اور افریقی یونین نے خبردار کیا ہے کہ غزہ پر حملہ ’نسل کشی‘ کا باعث بن سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ پورا خطہ تباہی کے دہانے پر ہے۔ اقوام متحدہ نے آج کہا کہ اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں 47 خاندانوں کے لگ بھگ 500 افراد مارے جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ اور ریڈ کراس سمیت غیر ملکی حکومتوں اور امدادی ایجنسیوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو انخلا کا حکم دینے پر بارہا تنقید کی ہے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کی حمایت کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی نے گزشتہ روز کہا کہ تنازع کے پہلے ہفتے میں تقریباً 10 لاکھ فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور یہ تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔ غزہ میں ہسپتال مرنے والوں اور زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں، حکام نے گزشتہ روز بتایا کہ تقریباً 9 ہزار 600 افراد زخمی ہوئے ہیں۔