ہمارا انجام کیا ہوگا؟
- تحریر مختار چوہدری
- سوموار 16 / اکتوبر / 2023
یوں تو پاکستان شروع ہی سے مشکلات میں رہا لیکن جس قدر اب مشکلات کا سامنا ہے یہ پہلے کبھی نہ تھا۔ اس بد قسمت ملک کے عوام کو کبھی فیصلوں میں شامل کیا گیا نہ ان کو درست معلومات تک رسائی دی گئی۔ گو کہ ایک آمرانہ دہائی کے دوران ملک میں کچھ صنعتی ترقی ہوئی تھی لیکن اسی دہائی میں پاکستان کے دو لخت ہونے کی بنیاد بھی رکھ دی گئی تھی۔
ملک ٹوٹ جانے کے بعد بچے کھچے پاکستان کو ایک عوامی راہنما نے یکجا اور پھر سے مضبوط کرنے کی کوشش کی، ملک کو متفقہ آئین دیا اور دفاعی طور پر مضبوط کیا لیکن سامراجی قوتوں نے اس راہنما کو راستے سے ہٹا کر پاکستان کو تباہی کے راستے پر ڈال دیا۔ پھر یہ ملک کبھی مکمل طور پر جمہوریت کی طرف لوٹا نہ معیشت ٹھیک ہو سکی، فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنی کیاری سے نئے نئے سیاسی پھول اگاتے اور انہیں زیادہ کھلنے پر مسلتے رہے۔ کسی نے مستقل بنیادوں پر معیشت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی نہ کسی مستقل نظام کو چلنے دیا۔ اول تو کسی اسمبلی ہی نے اپنی مدت پوری نہیں کی اور اگر کی تو قائد ایوان کو کبھی اپنا عرصہ پورا کرنے کا موقع دیا گیا نہ اسے اپنی سوچ کے مطابق پالیسیوں پر عمل کرنے دیا گیا۔ کسی بھی حکومت یا وزیراعظم نے پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو آگے نہیں بڑھنے دیا اور اپنی نئی وقتی پالیسیوں کا اعلان کیا جاتا رہا جس سے کسی بھی پالیسی کا تسلسل قائم نہ رہا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی اٹھ گیا۔
معیشت بھی اس طرح چلتی رہی کہ جب جب ہم امریکہ کی کوئی ڈیوٹی لیتے تو ڈالر آنا شروع ہو جاتے اور اس دوران اپنے عربی بھائی بھی کچھ مہربان ہو کر خیرات میں ہمارا حصہ بڑھا دیتے اور تیل شیل بھی ادھار دینا شروع کر دیتے۔ ہم نے بھی پھر ادھار کی معیشت پر ایسا انحصار کر لیا کہ ملکی پیداوار بڑھانے کی ضرورت محسوس کی، نہ معصولات کا کوئی ایسا نظام وضع کیا جس سے قومی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا۔ اپنے ملک کی اعلی تعلیم یافتہ، نیم خواندہ اور خواندہ افرادی قوت کو بھی دوسرے ممالک بھیج کر ان کی ترقی میں کردار ادا کیا اور خود گداگری کو فروغ دیتے رہے۔
ملک کا نظام بھی آدھا تیتر آدھا بٹیر کی مانند کبھی پارلیمانی جمہوریت، کبھی صدارتی اختیارات اور کبھی مارشل لا، البتہ تمام بڑے فیصلوں کا اختیار تو پاک فوج کے جنرلوں کے پاس ہی رہا ہے۔ لیکن بیچ بیچ جمہوریت کے نام پر کچھ سیاستدانوں کے بھی ڈنگ لگوائے جاتے رہے ہیں. اور یہ سیاستدان اپنی تجوریاں بھرنے کے بعد جیل یا بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ عوام ہر دو چار سال بعد کسی نئے مسیحا کے منتظر ہوتے ہیں اور نئی امید لگا کر آوے ہی آوے یا جاوے ہی جاوے کے نعرے لگاتے رہتے ہیں. ہماری اشرافیہ (جو سامراجی قوتوں کے پے رول پر ہوتے ہیں) نے عوام کو بے روزگاری اور جہالت میں مبتلا کر کے ان کو ذہنی طور پر اتنا مفلوج کر رکھا ہے کہ عوام سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہیں یا پھر جانتے ہیں کہ ہم جو مرضی کر لیں فیصلے تو اوپر ہی سے صادر ہونے ہیں۔
پھر عوام بھی اپنے حقیقی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کی تلاش کرنے کی بجائے وقتی اور معمولی مفاد کے زیر اثر اپنی سوچ بدلتے رہتے ہیں۔ عوام کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے میں ہمارے مذہبی راہنماؤں نے سب سے زیادہ کردار ادا کیا ہے۔ اس ملک کی مقتدرہ آئین کی پرواہ کرتی ہے نہ خود کو کسی قانون کے طابع سمجھتی ہے۔ بلکہ قانون اور آئین کو اپنے طابع رکھتی ہے۔ انہی کے اشاروں پر کوئی سیاستدان چور بنتا ہے تو وہی جس کو چاہیں صادق و امین قرار دلوا لیتے ہیں۔
لیکن اب عوام کی بھاری اکثریت کسی حد تک سمجھنے لگی ہے کہ ہمارا اصل مسلہ کیا ہے۔ مگر مقتدرہ آج بھی طاقت کے زور پر عوام کو خاموش کرنے پر بضد ہے۔ جس سے عوام کے ذہنوں میں ایسا لاوا جمع ہو رہا ہے، جس کے پھٹنے سے ملک خدا نخواستہ صومالیہ یا شام کی طرح افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے۔ اب جو مستقبل کے تانے بانے بننے کی کوشش جاری ہے لیکن ہر طرف دھند چھائی ہوئی ہے۔ کسی کو پتا نہیں کہ ہمارا مستقبل کیا ہے اور ہماری معیشت کا کیا ہوگا؟ انتخابات ہوں گے بھی یا نہیں؟ اگر ہوئے تو کون سی جماعت اکثریت لے گی؟ نواز شریف کی نااہلی اور مقدمات کا کیا ہوگا؟ اگر اب بھی مقتدرہ نے اپنی روش نہ بدلنے اور بار بار وہی تجربات دہرانے جاری رکھے تو پھر جان لیجیے کہ اب وقت بہت تیزی کے ساتھ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔
اب امریکہ بھی ہمیں سمجھا رہا ہے کہ اب مجھے آپ سے زیادہ کام نہیں لینا ہے جبکہ چین اور عرب برادر بھی گا رہے ہیں کہ "مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ"۔ تو پھر ایک ہی راستہ باقی بچا ہے اور وہ ہے ملک میں افہام و تفہیم پیدا کر کے سیاسی استحکام کی طرف بڑھنے کا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کی بنیاد پر مواقع دے کر ان کے درمیان مکالمہ کو شروع کروایا جائے۔ اور اس کے بعد شفاف انتخابات کے ذریعے اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کیا جائے۔ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت مل بیٹھ کر ایک نیا میث اق جمہوریت اور میثاق معیشت کریں اور ہر حال میں اس پر عمل کیا جائے۔
جو لوگ نواز شریف سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں وہ یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ اگر تمام سیاسی جماعتوں میں مکالمے کے بعد ایک قابل عمل میثاق جمہوریت نہ ہوا تو اس مرتبہ نہ صرف نواز شریف خود پہلے سے کہیں زیادہ ذلیل ہوگا بلکہ ساتھ ملک بھی مزید اندھیروں میں چلا جائے گا۔ اس لیے سب کو اپنی انا قربان کر کے ملکی مفاد میں بڑے دل کے ساتھ فیصلے لینے ہوں گے۔ ورنہ ہمارا انجام بھیانک ہوگا۔