برسلز دہشت گردی میں ملوث شخص پولیس کے ہاتھوں مارا گیا
یورپین دارالحکومت برسلز میں پولیس کی جانب سے دہشت گردی کے ملزم کو آج صبح ہلاک کر دیا گیا۔ اس شخص نے گزشتہ روز سویڈن اور بلجیم کے درمیان فٹ بال میچ سے پہلے فائرنگ کرکے دو سویڈش باشندوں کو ہلاک کردیا تھا۔ ایک تیسرا شخص شدید زخمی ہے۔
45 سالہ ملزم عبدالسلام الاسود گزشتہ شب دہشت گردی کرنے کے بعد فرار ہو گیا تھا جسے پولیس ساری رات تلاش کرتی رہی۔ پولیس ذرائع کے مطابق آج صبح پولیس کو ایک کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ مذکورہ دہشت گرد سکاربیک کے علاقے میں ایک کیفے پر موجود ہے۔ پولیس کے موقع پر پہنچنے پر فائرنگ کا تبادلہ ہؤا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
پولیس کے مطابق ملزم تیونسی نژاد تھا، جس نے اس دہشت گردی سے قبل اپنی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس کے باعث اس کی شناخت چھپی نہیں رہی تھی۔ گزشتہ شب عبدالسلام الاسود نے فائرنگ کر کے سویڈن سے تعلق رکھنے والے 2 شہریوں کو ہلاک اور ایک کو زخمی کیا تھا۔ ملزم نے ویڈیو میں اپنے آپ کو داعش کا کا رکن قرار دیا تھا۔
ملزم نے اس واقعے کو اسرائیلی جارحیت یا فلسطین کی حمایت میں قرار نہیں دیا تھا۔ قیاس کیا جارہا ہے کہ اس دہشت گردی کا تعلق سویڈن میں تواتر سے ہونے والی قران سوزی کے واقعات سے ہوسکتا ہے۔ بلجیم کی حکومت نے اس دہشت گردی پر شدید رد عمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ یورپی ملکوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش ہے لیکن ایسے عناصر کامیاب نہیں ہوں گے۔
گزشتہ روز فٹ بال میچ کے تماشائیوں پر فائرنگ کے ہولناک واقعہ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والا میچ روک دیا گیا تھا۔ پولیس نے سویڈش تماشائیوں کو اسٹیڈیم میں رکنے کی ہدایت کی اور بعد میں سخت حفاظتی انتظامات میں انہیں منتقل کیا گیا۔ برسلز پولیس نے سویڈش شہریوں اور مفادات کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔