سر سید ؒ: مسلمانوں کا لوتھر

مسلمانانِ جنوبی ایشیا کے عظیم مصلح سر سید احمد خاںؒ 17اکتوبر 1817 کو دہلی میں پیدا ہوئے اور27مارچ1898 کو راہی ملک عدم ہوئے ۔ آپ کے والد سید میر تقی ولد سید ہادی ایک درویش صفت انسان تھے شفقتِ پدری کا سایہ جلد ہٹ جانے کی وجہ سے آپ کی تربیت زیادہ تر آپ کی والدہ نے کی جو بڑی دانشمند خاتون تھیں۔

بچپن کے مذہبی ماحول نے سر سیدؒ کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالا بعد ازاں مسلمانوں کے مذہبی مصلح کی حیثیت سے انہیں عظیم مجتہد کی حیثیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے ایک شکست خوردہ اور پسماندہ قوم میں اعتماد اور امید کی روشنی پیدا کرتے ہوئے اسے نیا عزم دیا۔ قوم کے سچے غمخوار کی حیثیت سے سر سیدؒ خود رقمطراز ہیں کہ ’جب رند تھے تو فرہاد سے بڑھ کر تھے جب زاہد خشک تھے تو نہایت ہی اکھڑ تھے جب صوفی تھے تو رومی سے بڑھ کر تھے، اب خاکسار ہیں اور اپنی قوم کے غمخوار۔۔۔ قوم کی حالت وہ دیکھی کہ خدا کسی کو نہ دکھائے۔ اسلام کی وہ صورت پائی کہ خدا کرے کافر بھی نہ پائے۔ قوم کیا دنیا کی باتوں میں اور کیا دین کے کاموں میں ایسے تاریک گڑھے میں گری پڑی تھی کہ ادھر ادھر کی چیزیں تو درکنار وہ اس گڑھے کو بھی نہ دیکھ سکتی تھی جس میں پڑی تھی۔ پھر میرا دل آخر دل ہی تھا، پتھر نہ تھا جو نہ پگھلتا اور اپنی قوم کی حالت پر غم نہ کرتا۔ ایک مدت تک اسی غم میں پڑا سوچتا رہا کہ کیا کیجیے۔ جو خیالی تدبیریں کرتا تھا کوئی بن نہ پڑتی نہ معلوم ہوتی تھی۔ جتنی امیدیں کرتا سب ٹوٹ ٹوٹ جاتی تھیں آخر یہ سوچا کہ سوچنے سے کرنا بہتر ہے، کرو جو کچھ کر سکو۔۔۔ اس میں خدا کی طرف سے بدلہ تو نہ جب معلوم تھا نہ اب معلوم ہے۔ مگر قوم کی طرف کا بدلہ اسی وقت سے معلوم تھا جو اب ظاہر ہے، کافر، مرتد، ملحد، زندیق، اسلام کا دشمن مسلمانوں کا پاجی، قوم کا عیب جو، دین و دنیا سے آزاد کہنا اور نام پر دو چار صلواتیں سنا دینا اور ہم پر اس مثل کا صادق آنا کہ ’دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا‘ مگر شکر ہے کہ اُن کی کسی بات نے ہمارا دل نہیں دکھایا اور ہمیشہ ہمارے دل میں یہی رہا کہ اے خدا اُن پر رحم کر کہ وہ نہیں جانتے‘۔

‎ 1857 کی بغاوت کے بعد مسلمان قوم کو اس کی جو بھاری قیمت چکانی پڑی تھی اس پر اس دانائے راز کا دل کڑھتا تھا اور وہ اپنی قوم کو تعلیمی، معاشی اور اخلاقی حوالوں سے اوپر اٹھا کر انہیں ایک پر عزم و توانا قوم بنانا چاہتے تھے لیکن پسماندہ قوم کی زوال پذیر مذہبیت قدم قدم پر اُن کا راستہ روکنے آن کھڑی ہوتی تھی۔ اگرچہ بگڑی ہوئی مذہبیت اُن کا براہِ راست ہدف نہ تھی لیکن قومی سر بلندی کے بڑے مقصد میں پیہم حائل اس سنگلاخ تجاوز کو ہٹانا ناگزیر تھا۔ سو انہوں نے اپنی اصلاح تحریک سے اُسے صاف کرنے کی کاوش کی۔ وہ برٹش مصلحین اور دانشوروں مسٹر سٹیل اور اڈیسن کا حوالہ دیتے ہیں کہ انہیں بھی اپنی اصلاحی تحریک کے دوران ایسی ہی رکاوٹیں پیش آئی تھیں۔ لیکن بالآخر انہوں نے اپنی قوم کو دنیا کی با شعور قوم بنا کر چھوڑا تھا۔ انہوں نے مذہبی اعتقادات اور معاملات کے متعلق سوالات کو نسبتاً زیادہ سہولت سے اٹھایا تھا جبکہ ہماری قوم میں اصلاحی کام بوجوہ زیادہ مشکل ہے۔  ’تہذیب الاخلاق‘ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے سر سیدؒ تحریر فرماتے ہیں ’اسٹیل اور اڈیسن کو اپنے زمانے میں ایک بات کی بہت آسانی تھی کہ اُن کی تحریر اور اُن کے خیالات تہذیب و شائستگی اور حسن و معاشرت تک محدود تھے۔ مذہبی مسائل کی چھیڑ چھاڑ اُن میں کچھ نہیں تھی۔ ہم بھی مذہبی خیالات سے بہت بچنا چاہتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں تمام رسمیں اور عادتیں مذہب سے ایسی مل گئی ہیں کہ بغیر مذہبی بحث کیے ایک قدم بھی تہذیب و شائستگی کی راہ میں نہیں چل سکتے۔ جس بات کو کہو کہ چھوڑو، فوراً جواب ملے گا کہ ’مذہباً ثواب ہے‘ اور جس بات کو کہو کہ سیکھو، اُسی وقت کوئی بولے گا کہ ’مذہباً منع ہے‘۔ پس ہم مجبور ہیں کہ تہذیب و شائستگی اور حسنِ معاشرت سکھانے میں ہم کو مذہبی بحث کرنی پڑتی ہے۔ مذہبی بحث کا ایک عجیب سلسلہ ہے کہ ایک چھوٹی سی بات پر بحث کرنے سے بڑے بڑے مسائل اور اصول مذہب بحث میں آجاتے ہیں۔ اسی لیے لاچار ہم کو کبھی فقہ سے بحث کرنی پڑتی ہے اور کبھی اصولِ حدیث سے، کبھی تفسیر سے اور کبھی اصولِ تفسیر سے۔  پس ہندوستان میں صرف سٹیل اوراڈیسن ہی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مقدس لوتھر کی بھی بڑی حاجت ہے اسٹیل اور ایڈیسن کی خوش قسمتی تھی کہ اُن کے زمانے کے لوگ اُن کی تحریروں کو پڑھتے تھے اور قدر کرتے تھے ہماری یہ بد نصیبی ہے کہ ہماری تحریروں کو مذہب کے بر خلاف کہا جاتا ہے اور ان کا پڑھنا باعثِ عذاب سمجھا جاتا ہے۔۔۔

 سرسیدؒ اخلاقیات کے حوالے سے مذہبی اعتقادات اور دنیوی معاملات کی بحث بڑے دلنشین انداز میں اٹھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’مسٹر ایڈیسن کا قول ہے کہ مذہب کے دو حصے ہو سکتے ہیں، ایک اعتقادات اور دوسرے معاملات۔ اعتقادات سے ان کی مراد صرف وہ مسائل ہیں جو وحی سے معلوم ہوئے ہیں جو عقل یا کارخانہ قدرت پر غور کرنے سے معلوم نہیں ہو سکتے۔ مگر ہم کو ان کے اس بیان سے کسی قدر اختلاف ہے ہم اعتقادات ان مسائل کو کہتے ہیں جن کا تعلق مذہبی ایمانیات سے ہے اور دوسرے حصے کا نام اخلاقیات ہے۔۔۔

پھر وہ لکھتے ہیں کہ گو مذہب، اخلاق اور اعتقاد پر منقسم ہے اور ان دونوں میں خاص خاص خوبیاں ہیں مگر اخلاق کو اعتقاد پر اکثر باتوں میں ترجیح ہے۔(1)اخلاق کی اکثر باتیں صحیح مضبوط ہیں یہاں تک کہ اگر اعتقاد بالکل قائم نہ رہے تب بھی وہ باتیں بدستور قائم رہتی ہیں۔(2)جس شخص میں اخلاق ہے اور اعتقاد نہیں وہ شخص بہ نسبت اس شخص کے جس میں اعتقاد ہے اور اخلاق نہیں، انسانوں کیلئے دنیا میں بہت زیادہ بہتری کر سکتا ہے اور میں اس قدر اور کہتا ہوں کہ انسان کیلئے دین دنیا دونوں میں بہت سی بھلائی کر سکتا ہے۔ (3)اخلاق انسان کی فطرت کو زیادہ کمال بخشتا ہے کیونکہ اس سے دل کو قرار و آسودگی ہوتی ہے دل کے جذبات اعتدال پر رہتے ہیں اور انسانی خوشی کو ترقی ملتی ہے ۔(4)اخلاق میں ایک نہایت فائدہ اعتقاد سے یہ ہے کہ اگر وہ ٹھیک ہوں تو دنیا کی مہذب قومیں اخلاق کے بڑے بڑے اصولوں میں متفق ہوتی ہیں۔ گو کہ عقائد میں وہ کیسی ہی مختلف ہوں۔(5)کفر سے بھی بد تر چیز بد اخلاقی ہے یا اس بات کو کہو کہ ایک نیک چلن نپٹ جاہل وحشی جس کو خدا کی باتوں کی کچھ خبر بھی نہیں پہنچی نجات پا سکتا ہے مگر بدچلن (انسانی معاملات میں بُرا) معتقد آدمی نجات نہیں پا سکتا(6)اعتقاد کی خوبی اسی میں ہے کہ اس کا اثر اخلاق پر ہو۔۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ایسی بات کو اعتقاد کی جڑ قرار نہیں دینا چاہیے جس سے اخلاق کو استحکام اور ترقی نہ ہوتی ہو نیز کوئی اعتقاد صحیح بنیاد پر ہو ہی نہیں سکتا جس سے اخلاق خراب یا (معاملات میں) تنزل ہوتا ہو، اپنے ایمان کو مضبوط کرنے اور ثواب حاصل کرنے کی امنگ میں لوگوں کو تکلیف دنیا لوگوں کے دلوں میں رنج، نفرت، غصہ اور سخت عداوت پیدا کرنا اور جس چیز پر ان کا اعتقاد نہیں وہ زبردستی ان سے قبول کروانا ایسے جذبات میں ہم لوگوں کو دنیا کے فائدے اور خوشی سے محروم کرتے ہیں۔ ان کے جسم کو تکلیف دیتے ہیں ان کے احوال کو خراب کرتے ہیں، ان کے خاندانوں کو برباد کرتے ہیں، ان کی زندگیوں کو تلخ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ آخر کار ان کو مار ڈالتے ہیں۔ میں اس چیز کو اپنے مذہب کی بنیاد نہیں ٹھہرا سکتا۔ اس سے اخلاق بالکل خراب ہو جاتے ہیں۔۔ یہاں مسٹر ایڈیسن کا غالباً مسیحی مذہب کے اس زمانے کی طرف اشارہ ہے جب رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقے میں دشمنی کی آگ بھڑک رہی تھی۔ مردو عورت و بچے مذہبی اعتقادات کی وجہ سے آگ میں جلائے گئے، نہایت بد بخت خونریزیاں جو درحقیقت مسیحیت کی روح کے خلاف تھیں ہو رہی تھیں۔

لوگ خیال کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے مذہب میں بھی ایسا ہی خونخوار (نظریہ) امن اور اخلاقیات کے بر خلاف جہاد کا مسئلہ ہے۔ اگر وہ مسئلہ در حقیقت ایسا ہی ہو جیسا کہ اکثر حقیقت تک نہ پہنچنے والے خود غرض لوگوں نے سمجھا ہے یا اکثر ظالم و مکار مسلمان حکمرانوں نے برتا ہے تو اس کے خلاف اخلاقیات ہونے میں کوئی شبہ نہیں کر سکتا۔ مگر ہمارا اعتقاد یہ نہیں ہے بلکہ مذہب اسلام کی رو سے جہاد کی جو حقیقت ہے وہ اخلاقیات کے بر خلاف نہیں ہے۔ اس میں کسی قسم کا جبر یا کسی کے مذہب کو بہ جبر چھڑانا یا مذہب کیلئے کسی کا خون بہانا مطلق نہیں ہے۔ اس مسئلے کا ذکر ہم نے اپنی متعدد تصنیفات میں کیا ہے اور امید ہے کہ کبھی اس مضمون پر کوئی تحریر اس پرچے میں بھی چھاپیں گے۔۔۔

مسٹر ایڈیسن اپنے اس مضمون کو کسی مصنف کے نہایت عمدہ اور دل پراثر کرنے والے کلام پر ختم کرتے ہیں وہ کلام یہ ہے ’آپس میں نفرت پیدا کرنے کو تو ہمارے لیے مذہب کافی ہے مگر ایک دوسرے میں محبت پیدا کرنے کیلئے یہ کافی نہیں ہے۔ ‎ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ جو برتاؤ مذہبوں کا اس زمانے میں ہے وہ ایسا ہی ہے اور مسلمانوں کا برتاؤ سب سے زیادہ برُا ہے مگر سچے مذہب کا یعنی اسلام کا سچا مسئلہ یہ ہے کہ خدا کو ایک جاننا اور انسان کو اپنا بھائی سمجھنا۔ بس جو کوئی اس مسئلے کے بر خلاف ہے، وہ غلطی پر ہے۔

 ‎ہم دانائے بزرگ سر سید ؒ کے ڈیڑھ صدی قبل کے اس چشم کشا استدلال سے اپنی موجودہ صورتحال کا احتسابی جائزہ بنظرغائر لے سکتے ہیں۔