سموگ اور فضائی آلودگی کا تدارک ضروری

یوں تولاہوراور کراچی سمیت پاکستان کے متعدد بڑے شہروں میں گزشتہ کئی سالوں سے فضائی آلودگی کی صورت حال گھمبیر ہو چکی ہے لیکن موسم سرما میں لاہور سمیت پنجاب کے بیشتر شہروں میں سموگ کے نتیجے میں فضائی آلودگی انتہائی خطرنا ک صورت اختیار کر جاتی ہے۔

اس حوالے سے لاہور میں خاص طور پر موسم سرما کے شروع سے ہی سموگ غیر معمولی حالات پیدا کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ گزشتہ سال نومبر اور دسمبر میں سموگ کے باعث لاہور میں غیر معمولی حالات دیکھنے میں آئے تھے لیکن اس بار اکتوبر کے درمیان میں ہی سموگ کی وجہ سے غیر معمولی اقدامات اٹھانے کی تجاویز دی گئی ہیں۔پچھلے سال پہلے دسمبرمیں ہونے والی سالانہ ایک ہفتے کی چھٹیوں میں ایک ہفتے کی توسیع دی گئی اور اس کے بعد اگلے چند ہفتوں تک لاہور میں تعلیمی ادارے ہفتے میں تین دن جب کہ نجی دفاتر دو روز تک بند رکھے گئے۔رواں سال اکتوبر کے دوسرے ہفتے سے ہی بدھ کے روز تعلیمی اداروں اور مارکیٹوں سمیت پورا لاہور بند کرنے کی تجویز دی گئی لیکن حالیہ بارشوں کے سلسلے کے بعد ہر بدھ کو تعلیمی اداروں کی بندش کے فیصلے پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔اگرچہ بارش کی وجہ سے عارضی طور پر ائیر کوالٹی انڈیکس میں بہتری آئی ہے لیکن کچھ دنوں بعد سموگ اور فضائی آلودگی کی شرح پھر سے ابتر ہونے کے خدشات ہیں۔

 ائیر کوالٹی انڈیکس کے تحت ٖفضا میں موجود باریک ذرات کی پیمائش کی جاتی ہے اور جسے0سے500کے درمیان یعنی کم از کم آلودہ سے لے کر زیادہ سے زیادہ آلودہ تک کے درمیان ترتیب دیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں ائیر کوالٹی انڈیکس پر کام 2006میں اس وقت کیا گیا جب صوبہ پنجاب میں سموگ نے پہلی بار لمبے عرصے کے لیے ڈیرے ڈالے۔پاکستان کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے(ای پی اے) نے پی ایم 2.5 (فضا میں موجود ذرات)کی تعداد 24گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ35مائیکرو گرام فی مکعب میٹر مقرر کی ہے لیکن نومبر دسمبر میں لاہور سمیت پاکستان کے کئی شہروں میں یہ شرح خطرناک حد تک تجاوز کر جاتی ہے۔

پچھلے سال نومبر میں لاہور میں متعدد بار ائیر کوالٹی انڈیکس 300سے 500کے درمیان رہا جو ہر عمر کے شخص کی صحت کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔0سے100تک ائیر کوالٹی انڈیکس مناسب سمجھا جاتا ہے، 101سے200تک قابل برداشت200سے 300 تک قدرے آلودہ، 300سے400تک آلودہ، 401سے 500تک انتہائی آلودہ جب کہ500سے زیادہ شدید آلودہ  قرار دیا جاتا ہے۔ یوں تو ہمارے ہاں فضائی آلودگی کی شرح کئی دہائیوں سے خطرناک چلی آ رہی ہے لیکن گزشتہ چند سالوں سے ملک میں فضائی آلودگی کی نسبتا ایک نئی قسم "سموگ  " خطرناک سے خطرناک شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ لاہور سمیت پنجاب کے بہت سے شہروں میں نومبر کے آغاز سے پڑنے والی دھند نما سموگ کی بنیادی وجوہات میں سرحد کے دونوں اطراف جلائی جانے والی فصلوں کی باقیات، گاڑیوں، صنعتی یونٹس اورتھرمل پاور پلانٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد سے حد سے تجاوز کرتی ہوئی فضائی آلودگی ہے۔

پاکستان میں دھند نما سموگ اور فضائی آلودگی کی صورت حال ابتر ہونے کی ایک بڑی وجہ گزشتہ چند سالوں میں ملک میں کوئلے، گیس اور تیل سے چلنے والے پاور پلانٹس کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہے۔پاکستان اپنی ضرورت کی65فیصد بجلی تھرمل پاور پلانٹس (فرنس آئل، گیس اور کوئلہ) سے پیدا کر رہا ہے۔یوں تو تھرمل انرجی کے تمام ذرائع فضائی آلودگی کا باعث بنتے ہیں لیکن کوئلے سے حاصل کی جانے والی تھرمل انرجی آئل اور گیس کے مقابلے میں بہت زیادہ آلودگی کا باعث بنتی ہے۔پاکستان میں فضائی آلودگی ابتر ہونے کی ایک اہم وجہ گھٹیا معیار کے تیل کا استعمال بھی ہے۔2019کے آخر میں لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان اپنی قومی ضروریات کا 50سے60فیصد تیل درآمد کرتا ہے اور مختلف قسم کے کیمیکلز کی آمیزش والے اس تیل کا معیار بہت خراب ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ ہم اب فوری طور پر یورو فورتیل درآمد کریں گے اور 2020کے آخر میں ہم یوروفائیو معیار پر چلے جائیں گے اور 90فیصد آلودگی محض تیل کا معیار بہتر بنانے سے کم ہو جائے گی۔

سابق وزیراعظم ٹھیک کہتے تھے لیکن بدقسمتی سے وہ اگلے دو سالوں تک یورو فور یا یورو فائیو معیار کا اعلی تیل درآمد کرنے کے اپنے فیصلے پر عمل نہ کر سکے اورجب کہ ان کے بعد آنے والے وزرائے اعظم نے اس حوالے سے بیان دینا شاید اس لیے مناسب نہیں سمجھا کہ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ امداد اور قرضوں پر چلنے والا ملک اعلی معیار کا تیل استعمال کرنا افورڈ نہیں کر سکتا۔ بہت سے لوگ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کو  خزانے پر بوجھ قرار دیتے ہیں لیکن اگر اس منصوبے کو لاہور میں ٹریفک اور آلودگی کی گھمبیر ہوتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں دیکھیں تو شہباز شریف کا یہ منصوبہ وقت کی ضرورت تھا۔لاہوراور کراچی جیسے بڑے شہروں میں آج سے پانچ چھ سال قبل الیکٹراک بسز اور ٹرینیں چلا دی جاتیں تو شاید ان شہروں میں ماحولیاتی آلودگی کی شرح خطرناک حد سے تجاوز نہ کرتی۔

ائیر کوالٹی لائف انڈیکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق فضائی آؒلودگی میں اضافے سے لاہور، شیخوپورہ،قصور اور پشاور جیسے شہروں میں رہنے والے افراد کی اوسط عمر چار سال کم ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اگر آلودگی کی موجودہ سطح اسی طرح برقرار رہی تو پنجاب، اسلام آباد اور خیبر پختون خوا میں رہنے والے افراد کی اوسط عمر میں 3.7سے4.6سال کی کمی واقع ہونے کا خدشہ ہے۔1998سے2021تک پاکستان میں سالانہ اوسط ذرات کی آلودگی میں 50فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کی اوسط عمر 1.5سال کم ہوئی ہے۔ملک کی تقریبا 98فیصد آبادی ایسے علاقوں میں مقیم ہے جہاں سالانہ اوسطا فضائی آلودگی پاکستان کے قومی فضائی معیار اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے طے کردہ گائیڈ لائنز سے زیادہ ہے۔رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اگر پاکستان ڈبلیو ایچ اے کی مقرر کردہ سفارشات پر عمل کرنے میں کامیاب ہو جائے تو ممکنہ طور پر کراچی کے شہریوں کی متوقع عمر میں تین سال کا اضافہ ہو سکتا ہے جب کہ لاہور کے رہنے والوں کی عمر یں 8سال تک بڑھ سکتی ہیں۔

پاکستان میں پہلے ہی غذائیت کی کمی، ناقص خوراک اور صحت عامہ کی بہترین سہولیات کے فقدان کی وجہ سے اوسط انسانی عمر دنیا کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ رہی سہی کسر فضائی آلودگی نے پوری کر دی ہے۔سابق وزیراعظم عمران خان کے مطابق 90 فیصد آلودگی محض تیل کا معیار بہتر بنانے سے کم ہو سکتی ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ غربت کے باعث ہم اعلی معیار کا تیل استعمال نہیں کر سکتے۔