نواز شریف کی واپسی سے ملکی سیاست میں کیا تبدیلی واقع ہوگی؟

ابھی تک سامنے آنے والی اطلاعات کے  مطابق مسلم لیگ  (ن) کے رہبر اعلیٰ نواز شریف 21 اکتوبر کو صحافیوں اور حامیوں کے بڑے گروہ کے ساتھ ایک خصوصی پرواز میں دبئی سے لاہور پہنچیں گے اور مینار پاکستان پر جلسہ عام سے  خطاب کریں گے۔ نواز شریف چند روز پہلے لندن سے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں اور اب  ان کی وطن واپسی کا انتظار کیا جارہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی واپسی کے  لیے پرجوش تیاریوں میں مصروف ہے۔  حلقوں اور علاقوں میں لیڈروں اور کارکنوں  کے ذریعے  زیادہ سے زیادہ تعداد میں لوگوں کو مینار پاکستان جمع کرنے کی  کوشش کی جارہی ہے۔ مسلم لیگی قیادت کا خیال ہے کہ اگر وہ  مینار پاکستان پر   عوام کی بڑی تعداد جمع کرنے میں کامیاب  ہوجائے تو مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر عوام میں اپنی کھوئی ہوئی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ اس طرح اگلے سال کے شروع میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی کی امید کی جاسکتی ہے۔  شہباز شریف کی قیادت میں   پی ڈی ایم کی  16 ماہ پر محیط حکومت نے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اب نوازشریف سمیت مسلم لیگ کے دیگر لیڈر  پریشان ہیں کہ  ملکی سیاست میں دوبارہ مستحکم پوزیشن حاصل کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔

شہباز شریف نے تواتر سے یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی حکومت نے ملکی معیشت بچانے کے لیے اپنی سیاست کو داؤ پر لگایا ہے۔ یہ نعرہ لگاتے ہوئے وہ درحقیقت موجودہ مالی مسائل کی ساری ذمہ داری تحریک انصاف کی حکومت اور عمران خان پر عائد کرنا چاہتے ہیں لیکن دیگر سب پارٹیوں کی طرح وہ بھی  مسئلے کی جڑ بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یعنی گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ملک  کو فوجی قیادت کی مرضی و منشا کے مطابق جنگی معیشت میں تبدیل کیا گیا، زیادہ تر انحصار امریکہ سے حاصل ہونے والی امداد پر  رہا لیکن قومی معیشت کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے کے کسی منصوبے پر کام نہیں ہؤا۔ پاکستان شاید ان چند ایشیائی ممالک میں شامل ہے جہاں گزشتہ پانچ دہائی کے دوران  صنعتوں کے فروغ کے لیے کوئی کام نہیں کیا گیا اور نہ ہی زراعت کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے پر توجہ دی گئی ۔

 اسی طرح قومی  آمدنی میں اضافہ کے لیے ٹیکس و محاصل کے نظام میں اصلاحات نہیں  ہوسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک میں حکومت سے سہولت لینے کی بات تو کی جاتی ہے لیکن ٹیکس ادا کرنے اور قومی خزانہ بھرنے کے لیے معاشرے کا کوئی بھی گروپ اپنا کردار ادا کرنے پر راضی نہیں ہوتا۔ ملک میں نہ صرف آمدنی پر ٹیکس چوری کرنے کا رواج عام ہے بلکہ غیر رجسٹرڈ معیشت ایک اہم  چیلنج بن چکی ہے ۔ ملک کا بڑا تجارتی طبقہ کسی  صورت اپنی آمدنی ظاہر کرنے اور اس پر مناسب ٹیکس ادا کرنے پر راضی نہیں ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ  ٹیکس ہی نہیں بلکہ ملک میں بجلی چوری کرنے کا کلچر بھی راسخ ہوگیا ہے۔  بجلی چوری میں افراد، ادارے اور گروہ سب ہی شامل ہیں اور  حکومت  اس طریقے کا انسداد کرنے میں ناکام ہے۔  ہر تھوڑے عرصے  بعد     کوئی نئی حکومت   بجلی چوری  کی  روک تھام کو قومی معیشت بلکہ سلامتی کے لیے اہم قرار دیتی ہے لیکن چونکہ فیصلہ ساز     افراد اور ادارے خود اس بہتی  گنگا میں ہاتھ  دھو رہے ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی اعلان  اور فیصلے کو عملی جامہ پہنانا ممکن نہیں ہوتا۔

یہ صورت حال نہ تو تحریک انصاف کی ساڑھے تین سال کے دور میں  پیدا ہوئی اور نہ ہی شہباز شریف نے سولہ ماہ حکومت کے دوران اسے  خراب کیا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ  اس خرابی کا آغاز ضیا کے مارشل لائی دور سے ہؤا تھا اوراس کے بعد سے  ملکی معیشت کو خیرات میں ملے ہوئے وسائل، اسمگلنگ اور جائیداد کے ناجائز کاروبار سے حاصل بلیک منی  کی ریل پیل اور رشوت ستانی کے ناقابل قبول کلچر میں تبدیل کرکے ، دوسروں پر خرابی پیدا کرنے کا الزام عائد کرنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔  اس  دوران میں   کسی حکومت نے اصلاح احوال کی کوئی  منصوبہ بندی نہیں کی بلکہ  کسی بھی طرح وقت ٹالنے کی حکمت عملی اختیار کی جاتی رہی ہے۔ 

اس دوران میں  فوج نے دو طرح سے سیاست میں مداخلت کی۔ ضیا اور پرویز مشرف کے ادوار میں سیاسی سرگرمیوں کو معطل کرکے پاکستان کو افغانستان کی جنگ میں ملوث کیا گیا اور معیشت کو امریکہ اور عالمی اداروں کا محتاج بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ملک میں مرضی کے  سیاست دانوں کو  موقع دلوانے کے لیے  سیاسی جوڑ توڑ اور  انتخابی دھاندلی کا سلسلہ شروع ہؤا۔ یہ کام  نواز شریف کو سیاست میں متعارف کروانے کے وقت سے  ہائبرد نظام کے نام پر عمران خان کو وزیر اعظم بنوانے کے وقوعہ تک جاری رہا۔    عسکری اداروں کی اسی سیاسی حکمت عملی کی وجہ سے ملک میں جمہوری سیاسی پارٹیوں کا کلچر فروغ نہیں پاسکا۔ اب اس بات کو اہمیت حاصل نہیں ہے کہ کون سی پارٹی  بہتر  سیاسی و معاشی پروگرام عوام کے سامنے پیش کرکے ان کا اعتماد حاصل کرتی ہے بلکہ  یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ   سیاسی  پارٹیاں عسکری قیادت کی خوشنودی حاصل کرلیں تاکہ انہیں انتخابات میں کامیابی سے لے کر حکومت سازی تک ضروری ’امداد‘ میسر آئے اور ملکی نظام ایک خاص ڈھب سے آگے بڑھتا رہے۔

سیاسی لیڈر اس صورت حال سے آگاہ ہیں اور   اس کے منفی اثرات کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں لیکن اقتدار کی ہوس اور سیاسی مخالفین کو دبانے کے لالچ میں  کسی بھی قیمت پر عسکری اداروں سے ساز باز یا زیادہ مہذب الفاظ میں ’تعاون‘ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح ملک میں نہ تو جمہوری کلچر فروغ پارہا ہے اور نہ ہی  سیاسی قوتوں  کے درمیان مکالمہ اور مسائل سے نکلنے کے لیے تعاون کی کوئی صورت پیدا ہوتی ہے۔ جو پارٹی ’محبوب‘ قرار پاتی ہے، وہ سیاسی کامیابی کے لیے پرجوش ہوکر اسے اپنی مقبولیت پر محمول کرتی ہے اور  کسی سہارے کے ذریعے اقتدار  تک پہنچنے کو عوام کی مرضی یا ’ووٹ کو عزت دو‘ قرار دیتی ہے۔  اور جس پارٹی کو یہ  ’آسرا ‘ میسر نہیں آتا، وہ اسٹبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کا راگ الاپ کر ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے حالانکہ وہ بھی درپردہ سیاسی عمل کی بجائے کسی مناسب ’مفاہمت‘ کی تلاش میں ہی ہوتی ہیں۔

نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے یہ صورت حال مضحکہ خیز حد تک عیاں ہورہی ہے۔ پیپلز پارٹی اب دو ٹوک الفاظ میں الزام لگا رہی ہے کہ نواز شریف اسٹبلشمنٹ سے ساز باز کرکے واپس آرہے ہیں۔ جمعہ کو   قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور پیپلز پارٹی کے لیڈر   راجہ  پرویز اشرف نے  کہا تھا کہ ’نواز شریف کی واپسی میں کوئی پس پردہ افہام و تفہیم موجود ہے‘۔ اس کے بعد پنجاب پیپلز پارٹی کے لیڈروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’نواز شریف طاقت ور حلقوں کے ساتھ کسی ڈیل کے نتیجے میں واپس آرہے ہیں حالانکہ قانون کا بھگوڑا ہونے کے ناتے انہیں واپسی پر مینار پاکستان نہیں بلکہ جیل جانا چاہئے‘۔   واضح رہے یہ یہ وہی پارٹی ہے جو شہباز شریف کی قیادت میں 16 ماہ تک اقتدار کے مزے لوٹتی رہی اور اس کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری وزیر خارجہ کے عہدے پر متمکن رہے۔  پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف زرداری خود مفاہمتی سیاست کے بادشاہ کہلاتے ہیں اور اسٹبلشمنٹ کے  قریب آنے کے لیے ماضی قریب میں متعدد مواقع پر سیاسی و جمہوری اصولوں کی قربانی دے چکے ہیں۔

دوسری طرف تحریک انصاف مسلسل سانحہ  9 مئی  کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ معروضی صورت حال یہی ہے کہ ہر اس لیڈر کو آزادی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی  ’اجازت ‘ مل جاتی ہے جو سانحہ 9 مئی کی مذمت کرکے تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرلے اور کسی دوسری پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے پر راضی ہو یا سیاست سے کنارہ کش ہوکر  گھر  بیٹھنے کا وعدہ کرے۔  ان حالات میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ  نواز شریف ملک واپس آکر آخر کون سی سیاسی تبدیلی کا سبب  بن سکتے ہیں جو ان کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ نواز شریف کی پبلک اپیل کی وجہ سے  مسلم لیگ  کو ایک بار پھر عوام میں جانے کا موقع مل  سکتا ہے اور وہ  شہباز حکومت کے دوران پہنچنے والے نقصان کی تلافی کی کوشش کرسکتی ہے۔ لیکن اس واپسی سے  ملکی سیاسی روایت میں کسی تبدیلی کا کائی امکان نہیں ہے۔  اگرچہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ  ماضی  کا سیاسی پیٹرن  ملکی حالات میں بہتری کا باعث نہیں ہوگا۔ پاکستان  کو جن مشکلات و مسائل کا سامنا ہے، اس میں تصادم کے خاتمے اور سیاسی پارٹیوں کے درمیان تعاون  بے حد اہم ہے۔ اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہوگا کہ یہ تعاون عسکری اداروں کی مرضی  و مدد سے  حاصل نہ ہو بلکہ سیاسی پارٹیاں ملک میں جمہوری آئینی انتظام کو راسخ کرنے کے ایک نکاتی ایجنڈے کے ساتھ مل بیٹھیں۔

نواز شریف ملک کے تجربہ کار اور زیرک سیاست دان ہیں۔ انہوں نے ملکی سیاست کے نشیب و فراز کا  قریب  سے مشاہدہ کیا ہے ۔  اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعاون  کا ثمر سمیٹا ہے تو اسے چیلنج کرکے خودمختارانہ فیصلے کرنے کی قیمت قیدوبند  کی صعوبت یا جلاوطنی کی صورت میں ادا کی ہے۔ اب بھی وہ  تقریباً  چار سال کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد  وطن واپس آرہے ہیں۔ وہ اگر چاہیں تو ملک میں سیاسی مکالمہ کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد فراہم کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے انہیں عمران خان اور تحریک انصاف کے  ’گناہوں‘ کو نظر انداز کرکے ملک کے روشن  مستقبل اور آئینی انتظام کی سربلندی کو پیش نظر رکھنا پڑے گا۔ کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان  خود مفاہمت پر راضی نہیں ہوں گے لیکن یہ ایک کمزور دلیل ہوگی۔ عمران خان اس وقت اسٹبلشمنٹ کے  نشانے پر ہیں۔ نواز شریف  ان راستوں سے گزر چکے ہیں ، اس لیے وہ عمران خان کی مشکل اور پریشانی کو سمجھ سکتے ہیں۔ البتہ   سیاسی مفاہمت   کے لیے نواز شریف کو حقیقی لیڈر بن کر دکھانا ہوگا اور فوری سیاسی کامیابی یا اقتدار  کے حصول کو پس پشت ڈالنا پڑے گا۔   یہی ان کی بردباری اور سیاسی فہم کا امتحان بھی ہوگا۔