غزہ ہسپتال حملے میں 500 سے زائد جاں بحق، اسرائیل کا ذمہ داری قبول کرنے سے انکار

  • بدھ 18 / اکتوبر / 2023

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ وہ غزہ کے ہسپتال پر حملے میں سیکڑوں افراد کی اموات کے بعد دہشت زدہ ہیں۔ گزشتہ روز غزہ میں ایک ہسپتال پر بم حملہ سے پانچ سو سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اسرائیل اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کررہا ہے۔

یہ حملہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی بمباری میں اب تک پیش آنے والا سب سے خونریز واقعہ ہے جس میں 500 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے۔ فلسطین کی وزیر صحت مائی الکائلہ نے غزہ شہر کے الاہلی عرب ہسپتال میں ’قتل عام‘ کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس کی تردید کی ہے۔

ترک خبر رساں ادارے ’اے نیوز‘ کے مطابق نیتن یاہو کے ایک معاون حنانیہ نفتالی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں ہسپتال میں ہونے والے حملے کو اسرائیلی فضائیہ سے منسوب کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے مذکورہ سوشل میڈیا پوسٹ فوراً ڈیلیٹ کردی اور ایک اور پوسٹ کرتے ہوئے حملے کا الزام حماس پر عائد کردیا، دیگر صحافیوں نے بھی حنانیہ نفتالی کے اس اقدام کی نشاندہی کی۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ میں آج غزہ کے ایک ہسپتال پر حملے میں سینکڑوں فلسطینی شہریوں کی وفات پر شدید دہشت زدہ ہوں، میں اس حملے کی پُرزور مذمت کرتا ہوں۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا میرا دل متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہے۔ عالمی قانون کے تحت جنگ میں ہسپتال اور طبی امداد فراہم کرنے والوں کو تحفظ حاصل ہے۔

ایک اور پوسٹ میں انہوں نے مشرق وسطی میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر سیز فائر کا مطالبہ کیا تاکہ انسانی مصائب کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے لکھا کہ بہت ساری زندگیاں اور پورے خطے کی قسمت بےیقینی کا شکار ہوچکی ہے۔

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے غزہ میں ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتال کو ٹارگٹ کرنا ایک غیرانسانی عمل ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر انوارالحق کاکڑ نے لکھا کہ غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس میں متعدد شہریوں کی جانیں گئیں، ہسپتال کو نشانہ بنانا غیر انسانی فعل ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن آج اسرائیل کے دورے پر پہنچے ہیں۔  انہوں نے کہا ہے کہ وہ ہسپتال پر حملے پر غمزدہ میں ہیں۔ انہوں نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کو اس حوالے سے معلومات اکٹھی کرنے کی ہدایت کی ہے کہ وہاں ہوا کیا تھا۔ تاہم امریکی صدر اور حکومر اسرائیل کے اس مؤقف کی حمایت کررہی ہے کہ یہ المیہ فلسطینی جہادی تنظیم کے کا راکٹ گرنے کی وجہ سے رونما ہؤا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ ایسی غلطی نہیں کرتی۔

صدر بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ میں غزہ کے ہسپتال پر حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ہولناک جانی نقصان پر غمزدہ اور شدید صدمے میں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا تنازعات کے دوران عام شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کا واضح طور پر حامی ہے۔ ہم اس سانحے میں وفات پانے والے یا زخمی ہونے والے مریضوں، طبی عملے اور دیگر بے گناہوں کے لیے سوگوار ہیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس اور دیگر عرب لیڈروں نے ہسپتال پر جان لیوا حملے کے بعد امریکی صدر سے طے شدہ ملاقات مسوخ کردی ہے۔ فلسطینی صدر نے اس سانحہ پر سہ روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ غزہ کے ہسپتال میں دھماکے کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کو جلد سے جلد ختم کیا جائے گا۔ بیجنگ میں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد پوتن نے پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہسپتال پر حملہ ایک سانحہ ہے۔ سینکڑوں ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ ایک سگنل ہو گا کہ اس تنازع کو جلد سے جلد حل کرنے کی ضرورت ہے اور معاملات کو اس مقام پر لے جانے کی ضرورت ہے جہاں بات چیت ممکن ہو سکے۔