نواز شریف کو درپیش چیلنج؟

ان دنوں ن لیگ کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کا نقارہ زور شور سے بج رہا ہے۔ ان کی پارٹی 21 اکتوبر کے لیے اپنے تئیں تیاریاں مکمل کرتے دکھتی ہے۔ مگر عوام میں ن لیگ کا امیج سگے بھائی نے برباد کرتے ہوئے اتنی خوبی سے پاتال تک پہنچایا ہے کہ اسے اوپر اٹھانے کے لیے نواز شریف کو کوئی کرشمہ د کھانا پڑے گا۔

فی الوقت جس کی کوئی صورت بنتی نہیں دکھتی۔ میاں صاحب کو بھی اتنی احتیاط ضرور کرنی چاہیے کہ بھائی صاحب سمیت دیگر دو تین ہستیوں کو بھی ذرا پیچھے ہی رکھیں۔ نواز شریف کو اپنے وطن لوٹتے دیکھ کر جہاں ان کی چاہت رکھنے والوں کے چہرے کھل اٹھے ہیں، وہیں کچھ حاسدوں کے چہرے مرجھا بھی گئے ہیں۔ وہ جلی کٹی سنا ہی نہیں رہے، جلے دل کے پھپھولے بھی پھوڑ رہے ہیں۔ یہ کہ تین مرتبہ وزیراعظم بن کر انہوں نے ایساکون سا پہاڑ توڑا ہے جسے توڑنے کے لیے وہ چوتھی بار آرہے ہیں۔ کچھ ان کے انگلینڈ میں قیام کو خود ساختہ جلاوطنی کا نام دے رہے ہیں تو کچھ سزا یافتہ ہونے کے طعنے دیتے دکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ بھی جانتے ہیں کہ نواز شریف پر کرپشن اور لوٹ مار کے جتنے بھی گھناؤنے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی ثابت نہیں ہو سکا۔ اور انہیں جس طرح کی جعلی کہانیاں گھڑتے ہوئے نا اہل قرار دیا گیا ان کا بودا پن بھی سب پر واضح ہو چکا ہے۔

وقت سے بڑا شاید کوئی قاضی نہیں۔ بہت سے حقائق وقت کے ساتھ واضح ہو چلے جاتے ہیں۔ اپنی ایک ایکسٹینشن کے بھوکوں نے اپنے ذاتی گھٹیا مفادات کی خاطر سسٹم کی جس طرح بساط لپیٹی، جوڈیشری میں براجمان مسخروں نے اس معزز ادارے کی عزت کو پامال کرتے ہوئے جو مکروہ کھیل کھیلا، اب ان میں سے کون سی چیز ہے جو سر بستہ راز رہ گئی ہے۔ اپنے سیاہ کر توتوں کے ذریعے جس اناڑی کو یہ لوگ لائے، اس نے تھوڑی مدت میں ہی ملک کا وہ کھلواڑ کر دیا۔ جس کے لیے دیگر نا اہلوں کو شاید کئی دہایاں درکار تھیں۔ آج یہ ملک بدنصیب جس بری حالت میں گرا پڑا ہے۔ یہ سب اسی سیاہ دھندے کا کیا دھرا ہے۔

جو لوگ نواز شریف کی آمد کو کسی انقلاب کا نام دے رہے ہیں یا لمبی چوڑی چھوڑتے ہوئے ناروا اُمیدیں باندھ رہے ہیں، یہ ان لوگوں کی سیاسی و مفاداتی مجبوری تو ہو سکتی ہے حقائق اس کی مطابقت میں ہرگز نہیں ہیں۔ نواز شریف کے پاس ایسی کوئی گیدر سنگھی یا الہ دین کا جادوئی چراغ نہیں ہے جسے رگڑنے سے عوامی دکھ دور ہو جائیں گے۔ یا ہمارے ملک کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ یہ امر بھی واضح رہنا چاہیے کہ انتخابی کامیابی کے باوجود نواز شریف کو ایک مضبوط وزیراعظم کی حیثیت سے اس نوع کا فری ہینڈ نہیں دیا جائے گا جو پارلیمانی جمہوریت یا خود بحیثیت قومی قائد نواز شریف کا تقاضا ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے معاملات طے ہونے سے پہلے کچھ پوائنٹس ضرور اٹھائے تھے مگر ان پر واضح کر دیا گیا کہ میاں صاحب بڑی بڑی تمنائیں پالنے سے باز رہیں۔ ڈو ان روم ایز رومنز ڈو۔

اس حوالے سے ان کی پارٹی نے بھی زمینی حقائق کا مثبت ادراک کرتے ہوئے میاں صاحب کو بہتر استدلال سے قائل کیا۔ یوں افہام و تفہیم کے ماحول میں معاملات طے ہو گئے۔ ہمارے جو صحافی صاحبان اس نوع کی طعنے بازی کرتے سنائی دیتے ہیں کہ میاں صاحب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کیا ہوا؟ یہ کہ ڈیل کے ساتھ کیوں آرہے ہیں؟ کیا نواز شریف اپنا وہ ہمزاد لندن میں ہی بٹھا کر آئیں گے جو کہتا تھا کہ میں اب انقلابی جنگو بن چکا ہوں، ڈکٹیشن نہیں لوں گا، آئین کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کی بالادستی منواؤں گا۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ بجا مگر پاکستانی سیاست کی جو معروضی تلخ حقیقت ہے، اسے پیش نظر رکھیں تو وہ شخص مستند سیاستدان کہلانے کا حقدار ہی نہیں ہے جو ان کا ادراک نہ کرے۔ یہ ایک ایسی جدوجہد ہے جس میں دو قدم آگے بڑھتے ہوئے بعض اوقات تین قدم پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے۔ اگرچہ کرکٹ کے میدان سے اس کا کوئی تعلق نہیں لیکن یہاں بھی دیکھ بھال کر چوکا یا چھکا مارنا پڑتا ہے۔ ورنہ کیچ یا ایل بی ڈبلیو ہونے میں کون سی دیر لگتی ہے۔

کریز پر رہیں گے تو رنز بنائیں گے آؤٹ ہونا کون سا مشکل کام ہے۔ نو مئی جیسی ایک حماقت ہی سارا کھیل خراب کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ نواز شریف پر طعن و تشنیع کے جتنے

مرضی تیر چلا لیے جائیں یا تھرڈ کلاس جملے کس لیے جائیں، سچائی تو یہ ہے کہ اس وقت طاقتوروں کے پاس تو بھلے کئی امیر ترین متبادل ہوں گے لیکن اس ملکِ بدنصیب کے پاس قومی قیادت کے لیے نواز شریف سے بہتر کوئی آپشن نہیں ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے پاکستان کے پاس اس وقت دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے اگر کوئی جانا پہچانا قابل التفات مؤثر چہرہ ہے تو وہ نواز شریف ہے۔ پاکستان اس وقت جس پستی میں گرا پڑا ہے، عالمی سطح پر آج کوئی اسے منہ لگانے کو تیار نہیں ہے، اس کی نہ صرف قومی بلکہ عالمی حیثیت و اہمیت بھی آج ٹکا ٹوکری ہو چکی ہے۔ ہماری حالیہ برسوں کی قیادتیں ملک وقوم کو مزید بے وقت بنا چکی ہیں۔ ایسے میں نواز شریف کو ایک پاپولر قومی قیادت کی حیثیت سے پیش کرنا، اس ملک بدنصیب کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

طاقتوروں کی خدمت میں بھی یہ درویش عرض گزار ہے کہ قومی استحکام کی خاطر وہ اپنی ذمہ داریاں ضرور پوری کریں مگر آئینی و جمہوری اسلوب میں ایک مخصوص دائرے میں رہتے ہوئے۔ اصل چیلنج ن لیگ کے لیے ہونا چاہیے کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ عوامی و قومی طبقات کو ساتھ لے کر چلتے ہیں جس میں جبری طاقتوں یا تنظیموں کا یرغمالی بننے کی بجائے تمام علاقائی اکائیوں کو کیسے ساتھ رکھتے، ملاتے یا لے کر چلتے ہیں۔ کسی طاقتور یا سیاسی گروہ کی بلیک میلنگ میں آئے بغیر وہ عوامی اعتماد کو کس طرح دوبارہ حاصل کرنے کے قابل ہو پاتے ہیں۔ تاکہ آنے والے برسوں میں یہاں سیاسی استحکام دوام اور تسلسل قائم و دائم ہو سکے۔

نواز شریف کا محترمہ بے نظیر کی 86  میں وطن واپسی جیسا استقبال، بلا شبہ نواز شریف کے چاہنے والوں کے لیے ایک چیلنج ہے اور دوسرا چیلنج اس افواہ کا توڑ ہے کہ یہاں کوئی کرکٹر یا کھلاڑی بڑا پاپولر ہے۔ وطن واپسی پر اگر نواز شریف کی گرفتاری جیسی حماقت ہوتی ہے تو وہ ان کی عسکریوں کے تعاون سے ابھرتی طاقت کے بھرم کا بھرکس نکال دے گی۔ اس لیے ن لیگ والے اس سے بچنے کے لیے ہر حد تک جائیں اور عوامی مسائل حل کرنے کا ٹھوس ایجنڈا و منشور پیش فرمائیں۔