امریکی صدر کی سفارتی سبکی

غزہ شہر میں ایک ہسپتال الاہلی پر حملے میں پانچ سو  کے  لگ بھگ شہریوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہی امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیلی حکام سے ملنے تل ابیب پہنچے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے اسرائیلی لیڈروں  پر زور دیا ہے کہ  غزہ کے شہریوں کو بنیادی ضروریات  فراہم کرنے کی کی اجازت دی جائے۔    اور  بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر  رنج و غم کا اظہار  بھی کیا ہے لیکن   ساتھ ہی     اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے دشمنوں کو خبردار رہنا چاہئے  اور اس  ملک کے خلاف  جنگ جوئی کا خیال دل سے نکال دینا چاہئے۔

امریکی صدر  نے   واضح انداز میں اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا اور اس کی بہیمانہ جنگ جوئی کو بدستور  ’دفاع  کرنے کے حق‘ کا نام دیا ۔ انہوں نے اسرائیل کو اضافی جنگی امداد فراہم کرنے اور  میزائل شکن فضائی دفاعی سسٹم ’آئرن ڈوم‘ کو مستحکم کرنے کا وعدہ کیا ۔ البتہ  تل  ابیب میں گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ   ’ جمہوریت دہشت گرد گروہوں سے مختلف ہوتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم کون ہیں۔ ہم وہ  لوگ ہیں جو مقصد ،وقار اور انسانیت پر یقین رکھتے ہیں‘۔ صدر بائیڈن  کا کہنا تھا   7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کا حملہ  امریکہ  کے نائن الیون کی طرح تھا۔  اسرائیل چونکہ  ایک چھوٹا ملک ہے، اس لیے اس کی شدت کئی گنا محسوس ہورہی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کے مقابلے میں ’آپے سے باہر ہوکر‘ فیصلے نہیں کیے جاسکتے بلکہ ہوشمندی سے صورت حال کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے نائن الیون کے بعد امریکہ کے جنگی  اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلوں کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

صدر جو بائیڈن کو اس دورہ اسرائیل کے دوران  شدید سفارتی  سبکی  کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ غزہ  کے ہسپتال الاہلی  پر حملہ  سے قبل اس  دورہ کے دوران  ان کی فلسطینی صدر محمود عباس کے علاوہ مصر کے صدر السیسی اور اردن کے شاہ  عبداللہ  سے ملاقات طے تھی۔ لیکن ہسپتال پر حملے کے بعد تمام عرب  لیڈروں نے صدر جوبائیڈن سے طے  شدہ ملاقاتیں منسوخ کردیں۔   امریکی صدر اس دورہ  میں  اسرائیل سے اظہار یک جہتی کے علاوہ  سفارتی سطح پر جو توازن قائم کرنا چاہ رہے تھے ،  ایک سنگین انسانی المیہ کی وجہ سے ان کا یہ مقصد پورا نہیں ہؤا۔   عرب لیڈر حماس کے اس بیان سے متفق ہیں کہ الاہلی ہسپتال پر اسرائیلی بمباری کی وجہ سے  کثیر تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت ان بے گھر خاندانوں کی تھی جنہوں نے جان بچانے کے لیے ہسپتال کے احاطے میں پناہ لی ہوئی  تھی۔ 

ہسپتال  پر اسرائیلی بمباری  کے امکان کو اس  بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے ایک معاون  نے حملے کے فوری بعد  ایکس پر ایک پیغام میں اسے اسرائیلی فضائیہ کی کارروائی قرار دیا ۔تاہم بعد میں اس پیغام کو  ہٹا لیا گیا اور اس دھماکے کا الزام فلسطینیوں کی جہادی تنظیم پر لگا دیا گیا  ۔ اب  اسرائیل کی فوج  کا مؤقف ہے کہ  ہسپتال کے قریب  واقع ایک قبرستان  سے’ اسلامی جہاد‘ نامی گروپ نے اسرائیل پر راکٹ فائر کیے تھے۔ انہی میں سے ایک میزائل غلطی سے ہسپتال پر گرا جس کی وجہ سے  ہلاکتیں ہوئی ہیں۔  البتہ ترک خبر رساں ادارے ’اے نیوز‘ کے مطابق نیتن یاہو کے ایک معاون حنانیہ نفتالی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں ہسپتال میں ہونے والے حملے کو اسرائیلی فضائیہ سے منسوب کیا گیا تھا۔  بعد ازاں انہوں نے  یہ پوسٹ ڈیلیٹ کردی اور ایک  نئی پوسٹ  میں حملے کا الزام حماس پر عائد کردیا۔ اس علاقے میں جنگ کی کوریج کرنے والے  دیگر صحافیوں نے بھی حنانیہ نفتالی کی طرف سے سوشل میڈیا  پر حملے کا کریڈٹ لینے کی تصدیق کی ہے۔ اس پس منظر میں یہ قیاس کرنا مشکل ہے کہ اسرائیل کس حد تک اس بارے میں سچ بول رہا  ہے۔

تاہم  حمایت کے جوش میں امریکی صدر کے علاوہ  اب مغربی میڈیا بھی اسرائیل کے مؤقف کو قرین قیاس قرار دے رہا ہے۔ البتہ ایک سنگین انسانی المیہ کی غیر جانبدار تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے  امریکی صدر کا اسرائیلی دارالحکومت میں کھڑے ہوکر اسرائیل کے مؤقف  کی حمایت سے   اسرائیل کے جنگی جرائم تو نہیں چھپ پائیں گے لیکن امریکہ کا اعتبار   ختم  ہوگیا ہے۔ اس کے بعد امریکی صدر انسانوں کی ہمدردی میں جیسے بھی مگر مچھ کے آنسو بہائیں،  فلسطینی شہری یا عالم اسلام اس پر اعتبار نہیں کرے گا۔ صدر جو بائیڈن نے اسرائیل میں قیام کے دوران یہ بھی کہا کہ حماس  فلسطینیوں کا نمائیندہ  گروہ نہیں بلکہ دہشت گرد ٹولہ ہے۔ اگر وہ اپنی اس بات پر یقین رکھتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ جس فلسطینی اتھارٹی کو امریکہ  فلسطینیوں کا نمائیندہ قرار دیتا ہے، اسے ایک خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام میں مدد  فراہم  نہیں کرتا اور اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں میں ناجائز اور غیر قانونی یہودی  بستیاں آباد کرنے سے نہیں روکا جاتا؟

صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ حماس کے دہشت گرد  فلسطینی شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور شہری آبادیوں میں  اسلحہ و میزائل چھپا کر اسرائیل پر وار کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ   جمہوریت اور انسانیت کا دعویٰ کرنے کے باوجود  تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔  اگر حماس شہریوں کی آڑ میں  اسرائیل پر حملہ کرتا ہے تو اسرائیلی فوج بھی تو امریکی مدد  سے تیار کی گئی بھاری بھر کم  جنگی صلاحیت کو فلسطینی شہریوں کے خلاف استعمال کرکے ہی ’حماس‘ کو سزا دینا چاہتی ہے۔ گویا شہریوں کو نشانہ بنانے میں  حماس اور اسرائیل کی حکمت عملی ایک سی ہے لیکن امریکی صدر کو حماس کا ظلم اور دہشت گردی دکھائی دیتی ہے کیوں کہ یہ ان کی سیاسی مجبوری ہے لیکن وہ  اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ نہ انہیں اس بات سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے کہ اسرائیل نے اپنی غیر متوازن جنگی طاقت کے بل بوتے پر  غزہ کے  24 لاکھ شہریوں کا جینا حرام کیا ہؤا ہے اور ان کے لیے بنیادی استعمال کی اشیا ، پانی، بجلی اور خوراک کی فراہمی بند ہے۔ عالمی تنظیمیں مصر کی   ’رفح‘ گزرگاہ سے  امداد فراہم کرنا  چاہتی ہیں لیکن اسرائیل نے  مسلسل بمباری  سے  اس علاقے  سے امداد کی ترسیل کو ناممکن بنایا ہؤا ہے۔ حتی کہ غزہ میں پھنسے ہوئے سینکڑوں غیر ملکی شہری بھی وہاں سے  نکلنے میں کامیاب نہیں ہوئے کیوں کہ مصری حکام کا کہنا ہے کہ ’رفح‘ کا راستہ کھولنے سے عملہ  کی جان کو خطرہ ہے۔

حماس کے خلاف اسرائیل کی غیر متوازن اور ظالمانہ کارروائی کو اسی گروہ کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے دو سو کے لگ بھگ اسرائیلی و دیگر ممالک کے شہریوں کی رہائی کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اسرائیل  حماس کی جنگی طاقت ختم کرنے کے لئے غزہ کے شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا  رہا ہے۔ کئی ہزار شہری جاں بحق  ہوچکے ہیں اور شمالی غزہ کے دس لاکھ لوگوں کو فوری طور سے جنوب کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس تمام تر طاقت کا استعمال ان ٹھکانوں پر نہیں کیا جاتا جہاں ممکنہ طور پر حماس نے یرغمالی اسرائیلیوں کو چھپایا ہؤا ہے۔ ا س کی ایک ہی وجہ ہے  کہ اسرائیل کبھی بھی اپنے  کسی شہری کو ہلاک کرنا نہیں چاہتا لیکن   انتقام کے جنون میں  فلسطینی شہریوں کا خون بہانا جائز سمجھتا ہے۔   امریکی صدر نہایت ڈھٹائی اس غیر انسانی اور بین الاقوامی قانون کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو جائز اور اسرائیل کے دفاع کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ  امریکہ،  حماس کے خلاف محاذ بنانے کے لیے فسلطینی اتھارٹی کو ساتھ ملائے، فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کیا جائے اور جو امداد اسرائیل کو  شہریوں کا خون بہانے کے لیے دی جارہی ہے ، اس کا کچھ حصہ فلسطینی ریاست کو اپنے علاقے سے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ کرنے   کے لیے دی جائے۔ اس طرح  فلسطینی  باشندوں کو بھی احساس ہوگا کہ  انہیں  اپنا وطن نصیب ہوگیا ہے اور  اب  انہیں   اپنی قیادت کے ساتھ مل کر اپنی صفوں میں  شامل  شدت  پسندی کا ارتکاب کرنے والے  عناصر کے خلاف متحد ہونا چاہئے۔   کسی علاقے سے  دہشت گردی اور شدت پسندی کا خاتمہ کرنے کا یہی واحد مؤثر طریقہ ہے۔ داعش نے جب شام اور عراق کے علاقوں پر قبضہ کرکے  اسلامی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس مجرمانہ دہشت گرد گروہ کی طاقت کو مقامی آبادی اور مسلمان ممالک کے تعاون  سے ہی ختم کیا جاسکا تھا۔ لیکن فلسطینی علاقوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنے کے نام پر اسرائیل، فلسطینی علاقوں پر  ناجائز قبضہ جاری رکھنا چاہتا بلکہ وہ اس علاقے کے ایک کروڑ کے لگ بھگ فلسطینیوں کی نسل کشی پر تلا ہؤا ہے۔ ان  حالات میں امریکی صدر اسرائیل کی حفاظت کے  خواہ کیسے ہی وعدے اور  دعوے کریں، حالات پرسکون نہیں ہوسکتے۔ کسی  خطے کے لوگوں کو دربدر کرکے وہاں امن قائم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

اس تصادم میں امریکی ڈھٹائی اور جانبداری  تو ایک طرف  بظاہر فلسطینیوں سے ہمدردی رکھنے والے مسلمان ممالک  بھی فلسطینیوں سے سفارتی  اظہار یک جہتی سے  بھی قاصر ہیں۔ ترکی کے علاوہ متعدد عرب ممالک  اسرائیل کی مذمت ضرور کررہے ہیں لیکن  اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھنے والے کسی مسلمان ملک نے نہ تو اسرائیلی سفیر کو ملک چھوڑ نے کا حکم دے کر اپنی ناراضی کا اظہار کیا ہے اور نہ ہی انہیں بلا کر احتجاجی مراسلہ دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس ان ممالک  کے عوام جلوسوں کے ذریعے ضرور غم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں۔

فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی جنگ جوئی کو اگر فوری طور سے ختم نہ کروایا گیا اور اگر بے گناہ انسانوں کے قتل عام کا سلسلہ بند نہ ہؤا تو یہ چنگاری  پوری دنیا کے  امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ تب یہ سوچنا عبث ہوگا کہ اس کا آغاز ایک شدت پسند گروہ کی دہشت گردی سے ہؤا تھا۔ ایسی  صورت میں جنگ کے شعلے غیر معین محاذ تک پھیل سکتے ہیں جو  دنیا کے امن و معیشت کو نگل جائیں گے۔ امریکی صدر کو اسرائیل کی  کمر ٹھونکنے کی بجائے واحد سپر پاور کے طور پر دنیا میں جنگ  کے روک تھام کے لیے کام کرنا چاہئے۔ ورنہ  شرف آدمیت اور  جمہوریت  کے سارے دعوے بےسود ہوں گے۔