فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل اورعام انتخابات سے متعلق درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

  • جمعہ 20 / اکتوبر / 2023

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل اور 90 روز کی آئینی مدت میں عام انتخابات کرانے سے متعلق دائر درخواستوں کو 23 اکتوبر بروز پیر سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی سر براہی میں جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل سپریم کورٹ کا لاجر بینچ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سماعت کرےگا۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت 23 اکتوبر بروز پیر دن ساڑھے 11 بجے شروع ہوگی۔

گزشتہ روز ایک مختلف کیس کی سماعت کے دوران وکیل کی جانب سے 15 روز کا وقت دینے کی استدعا کرنے پر چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے آئندہ ہفتے کے دوران فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کی سماعت اور عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق اہم آئینی معاملات کے کیسز کو اٹھانے کا عندیہ دیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ عدالت عظمیٰ آنے والے ہفتوں میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل اور انتخابی معاملات جیسے اہم مقدمات کی سماعت کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے موجودہ کیس کو 15 روز کے لیے ملتوی کرنا مشکل ہے۔

واضح رہے کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس کی آخری سماعت اگست میں ہوئی تھی، جس کے دوران اُس وقت کے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ مسلح افواج کو ’غیر آئینی اقدامات‘ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے مقدمے کی سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دینے درخواست مسترد کردی تھی۔

کیس کی سماعت سابق چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل 6 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی۔ چیئرمین پی ٹی آئی، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، معروف قانون دان اعتزاز احسن اور سول سائٹی کی جانب سے عام شہریوں پر مقدمات آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔