غزہ میں فوجی کارروائی اضافہ تباہ کن ہوگی: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائیوں میں کوئی بھی اضافہ وہاں کے لوگوں کے لیے تباہ کن ہو گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے جاپان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ فوجی کارراوئیوں میں مزید اضافہ بلکہ صرف ان سرگرمیوں کا تسلسل بھی غزہ کے لوگوں کے لیے تباہ کن ہو گا۔ انہوںنے بتایا کہ پناہ گزینوں کی ایجنسی یو این ایچ سی آر کے پاس فلسطینی علاقوں یا اسرائیل میں کوئی باضابطہ مینڈیٹ نہیں ہے۔
انہوں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل میں حماس کے حملوں کو بھی خوفناک قرار دیا اور کہا کہ لبنان اور دیگر ممالک تک پھیلنے والے تنازع کے نتائج نا قابل حساب ہوں گے۔ فلسطینی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں واقع ایک چرچ کے احاطے میں پناہ لینے والے متعدد بے گھر افراد اسرائیلی حملے کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی حملے میں یونانی آرتھوڈوکس سینٹ پورفیریئس چرچ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے رابطہ انسانی امور نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ آباد کاروں کے تشدد میں اضافے کے دوران مغربی کنارے میں 7 اکتوبر سے اب تک 545 فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ آباد کاروں کے شدید تشدد اور رسائی کی پابندیوں کے درمیان کم از کم 74 فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کر دیا گیا ہے۔ متاثرین کی جائیدادوں کو جلا دیا گیا اور بندوق کی نوک پر لوگوں کو دھمکیاں دی گئیں۔
واضح رہے کہ اس وقت غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہی پھیلی ہوئی ہے، جہاں 3 ہزار سے زائد شہری جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔