نواز شریف کی واپسی اور عدالتی ریلیف

اس وقت ملکی سیاست میں نواز شریف کی واپسی اور ان کو ملنے والا عدالتی ریلیف "ٹاک آف دی ٹاؤن" ہے۔اگرچہ عدالتی تاریخ ایسی بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں پر ملزم یا مجرم کی عدم موجودگی میں عدالتیں انہیں حفاظتی ضمانت دیتی رہی ہیں تاہم اس کے باوجودایک مخصوص جماعت کے پیروکار نواز شریف کو ملنے والے عدالتی ریلیف کو قانون اور انصاف کی موت قرار دے رہے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق عدالتیں کسی بھی ایسے شخص کو جو کسی مقدمے میں مجرم ہونے کے ساتھ ساتھ اشتہاری بھی ہو، اس بنا پر حفاظتی ضمانت دے دیتی ہیں کہ وہ متعلقہ عدالت میں پیش ہو کر اپنے مقدمے کے "سٹیٹس" کو بحال کروا نے کے بعد اپنی قانونی جنگ لڑ سکے۔دیکھا جائے تو اشتہاری قرار دے کر وارنٹ جاری کرنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ ملزم یا مجرم کو گرفتار کر کے قانون کے سامنے سرینڈر کرایا جائے، اب اگر کوئی اشتہاری خود سرینڈر کرنا چاہے تو عدالت اسے یہ موقع فراہم کرتی ہے۔

کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں اشرافیہ اور عام شہریوں کے لیے قانون اور انصاف کے الگ الگ معیار ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حوالے سے ہماری سیاسی جماعتوں اور ان کے حمایتیوں کے تنقید و ستائش کے معیارات بھی دوہرے ہیں۔مختلف ادوار میں ایک ہی نوعیت کے فیصلوں پر ہماری سیاسی جماعتیں مختلف رائے کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔"میٹھا میٹھا ہپ، کڑوا کڑوا تھو" کے مصادق ہماری سیاسی جماعتیں اور ان کے سپورٹرز اپنے حق میں آنے والے عدالتی فیصلوں پر شادیانے بجاتے ہوئے اسے قانون اور انصاف کی فتح قرار دیتے ہیں جب کہ مخالفت میں آنے والے فیصلوں پر شدید قسم کی ناک بھوں چڑھاتے ہوئے اسے قانون اور انصاف کی موت قرار دیتے نہیں تھکتے۔

وطن واپسی سے دو روز قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالتی محاذپر ریلیف ملا تو پاکستان تحریک انصاف کے حمایتیوں نے اسے عدالتی تاریخ میں یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے قانون اور انصاف کی موت کہا جب کہ مسلم لیگ (ن) کے سپورٹرز نے نواز شریف کو ملنے والا عدالتی ریلیف انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق قرار دیا۔مسلم لیگ (ن) کے سپورٹرز کا خیال ہے کہ ماضی میں نواز شریف کے ساتھ ریاستی وعدالتی محاذ پر شدید قسم کی ناانصافیاں روا رکھی گئیں۔آج تحریک انصاف کے سپورٹرز کو نواز شریف کو ملنے والے عدالتی ریلیف کے پیچھے مقتدرہ کھڑی دکھائی دیتی ہے لیکن ماضی میں مقتدرہ کے اشاروں پر نواز شریف کے خلاف کیے گئے فیصلوں کو وہ انصاف کی فتح قرار دیتے تھے۔

تحریک انصاف کے حمایتیوں کو اآج عمران خان اور ان کی جماعت کے خلاف سیاسی جبرجمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف نظر آتا ہے لیکن ماضی میں نواز شریف اور ان کی جماعت کے خلاف بدترین سیاسی جبر کو وہ جبر ہی تسلیم نہیں کرتے۔آج تحریک انصاف کے سپورٹرز یہ دہائی دیتے نہیں تھکتے کہ پی ڈی ایم نے اقتدار لینے کے لیے ان کی جماعت کے خلاف سازشیں کیں لیکن یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ ماضی میں ان کی جماعت نے اقتدار کے حصول کے لیے ہی (ن) لیگ کو دیوار سے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ غیر جانب دارانہ بات کی جائے تو دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف مقتدرہ کے ہاتھوں استعمال ہوئی ہیں۔کوئی شک نہیں کہ نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان کے ساتھ زیادہ لوگ کھڑے ہوئے لیکن اس بنیاد پر حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ حقیقت یہی ہے کہ دونوں جماعتوں نے اقتدار کے حصول اور ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے مقتدرہ کا سہارا لیا۔

وطن واپسی پر اسلام آباد کی احتساب عدالت اور اسلام آباد ہائی کورٹ سے نواز شریف کو 24اکتوبر تک کاریلیف تو مل گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آیا انہیں ایون فیلڈ اور العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمات میں احتساب عدالتوں کی سزاؤں اور پاناما لیکس میں سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ناہلی کی سزا کے خاتمے میں کوئی بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ مقدمے کے دو شریک ملزمان مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو بری کر چکی ہے اور اس عدالتی فیصلے کا فائدہ نواز شریف کومل سکتا ہے۔کچھ ماہرین کے نزدیک اگر اسلام آباد ہائی کورٹ ایون فیلڈ اور العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمات میں نواز شریف کو دی جانے والی سزائیں کالعدم قرار دے دے تو پھر سپریم کورٹ کی جانب سے تاحیات نااہلی کی سزا کا سوال اس لیے ختم ہو سکتا ہے کہ سابق پی ڈی ایم حکومت نے الیکشن ایکٹ میں ترامیم کر کے تا حیات نااہلی کی مدت پانچ سال کر دی تھی۔اس ترمیم کو ابھی تک کسی نے بھی اعلی عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جس کا مطلب ہے کہ یہ قانون ابھی تک برقرار ہے تاہم کچھ ماہرین کا خیال اس کے برعکس ہے۔

ان ماہرین کے مطابق تاحیات ناہلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ ابھی تک برقرار ہے اور نواز شریف انتخابی عمل میں اس وقت تک حصہ نہیں لے سکتے جب تک سپریم کورٹ لارجر بنچ کے فیصلے کے خلاف کوئی درخواست دائر ہونے کی صورت میں کوئی حکم صادر نہیں کرتی۔ان ماہرین کا موقف ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف سپریم کورٹ کے آنے والے فیصلے یہ واضح ہے کہ ماضی میں از خود نوٹس پر جو بھی فیصلے آئے ہیں ان کے خلاف نظر ثانی کی اپیلیں دائر نہیں ہو سکتیں اور نواز شریف کی نااہلی بھی اس زمرے میں آتی ہے۔زیادہ امکانات یہی ہیں کہ نواز شریف ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں بری ہو جائیں گے۔ البتہ نااہلی کی سزا بارے حتمی طور پر کچھ کہنا ممکن نہیں۔نواز شریف کی نااہلی بارے حتمی فیصلہ اس وقت ہوگا جب نواز شریف کاغذات نامزدگی جمع کرائیں گے اور کوئی مخالف امیدوار ان پر نااہل ہونے کا اعتراض لگائے گا۔ایسا ہونے کی صورت میں حتمی طور پر معاملہ اعلی عدلیہ تک ضرور پہنچے گا اور پھر اعلی عدلیہ ہی نواز شریف کی نااہلی ختم کرنے یا برقرار رکھنے کا آخری فیصلہ کرے گی۔