ہم اپنی سرزمین نہیں چھوڑیں گے: فلسطینی صدر
مشرق وسطیٰ اور یورپ کے متعدد رہنما اسرائیل اور غزہ کی جنگ میں کے خاتمے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں جمع ہوئے ہیں۔ اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے خطاب کیا اُن کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم کبھی بھی منتقلی کو قبول نہیں کریں گے۔ چیلنجز جو بھی ہوں، ہم اپنی زمین پر رہیں گے۔ محمودعباس فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ہیں جس کا مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقوں پر کنٹرول ہے لیکن حماس کے زیر انتظام غزہ کی پٹی پر اُن کا کنٹرول نہیں ہے۔
مصر اور دیگر عرب ریاستوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کسی بھی اور مُلک کے لیے ناقابل قبول ہوگی کیونکہ یہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے مترادف ہوگا۔
اجلاس میں اردن، قطر، اٹلی، اسپین، یورپی یونین اور برطانیہ کے حکام بھی شامل ہیں۔ تاہم قابل ذکر غیر حاضر مُمالک میں اسرائیل، امریکہ اور ایران شامل ہیں۔
اس دوران مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد رفح کراسنگ کھول دی گئی ہے۔ تاہم صرف بیس ٹرکوں کو غزہ جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ سرحد کتنی دیر تک کھلی رہے گی۔ اسرائیل نے ایندھن لے کر جانے پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق پانی کے دباؤ کے لیے ایندھن کی ضرورت ہے اور اس وقت غزہ میں دیگر اشیائے ضروریہ کے علاوہ پانی کی بھی شدید قلت ہے۔
اقوام متحدہ نے زور دیا ہے کہ غزہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روزانہ کم از کم 100 ایسے امدادی سامان کے ٹرکوں کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اب تک 210 یرغمالیوں کے اہل خانہ کو مطلع کیا ہے کہ انہیں غزہ کی پٹی میں رکھا گیا ہے۔ مبیہنہ طور پر یہ لوگ حماس کے قبضہ میں ہیں۔ ان میں امریکی ماں اور بیٹی جوڈتھ اور نیٹلی رانان شامل نہیں ہیں جنہیں حماس نے گزشتہ رات رہا کیا تھا۔