نواز شریف 4 سالہ خود ساختہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے

  • ہفتہ 21 / اکتوبر / 2023

قائد مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم نواز شریف 4 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد خصوصی طیارے کے ذریعے دبئی سے براستہ اسلام آباد لاہور پہنچ گئے۔

اس سے پہلے نواز شریف آج ڈیڑھ بجے دن اسلام آباد پہنچے تھے۔ نواز شریف کی قانونی ٹیم بشمول سابق وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور پارٹی رہنماؤں نے اسلام آباد میں ان کا استقبال کیا۔ نواز شریف کا امیگریشن کا عمل مکمل کیا گیا۔

نواز شریف نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواست پر دستخط کیے۔ اُن کی قانونی ٹیم نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے کی درخواست تیار کی تھی۔

اسحٰق ڈار نے تصدیق کی کہ نواز شریف کے امیگریشن کے حوالے سے قانونی تقاضے مکمل کرلیے گئے ہیں۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر اپنی ایک پوسٹ میں بتایا کہ بائیو میٹرک سرٹیفیکیٹ بھی لے لیا گیا، قانونی دستاویزات پر دستخط لیے گئے، تصدیقی کارروائی بھی مکمل کرلی گئی۔ قبل ازیں اعظم نذیر تارڑ نے بتایا تھا کہ نواز شریف کی آمد پر سیاسی اور قانونی امور پر مشاورت کی جائے گی۔

روانگی سے قبل دبئی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت اچھا ہوتا اگر 2017 کے مقابلے میں آج حالات بہتر ہوتے۔ دکھ کی بات ہے کہ ملک آگے جانے کی بجائے پیچھے چلا گیا۔ ہمیں اپنے پاؤں پر خود کھڑا ہونا ہے، کوئی ہمیں اٹھا کر کھڑا نہیں کرے گا۔ حالات ہم نے بگاڑے بھی خود ہیں، درست بھی ہم ہی کریں گے۔ ہم اس قابل ہیں کہ ملک کے حالات درست کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان یاد کرکے تکلیف ہوتی ہے جو آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ چکا تھا، بجلی وافر تھی، روپیہ مستحکم تھا، لوگوں کو روزگار مل رہا تھا۔ روٹی سستی تھی، علاج کی سہولتیں میسر تھیں، کیا آج وہ پاکستان نظر آتا ہے؟ سابق وزیراعظم نواز شریف نے سوال کیا کہ ہم یہاں تک کیوں پہنچے؟ یہ نوبت کیوں آئی؟ ہمارا شمار تو آج دنیا کی بلند ترین قوموں میں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ 4 برس بعد پاکستان جانے پر خوشی ہے۔ الیکشن کے لیے بالکل تیار ہیں، مگر ابھی حلقہ بندیاں ہونی ہیں۔ مردم شماری کے بعد ایک پراسس ہوتا ہے، اس میں وقت لگتا ہے سب الیکشن کمیشن کی نظر میں ہے۔ وہ بہتر فیصلہ کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے انعقاد کا بہتر فیصلہ الیکشن کمیشن ہی کر سکتا ہے۔ اس طرح کے فیصلوں کے لیے مجاز ادارہ الیکشن کمیشن ہی ہے، انتخابات کے لیے میری ترجیح وہی ہے، جو الیکشن کمیشن اعلان کرے گا۔

نواز شریف نے کہا کہ میں وہ شخص ہوں جس نے ڈیڑھ، ڈیڑھ سو پیشیاں بھگتی ہیں۔ میری بیٹی نے بھی پیشیاں بھگتیں، بالآخر میری بیٹی کو کلین چٹ مل گئی تھی اور وہ ملنی ہی تھی کیونکہ جب ہماری حکومت تھی تو وہ کسی بھی عہدے پر فائز نہیں رہی تھیں۔ نہ وہ کوئی وزیر مشیر تھیں، انہیں ایسے ہی دھر لیا گیا تھا۔ شہباز شریف اور ہمارے خاندان سے باہر کے لوگوں پر بھی کیا کچھ بیتی۔ میں رانا ثنا اللہ اور حنیف عباسی کی مثال دیتا ہوں، کیا ان کے خلاف کیسز جائز تھے؟

نواز شریف سے سوال کیا گیا کہ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے کیا انہیں آپ نے معاف کردیا؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے میں کسی حد تک بلکہ کافی حد تک سرخرو ہو کر جا رہا ہوں۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ سب کچھ اللہ پر چھوڑتا ہوں۔ ایکسوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ہم 9 مئی والے نہیں 28 مئی والے ہیں۔

ڈان نیوز‘ کے مطابق دبئی میں روانگی سے قبل نواز شریف کا طیارہ تاخیر کا شکار ہوا تھا، فلائٹ میں 172 لوگوں کی بکنگ کی گئی تھی۔ 10 لوگ ایسے تھے جن کی اوور بکنگ ہوگئی تھی جس کی وجہ سے نظم و ضبط کا مسئلہ آیا اور فلائٹ تاخیر کا شکار ہوئی۔