نواز شریف کی واپسی
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- ہفتہ 21 / اکتوبر / 2023
آج نوازشریف پاکستان آرہے ہیں۔ بلکہ ٹوئٹر کے مطابق اُن کا طیارہ اسلام آباد ایئرپورٹ پہ اُتر چُکا ہے۔ کسی بھی پاکستانی شہری کی طرح یہ نوازشریف کا حق ہے کہ آزادی سے اپنے مُلک آئیں جائیں. لیکن ایک سیاستدان ہونے کے ناطے اُن کا آنا جانا مخصوص حالات سے جُڑا ہے۔
چار سال پہلے وہ ایک بیماری کی بنیاد پہ عِلاج کی غرض سے ملک سے باہر گئے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بات آشکار ہوئی کہ یہ اُن کی مقتدرہ کے ساتھ ایک ڈِیل کا نتیجہ تھا۔ اُس وقت کی حکومت نے بھی یہ سب ہونے دیا۔ اور سُپریم کورٹ میں اپیل دائر نہ کی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد روزانہ کی بنیاد پہ میاں صاحب کے پلیٹلیٹس کی تعداد بتایا کرتی تھیں۔ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بھی ایک رپورٹ بنوائی تھی۔ جس کے مطابق میاں صاحب کو بیمار قرار دیا گیا۔ اب میاں صاحب چار سال بعد واپس آئے ہیں۔ وہ جب گئے تھے تو عوام میں اُن کی مقبولیت تھی۔ لوگ انہیں اسٹیبلشمنٹ کا مظلوم سمجھتے تھے۔ بلکہ وہ حقیقی طور پہ اسٹیبلشمنٹ ہی کا شکار بنے تھے۔ لیکن پھر اسٹیبلشمنٹ ہی نے اُنہیں کسی اور وقت کے لیے ’محفوظ‘ کر لیا۔ تاکہ وہ کام آ سکیں۔
اور پھر عملی طور پہ ایسا ہوا بھی۔ میاں صاحب عمران خان کو سبق سکھانے میں کام آئے۔ عمران خان کو عدم اعتماد کی وجہ سے اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔ آج میاں صاحب سولہ ماہ کے اقتدار کے بوجھ کے ساتھ آ رہے ہیں۔ نون لیگ کے پاس عوام کو متاثر کرنے کے لیئے کچھ بھی نہیں۔ مہنگائی اور افراطِ زر نے لوگوں کی کمر توڑ رکھی ہے۔ عوام کے لیے روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ میاں صاحب کے حامی اُنہیں نجات دہندہ کے طور پہ پیش کر رہے ہیں اور یہی سب سے بڑی غلطی ہے۔
کوئی بھی شخص اکیلا کسی بھی نظام کو درست نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے ہمیشہ ایک ٹیم ہوتی ہے۔ سیاست تو نام ہی اشتراکِ کار کا ہے۔ بدقسمتی سے ہم ایک نظام کی بجائے شخصیات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا میاں صاحب اور اسٹیبلشمنٹ 5 سال تک بغیر کسی رکاوٹ کے اکٹھے چل سکیں گے؟
1999 میں میاں صاحب کی حکومت بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی وجہ سے گئی۔ کیا اب میاں صاحب کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی اجازت ملے گی؟ 2013 کے بعد میاں صاحب کے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات پہلے پرویز مشرف پہ مقدمے اور پھر ڈان لیکس کی وجہ سے خراب ہوئے۔ میاں صاحب نے اب ایک اور آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف مقدمے کی بات کی ہے۔ لیکن جلد ہی اُن کے کانوں کو ہاتھ لگوا دیے گئے جو اس بات کی علامت ہے کہ میاں صاحب معافیوں تلافیوں کے بعد کسی معاہدے کے تحت ہی آ رہے ہیں۔
میری رائے میں پاکستان کی گھمبیرتا کا علاج اس وقت کسی شخص یا پارٹی کے پاس نہیں۔ اس کے لیے ایک مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔ کسی ایک شخص کو نجات دہندہ تصور کر لینا بہت بڑی غلطی ہے۔ میری رائے میں میاں صاحب کو سب سے پہلے ایک بڑے مکالمے کا اہتمام کرنا چاہیئے۔ اور اس میں پی ٹی آئی کو بھی شامل کریں۔ پی ٹی آئی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔ اسے کسی بھی سیاسی انتظام سے باہر رکھ کے جمھوریت کا دعوی' ایک فریب ہوگا۔
عمران خان کی سیاست سے لاکھ اختلاف لیکن وہ ہماری سیاست کا ایک اہم کھلاڑی ہے۔ اسے کھیل سے باہر رکھنا جمہوریت ہرگز نہیں۔ میاں صاحب اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہیں۔ انہیں چاہیئے کہ عمران خان کے لیے بھی راستہ بنائیں۔ جیسے بے نظیر بھٹو نے میاں صاحب کے لیے بنایا تھا۔ خان صاحب کو بھی زمین پہ آ جانا چاہیئے۔ یہ مُلک اسی صورت میں چلے گا۔ ورنہ سر پھٹول نے ملک کو کچھ نہیں دیا۔
اس وقت ملک میں سیاسی سپیس ختم ہونے کی وجہ سیاستدانوں کی یہ باہمی سر پھٹول ہی ہے۔ میاں صاحب اس وقت ملک کے سب سے سینیئر سیاستدان ہیں. کیا وہ ایک مُدبر کا رول ادا کر پائیں گے۔ یہ آنے والے چند دنوں میں سامنے آ جائے گا۔