دیوار گریہ
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 21 / اکتوبر / 2023
سچ کسی بھی جنگ کی پہلی گولی کا اولین شکار ہوتا ہے۔ یہ مقولہ بار بار آزمایا، ہر بار یہ سفاک سچ ثابت ہوا۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی خبر کے ساتھ امریکی اور یورپی میڈیا میں غزہ کا 17سالہ محاصرے سے تنگ آمد بہ جنگ آمد پر فلسطینیوں کا زمینی سچ گھائل ہو کر زمیں بوس ہو گیا۔ فلسطین کے حق میں بات کرنا امریکہ اور یورپ میں جرم بن گیا۔
امریکی صدر جو بائیڈن اسرائیل پہنچے اور کلیجہ نکال کر نیتن یاہو اور اس کی حکومت کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ امریکہ تمہارے ساتھ ہے۔ گئے وقتوں کی کولونیل طاقت برطانیہ جس کے نصیب میں اب اپنی چمڑی والا وزیراعظم بھی نہیں، اس کے موجودہ وزیراعظم رشی سوناک بھی بھاگم بھاگ اگلے دن نیتن یاہو کو اپنی وفاداری مع بہ شرط استواری کا اقرار نامہ پیش کرنے پہنچے۔ عجیب ستم ظریفی ہے کہ موصوف کے اجداد اسی کولونیل استبداد کا مزہ چکھے ہوئے ہیں جس کا ہزار گنا بے رحمانہ استعمال اسرائیل کئی دہائیوں سے فلسطینیوں کے ساتھ کرتا آیا ہے ۔
امریکی اور یورپی حکومتیں اور میڈیا اسرائیل پر حماس حملے کے جواب میں غزہ کی تباہی، مسلسل بمباری ، ہسپتالوں کی بربادی اور پناہ کی تلاش میں ہلکان شہریوں پر وائٹ فاسفورس بموں کی بارش سے مکمل صرف نظر کرتے ہوئے حماس کو دہشت گرد اور اسرائیل کو مظلوم ثابت کرنے کے لئیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ تاہم امریکہ اور یورپ میں جابجا بڑے بڑے مظاہرے ہوئے ہیں بلکہ جاری ہیں جن میں اسرائیل کی وحشیانہ جوابی کاروائیوں پر احتجاج کیا۔ آزادی اظہار کے پرچارک ان ممالک میں ان مظاہرین میں سینکڑوں لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا، بیشتر جگہوں پر فلسطینی پرچم لہرانے پر دست در اندازی پولیس کیس بنے۔
اس دوران اسلامی ممالک نے اپنے چلن اور رد عمل سے ایک بار پھر ثابت کیا کہ زبانی جمع خرچ اور بزدلی کا یہ معیار ہر کسی کے نصیب میں کہاں۔ بقول ہمارے رفیق کالم نگار مسلم ممالک کے عوام نے بھی کنٹینرز بھر بھر کر اسرائیل کو بددعائیں دی ہیں لیکن صبح شام غزہ پر بمباری کرنے والے بد بختوں کے پاس بد دعائیں وصول کرنے کا وقت ہی نہیں ہے۔
17 سال ہونے کو آئے کہ غزہ کا خوفناک محاصرہ جاری ہے۔ فلسطین کے دوسرے مقبوضہ علاقے یعنی مغربی کنارے میں بھی جبر اور استبداد کے خلاف لاوا ابل رہا ہے۔ کئی لوگوں نے سوال اٹھایا کہ اسرائیل کی تباہ کن طاقت کے سامنے حماس نے حملے کرکے خود کو تباہی کے حوالے کردیا ہے۔ جس تن لاگے سو تن جانے کے مصداق غزہ بقول انسانی حقوق کی تنظیموں کے ایک جیتا جاگتا جہنم ہے۔ اس جہنم کے باسیوں کو زندہ رہنے کے لئے کس رنگ اور ڈھنگ سے روز مرنا پڑتا ہے، وہی بہتر جانتے ہیں۔
غزہ اور مغربی کنارے سے دور تل ابیب اور یروشلم کے فلسطینی باسیوں کے شب و روز بھی اسی استبداد کے سائے تلے گزرتے ہیں۔ یہاں صدیوں سے آباد فلسطینیوں کو بے دخلی سے انکار پر کس طرح کی زندگی گزارنے کا قہر اور جبر برداشت کرنا پڑتا ہے، اس کا کچھ کچھ اندازہ ہمیں ایک نہایت منفرد اور شاندار سفرنامے دیوار گریہ کے آس پاس سے ہوا۔ مصنف ڈاکٹر کاشف مصطفیٰ پاکستانی نثراد ہیں لیکن جنوبی افریقہ کے باسی ہیں۔ انہوں نے انتہائی عمدہ تحقیق اور تاریخ کے دریچوں میں جھانک کر دیوار گریہ کے آس پاس لکھ کر فسلطین کے باسیوں کی حالت زار کا نقشہ کھینچا ہے۔ یہ سفر نامہ کئی سال قبل انگریزی میں لکھا گیا جس کا اردو ترجمہ انتہائی شستہ اور ادبی آہنگ کے ساتھ محمد اقبال دیوان نے کیا( پبلشر قوسین ، فیصل ٹاؤن لاہور) اس کتاب سے چند اقتباسات جو اس سچ کا مرثیہ ہے جو ایک عام مسافر نے دیکھا:
سرزمین اسرائیل کو اس کی حکومت نے تین انتظامی یونٹس میں تقسیم کر رکھا ہے۔ زون اے میں فلسطینی علاقے جن میں مغربی کنارہ اور غزہ شامل ہیں۔
اسرائیلی باشندوں کے لیے تمام علاقہ محفوظ بنانے کیلئے ایک دیوار کھینچ کر احاطے میں بدل دیا گیا ہے۔ خروج اور دخول کے مقامات متعین اور سنتریوں کی تحویل میں ہیں۔ اندر سے کوئی باہر نہ جا سکے باہر سے کوئی اندر نہ آ سکے والا معاملہ ہے۔ زون بی کے انتظامی علاقے میں فلسطینی کام کاج کے لیے تو آ سکتے ہیں مگر قیام نہیں کر سکتے ۔ زون سی میں فلسطینیوں کا داخلہ یکسر ممنوع ہے۔ اس زون میں دارالحکومت تل ابیب بھی شامل ہے۔ مگر یہاں آج بھی 10 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے، ان کی اکثریت جافا میں رہتی ہے۔
ان جڑواں بستیوں یعنی تل ابیب اور جافا کا انتظام ایک ہی میونسپلٹی کے پاس ہے۔ جافا پر مسلمان آٹھویں صدی میں 1917 تک یعنی 1100 سال حکمران رہے۔ یہاں برطانوی راج قائم ہوا تو یہودی یورپ سے پہنچنے لگے، مقامی مسلمان آبادی اور ان میں قومی فسادات بھڑک اٹھے، انگریز کے جانبدارانہ رویے سے تنگ ا کر 1921 میں ہونے والی خانہ جنگی کے نتیجے میں مسلمان بائیں کنارے پر اور یہودی جافا اور تل ابیب میں آباد ہونا شروع ہو گئے۔ 1948 کی جنگ میں یہ سارا علاقہ یہودی تسلط میں آگیا لیکن کچھ مسلمان خاندان کسی طور یہاں سے جانے پر رضامند نہ ہوئے۔ ان کی اس علاقے میں موجودگی تاریخ کا ایک دلچسپ باب ہے ۔ یہاں تین پرانی مساجد ، کئی دکانیں اور ہوٹل بھی ہیں۔ پتھریلی تنگ پرانی گلیاں آپ کے قدموں تلے آپ کا تعلق نادانستہ طور پر ان قدموں سے جوڑ دیتی ہیں جو انہیں روندتے روندتے خود بھی آسودہ خاک ہو گئے۔
وہ بتانے لگے: اسرائیلی عربوں کے لیے مسجد اقصی ایک وجود لازم ہے، اس سے وابستگی میں ہی ہمارا مکمل تشخص پنہاں ہے۔ یہ ہم مظلومین کی روحانی پناہ گاہ ہے۔ یروشلم کی بیشتر مسلم آبادی اس کے ارد گرد کے محلوں میں اور یہاں سے دو کلومیٹر دور خالصتاً ایک عرب بستی کی تنگ و تاریک گلیوں اور چھوٹے چھوٹے مکانات میں رہتی ہے۔ ہر مکان میں اوسطا 13 /14 افراد رہتے ہیں۔ شام ہوتے ہی یہ ساکنان مظلومیت تازہ ہوا کی چاہ میں قوت السخرہ اور مسجد الاقصی کے دالانوں اور پاس پڑوس کے باغیچوں میں ا جاتے ہیں اور رات کے کسی پہر خاموشی سے گھر لوٹ جاتے ہیں۔
ان فلسطینی عربوں کی اکثریت غربت کے کوہ گراں تلے دبی ہوئی ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے دروازے ان پر بند ہیں اور اس قدر نامساعد حالات میں کاروبار کے مواقع بھی بہت محدود ہیں ۔ ان کی اکثریت دیہاڑی دار ہے، روز کنواں کھودتی ہے، روز پانی پیتی ہے۔ بچوں پر اعلی تعلیم کے دروازے بند ہیں۔ مملکت یہود چاہتی ہے ان کی زندگیاں اس قدر مشکل اور گھٹن زدہ بنا دی جائیں کہ یہ تنگ آکر دوسرے ممالک میں ہجرت کر جائیں۔
اس نے اپنی بات جاری رکھی: میرے بھائی! تمہیں شاید اس بات کا خیال بھی نہ ہو کہ ہم بھی مسجد اقصی جتنے پرانے مسلمان ہیں۔ اللہ کے اس مقدس گھر کے محافظ۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ ہم قرب و جوار کے عرب ممالک میں ہجرت کر کے نہیں جا سکتے تھے۔ 1957 کی جنگ میں جب اسرائیل نے اردن کے علاقے فلسطین پر قبضہ کر لیا تو ہماری ایک بہت بڑی تعداد عرب ممالک میں جا بسی۔ ہم نے پھر بھی اس علاقے میں قیام کرنا ہی اپنا فریضہ سمجھا۔ ہم قدیم فلسطینی مسلمان باشندوں کی موہوم سی مدافعت دنیا کو یاد دلاتی ہے کہ یہ ہماری سرزمین ہے، یہ مقدس عبادت گاہ ہماری ہے، ہم یہ کسی اور کے حوالے نہیں کریں گے۔
الخلیل جانے کا واقعہ کچھ یوں بیان کیا: مٹی سے اٹی سڑکوں پر چلتے چلتے کچھ موڑ ادھر ادھر مڑتے میں ایک ایسی دیوار کے ساتھ آن پہنچا جس کے پاس جگہ جگہ ریت کے تھیلوں سے بنے ہوئے بنکر تھے۔ ان کے اندر باہر دھوپ کے چشمے لگائے اسرائیلی فوجی تعینات تھے، ان کی رائفلوں کو بخوبی دیکھا جا سکتا تھا، شہر کو دو حصوں میں بانٹنے کے لیے ایک زنگ الود ٹینسائل بھی لگا ہوا تھا ۔ دوسری طرف بھی کئی کمانڈو اور فوجی ہمیں تیز نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔ ان فوجیوں کا تعلق نو بھرتی شدہ فوجیوں سے ہوتا ہے ، اسرائیل میں ہر نوجوان مرد و زن پر فوجی تربیت لازم ہے۔ انہیں جس مرحلے سے گزارا جاتا ہے اسے گھر واپسی کہا جاتا ہے۔ یہ ان کی لازمی ہدایت کا حصہ ہے کہ وہ خطرے کو بھانپتے ہی بندوقوں سے عربوں کو بھون دیں۔
1994 کے اوسلو معاہدے کے مطابق شہر الخلیل دو حصوں میں تقسیم ہے۔ 1994 سے پہلے شہدا اسٹریٹ کو یہودی کنگ ڈیوڈ اسٹریٹ کہتے تھے جو ایک بڑا کاروباری مرکز تھا ۔ صدیوں پرانا ایک بازار جسے سوق کہتے تھے اسے اس شہر کی اہم علامت مانا جاتا تھا۔ سوق میں اکثر دکانوں کے مالکان عرب تھے ۔ ان کو برباد کرنے اور ان کے لیے عرصہ حیات مزید تنگ کرنے کی خاطر اب یہودی پناہ گیر آباد کاروں کی حفاظت اور سیکیورٹی کے نام پر اس شاہراہ اور ان دکانوں کو عربوں کے لیے مستقل طور پر نو گو بنا دیا گیا ہے۔ پورے 12 سال تک تو فلسطینیوں پر شہداء سٹریٹ میں چھوٹے گروہوں کی شکل میں قدم رکھنے پر بھی پابندی تھی۔ معمولی سی خلاف ورزی پر چوکیوں اور واچ ٹاوروں پر ایستادہ یہودی سپاہیوں کی گولی انہیں نشانہ بنا لیتی تھیں ۔ 2007 میں شدید بیرونی دباؤ میں آکر اب یہ شرط نرم کر دی گئی ہے۔ پیدل ٹولیوں کو وہاں آنے کی اجازت ہے لیکن گولی اب بھی ویسے ہی چلتی ہے۔
ایک مقامی عرب وسان سے ملاقات کا احوال کچھ یوں ہے: وہ کہہ رہا تھا نارمل زندگی کسے کہتے ہیں؟ اس کا ہمیں تو اب ادراک اور ذائقہ یاد نہیں ہمارا ہر گھر بیت الآ لام ہے ، ماتم کدہ رفتگان اور شہیدان وطن ہے ۔شاید ہی کوئی فلسطینی گھر ایسا ہو جس کی میز پر کسی شہید کی تصویر نہ ہو ، کوئی ماں بہن بیٹی ایسی نہیں جس کی انکھ اپنے بیٹے بھائی یا باپ کے لیے اشکبار نہ ہو۔ ہم ایسے مجبور ہیں جو شہادت کے منتظر ہیں۔ اس چھت سے بائیں جانب جو گھر ہے وہ ام حبیبہ کا ہے۔ ان یہودی پناہگیر آباد کاروں نے اس کے میاں اور دو نوجوان بیٹوں کو مار ڈالا۔ یہ قاسم کا گھر ہے۔ قاسم نابینا اور جھلسا ہوا ہے اس کے چہرے پر کسی یہودی نے تیزاب پھینک دیا۔
کسی دن ان کا تہوار ہوتا ہے تو یہ بہانے سے ہماری بستی میں آ جاتے ہیں اس قدر بےہودگی اور ظلم کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ، ہم اقوام متحدہ کے فوجیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ ایسے موقع پر وہ آجایا کریں، ہمارے بچے بھی اب ان مبصرین کی نگرانی میں اسکول جا سکتے ہیں تنہا نہیں۔