انتقام نہیں لیں گے، آئینی بنیاد پر ملک کا مستقبل استوار ہونا چاہئے: نواز شریف
قائد مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ انتقام کا جذبہ نہیں رکھتے اور آئین کی روح کے مطابق متحد ہو کر مستقبل کا منصوبہ بنانا ہوگا۔ آئین پر عمل درآمد کرنے والے ریاستی اداروں اور جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
سابق وزیراعظم نواز شریف 4 سالہ جلاوطنی کے بعد خصوصی طیارے کے ذریعے دبئی سے براستہ اسلام آباد لاہور ایئرپورٹ پہنچے اور وہاں سے ہیلی کاپٹر میں مینار پاکستان جلسہ گاہ گئے جہاں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ نواز شریف کے استقبال کے لیے مینار پاکستان میں پارٹی پرچموں کے ساتھ کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ نواز شریف جب اسٹیج پر پہنچے تو قومی ترانہ بجایا گیا اور شہباز شریف نے وزیراعظم نواز شریف کے نعرے لگوائے اور کارکنوں نے بھرپور جواب دیا، جس کے بعد تلاوت کلام پاک اور نعت پڑھی گئی۔
خواجہ سعد رفیق نے تقاریر شروع ہونے سے قبل قرارداد پیش کی کہ فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔ کشمیر پر بھارت کا غیرقانونی تسلط ختم کردیا جائے۔ کارکنوں نے قرارداد کے حق میں نعرے بلند کیے۔
نواز شریف نے تقریر شروع کرنے سے قبل امن کی علامت فاختہ فضا میں چھوڑی۔
انہوں نے کہا کہ میں آج سوچ رہا تھا کہ میں جب بھی کبھی باہر سے آتا تھا تو میری والدہ اور میری بیوی کلثوم گھر کے دروازے میں استقبال کے لیے کھڑی ہوتی تھیں۔ لیکن آج میں جاؤں گا تو وہ دونوں نہیں ہیں۔ وہ میری سیاست کے نذر ہوگئے، سیاست میں ان کو کھو دیا، وہ مجھے دوبارہ نہیں ملیں گی۔ یہ بہت بڑا زخم ہے جو کبھی بھرے گا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے والد فوت ہوگئے، ان کو میں قبر میں نہ اتار سکا۔ میری والدہ کا انتقال ہوا اور میں ان کو قبر میں نہیں اتار سکا۔ میری اہلیہ کلثوم کا انتقال ہوا تو میں جیل میں تھا۔ میں جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی منتیں کرتا رہا کہ میں عدالت سے آرہا ہوں، وہاں مجھے کسی نے بات کرنے نہیں دی لیکن یہ بتایا گیا ہے کہ وہ دوبارہ آئی سی یو میں گئی ہیں۔ لندن میں میرے بیٹے بات کرادو لیکن اس نے نہیں کرائی۔
ڈھائی گھنٹوں کے بعد اس کا نمبر ٹو میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کے لیے بہت بری خبر ہے، آپ کی بیوی کلثوم اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ بات نہیں کرائی اور ڈھائی گھنٹے کے بعد کہتا ہے کہ بری خبر ہے۔ اور کہتا ہے ہم مریم کی طرف جار ہے ہیں، اس کو اطلاع دینے۔ لیکن میں نے کہا کہ ہر گز مت جانا اس کے پاس، اس کے پاس یہاں میرے پاس لاؤ یا میں خود اس کے پاس جاؤں گا۔ ان کا سیل کچھ فاصلے پر تھا لیکن ہمیں ملنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔
نواز شریف نے کہا کہ میں نے مریم نواز تو بتایا تو وہ بے ہوش ہوگئیں اور رونا شروع کیا۔ ان کے اوپر اس وقت کیا گزری ہوگی، کیا سوچا ہوگا کہ یہ ہمارا اپنا ملک ہے۔ میں بھی اسی وطن کی مٹی سے پیدا ہوا ہوں، سچا پاکستانی ہوں۔ امریکی صدر کلنٹن ہمیں زور دار طریقے سے کہہ رہا تھا کہ آپ ایٹمی دھماکے نہ کریں، دنیا کے لیڈرز کے روز فون آتے تھے آپ دھماکا نہیں کرنا۔ بھارت نے کر دیا لیکن آپ نے نہیں کرنا اور پھر کہنے لگے ہم پاکستان کو 5 ارب ڈالر دیں گے۔
انہوں نے عمران خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ میں وہ فرق ملحوظ خاطر رکھنا چاہتا ہوں جو میری تربیت مجھے سکھاتی ہے۔ میں ایسے ماحول میں نہیں پلا کہ گندے معاملات میں اینٹ کا جواب پتھر سے دوں، میں ایسا نہیں کرتا۔ کلنٹن نے مجھے 5 ارب کی پیش کش کی۔ یہ ریکارڈ کی بات ہے، شاید ہماری وزارت خارجہ میں اس کا ریکارڈ موجود ہوگا۔
پچھلی حکومت کے لوگ ایک، ایک ارب کی بھیک مانگتے تھے لیکن اس وقت 5 ارب ڈالر کی پیش کش ہوئی تھی۔ مجھے کہہ رہا تھا ہم پاکستان کو دینا چاہتے ہیں۔ شاید اگر میں خود لینے والا ہوتا تو ایک دو ارب مجھے مل جاتے اور کہتا کہ دھماکے نہ کرو لیکن میں پاکستان کی مٹی میں پیدا ہوا ہوں جو مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں اس کی وہ بات مانوں جو پاکستان کے مفاد کے خلاف ہو۔
نواز شریف نے کارکنوں سے پوچھا کہ آپ کے علاقے میں روٹی کتنے روپے کی ملتی ہے کیا 20 روپے کی ملتی ہے، میرے زمانے میں 4 روپے کی تھی۔ اس لیے مجھے نکالا، اس لیے میری چھٹی کرائی۔ اس لیے کہ نواز شریف نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی لہٰذا فارغ۔ وزارت عظمیٰ سے چھٹی، کیا آپ اس فیصلے سے اتفاق کرتے ہو۔ ملک آج بربادیوں کی حدوں کو چھو رہا ہے لیکن یہ ملک واپس آئے گا اور ہم واپس لائیں گے۔
قائد مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ نواز شریف کو اس لیے نکالا تھا کہ ڈالر کو ہلنے نہیں دیا، روپے ڈالر کے سامنے کھڑا تھا لیکن پتا نہیں ہم اتنے ناشکرے کیوں ہیں۔ ایک ملک ترقی کی راہ پر چل رہا تھا۔ 1991 میں پہلی دفعہ وزیراعظم بنا تھا اور اس وقت جو منصوبے شروع کیے تھے، وہ رجحان برقرار رہتا تو آج اتنے سارے لوگ بے روزگار نہیں ہوتے۔ غریب اپنے بچوں کا پیٹ بھی پال سکتا تھا لیکن آج تو سوچنا پڑتا ہے کہ بجلی کا بل دیا جائے یا بچوں کا پیٹ پالا جائے۔
یہ سلسلہ شہباز شریف کے زمانے کا نہیں ہے، یہ اس سے پہلے شروع ہوگیا تھا۔ ڈالر قابو میں نہیں آرہا تھا، بجلی کے بل مہنگے ہو رہے تھے، روٹی، گھی، پیٹرول مہنگا ہو رہا تھا اور پھر پاکستان کے اندر ڈالر اور چینی مہنگی ہوتی جارہی تھی۔ میں 50 روپے کلو چینی چھوڑ کر گیا تھا اور کہاں 50 اور کہاں ڈھائی سو روپے کلو، نواز شریف کو اسی لیے نکالا تھا کہ پاکستان ایشین ٹائیگر بننے جا رہا تھا۔ ہم جی20 میں جا رہے تھے آج کئی ملک جی20 میں شامل ہو رہے ہیں۔ ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ ان سے بھی آگے جانا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ 6 سال بعد اپنے جلسے سے خطاب کر رہا ہوں، میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بجلی کا بل تلاش کرکے لایا ہوں، یہ نصراللہ خان کا بل ہے، جب مئی 2016 میں نواز شریف وزیراعظم تھا، دھرنے ہو رہے تھے، معلوم ہے نا دھرنے کون کروا رہا تھا، ہم نے دھرنوں کے باوجودآپ کے گھروں میں بجلی پہنچائی تھی، دھرنوں کے باوجود موٹرویز بنائی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گلگت سے اسکردو موٹروے نواز شریف نے بنائی تھی، چترال کی لواری ٹنل، گوادر سے کوئٹہ، پشاور سے اسلام آباد موٹر وے، اسلام آباد سے لاہور موٹروے، لاہور سے ملتان، ملتان سے رحیم یار خان اور وہاں سکھر موٹروے بھی ہم نے بنائی تھی، حیدر آباد سے کراچی موٹروے بھی ہم نے بنائی۔
انہوں نے کہا کہ نصراللہ خان کا مئی 2016 میں بجلی کا بل ایک ہزار 317 روپے اور پھر اسی بندے کا بل اگست 2022 میں 15 ہزار 687 روپے ہے، تو بجلی مہنگی شہباز شریف نے نہیں کی بلکہ اس زمانے سے مہنگی ہوئی جب آپ نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نکالا تھا۔
سابق وزیراعظم نے ایک اور بل کا ذکر کیا اور کہا کہ سعید اختر ایک غریب آدمی ہے اور ان کا بل مارچ 2017 میں جب نواز شریف وزیراعظم تھا تو 760 روپے تھا جبکہ اگست 2022 میں 8 ہزار 220 بل آتا ہے تو کیا یہ شہباز شریف نے کیا تھا، میں شہباز شریف کی صفائی بیان نہیں کر رہا بلکہ حقائق بیان کر رہا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ زخم اتنے لگے ہیں کہ بھرتے بھرتے وقت لگے گا لیکن میرے دل کے اندر کوئی انتقام کی تمنا نہیں ہے، نواز شریف کے دل میں بدلے کی کوئی تمنا نہیں، بس ایک ہی تمنا ہے کہ میری قوم کے لوگ خوش حال ہوجائیں، ان کے گھروں میں خوشیاں اور خوش حالی آئے، ان کے گھروں میں روشنی کے چراغ جلیں، روزگار ملے، باعزت پاکستانی بننے کا موقع ملے، غربت، بے روزگاری اور بیماری نہ ہو اور جہالت نہ ہو یہی نواز شریف چاہتا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میرے دل کے اندر کبھی بھی انتقام کا کوئی جذبہ نہ لے کر آنا۔ میں اس قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، میں نے پہلے بھی خدمت کی ہے۔ اللہ مسلم لیگ کو اور بھی توفیق دے کہ خدمت کا سلسلہ جاری رکھے۔ انہوں نے غالب کا شعر پڑھا کہ غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے، بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے۔ ہمارے زخموں کو نہ چھیڑیں ورنہ ہمارے اتنے آنسو آئیں گے کہ طوفان آجائے گا۔ آنسو کیوں نہیں آئیں گے، مریم نواز یہاں سامنے بیٹھی ہیں۔ ان سے پوچھیں کہ وہ اذیت کا لمحہ کوئی کیسے بھلا سکتا ہے کہ جب مریم کو قیدی باپ کے سامنے گرفتار کرکے لے جایا جا رہا تھا۔ نیب والے میرے آنکھوں کے سامنے قید کرنا چاہتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز میری پاس آئی اور کہا کہ یہ مجھے گرفتار کرنا چاہتے ہیں، کیا کروں تو میں نے کہا کہ ایک قیدی کیا کرسکتا ہے۔ قید کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں۔ ان کی چھوٹی بیٹی موجود تھی اور اپنی ماں کو گرفتار ہوتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ میں بھی اس مٹی کا بیٹا ہوں اور مریم بھی اس مٹی کی بیٹی ہے۔ پھر اتنا ظلم۔ شہباز شریف کو بھی جیل میں بھی بند کردیا، بیٹوں کو بھی بند کیا۔ رانا ثنااللہ کو بند نہیں کیا بلکہ سزائے موت دینے کے چکر میں تھے۔ حنیف عباسی کو بند نہیں کیا بلکہ سزائے موت دینے کے چکر میں تھے۔ خواجہ سعد رفیق کو دو سال جیل میں بند رکھا۔
مجھے 1990 سے لے کر آج تک 33 سال میں 15 سال یا تو ملک سے باہر یا جیل میں یا مقدمے بھگتتا رہا ہوں۔ اگر یہ وقت میں نے پاکستان کو دیا ہوتا تو یہ ملک جنت بنتا، ہم ملک پھر جنت بنائیں گے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں ایک دور گزرا ہے۔ اس دور کا کوئی ایک کارنامہ یا کوئی ایک منصوبہ بتاؤ جو انہوں نے بنایا تھا۔
ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا بیانیہ کیا ہے۔ ہمارا بیانیہ پوچھنا ہے تو پھر اورنج لائن سے پوچھو جو شہباز شریف نے بنائی۔ کراچی کی گرین لائن سے پوچھو، میٹرو بس سے پوچھو، ایک شہر نہیں کئی شہروں، پشاور، اسلام آباد موٹروے۔ چاغی کے ایٹمی دھماکوں سے پوچھو، روٹی کی قیمت، ڈالر کے ریٹ، غریب کے بجلی کے بلوں سے پوچھو۔
ہمارا بیانیہ پوچھان ہے تو پھر اخلاقیات سے پوچھو، آپ کو پتا ہے کہ ہماری اخلاقیات اور ان کے اخلاقیات میں کتنا فرق تھا۔ ہم وہ نہیں ہیں جو کسی کی پگڑی اچھالیں، یہ پگڑی اچھالنا ان کا کام تھا، ہمارا نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے عوام کو درپیش مسائل ہیں اس کے تحت کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ان کے اسباب پر غور کریں اور آئین کی روح کے مطابق متحد ہو کر مستقبل کا منصوبہ بنائیں۔ ہمارے آئین پر عمل درآمد کرنے والے ریاستی ادارے، جماعتیں اور ریاست کے ستونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ دنیا میں مقام حاصل کرنا چاہتے ہو تو سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس کا واحد حہل یہی ہے۔ میں پچھلے 40 سال کا نچوڑ بتا رہا ہوں، اس کے بغیر یہ ملک آگے نہیں بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ آئین پر عمل درآمد کرنے کے لیے سب کو اکٹھا ہونا پڑے گا۔ وہ بنیادی مرض دور کرنا پڑے گا، جس کی وجہ سے ملک بار بار حادثے کا شکار ہوتا ہے، ہمیں ایک نئے سفر کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ دور دور سے آئے ہیں، میرے ساتھ طے کریں کہ ہم ایک نئے سفر کا آغاز کریں گے۔ پورے جوش و خروش سے کریں گے۔ 4 سال کے بعد میرا جوش و خروش ٹھنڈا نہیں پڑا، میرا جذبہ ماند نہیں پڑا، میرا جذبہ آج بھی اتنا جوان ہے جتنا آپ کا ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، کہ کس طرح ہم نے کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے۔ ہمیں ڈبل اسپیڈ کے ساتھ دوڑنا پڑے گا۔ کسی طرح سے ہمیں ہاتھوں میں پکڑا ہوا کشکول توڑنا ہوگا۔ ہمیشہ کے لیے توڑنا ہوگا، اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ قومی غیرت اور قومی وقار کو بلند کرنا ہوگا، پاکستان کے اندر بے روزگار، غربت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ہمیں ایک باوقار اور فعال خارجہ پالیسی بنانی ہوگی، اپنے ہمسائیوں اور دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنے پڑیں گے۔ ہم اپنے ہمسائیوں کے ساتھ لڑائی کرکے دنیا کے ساتھ اچھا تعلق قائم نہیں کرسکتے، ترقی نہیں کرسکتے۔ ہمیں سب کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے ہوں گے۔
نواز شریف نے کہا کہ کشمیرکے حل کے لیے باوقار تدبیر کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے الگ نہ ہوتا تو آج مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان معاشی راہداری بن گئی ہوتی، جس کو بھارت بھی راہ دیتا اور پاکستان مل کر ترقی کرتا۔ لیکن ہم نے کہا کہ یہ کون لوگ ہیں مشرقی پاکستان کے رہنے والے۔ یہ تو پٹ سن اگاتے ہیں، یہ تو بوجھ ہیں اور اس بوجھ کو اتار کر زمین پر دے مارا۔ دیکھ لیں آج وہی مشرقی پاکستان ترقی میں ہم سے آگے نکل گیا ہے اور ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ ہمیں منظور نہیں ہے، یہ مسلم لیگ (ن)، نواز شریف، نواز شریف کے حامیوں اور ووٹرز اور یہ پاکستانی قوم کو منظور نہیں ہے۔ ہمیں اس صورت حال سے باہر نکلنا ہے اور کس طرح اپنے معاملات کو ٹھیک طرح چلانا ہے۔ میرا دل زخموں سے چور ضرور ہے ، دل درد سے بھرا ضرور ہے لیکن آپ کے ساتھ مل کر دعا کر رہا ہوں کہ اے میرے رب میرے دل میں رتی برابر بھی بدلے یا انتقام کی خواہش نہیں ہے بس تو اس قوم کی تقدیر بدل دے۔
سابق وزیراعظم نے کارکنوں سے کہا کہ میرے ساتھ مل کر دعا کرنی ہے اور میری عمر کے اس حصے میں میری آرزو ہے کہ میں ایک بدلا ہوا پاکستان دیکھوں۔ میں آج یہاں آپ کو جگانے آیا ہوں، آگے بڑھو اور پاکستان کو سنبھالو اور آئندہ کسی کو اجازت نہیں دینا کہ آپ کے ملک کے ساتھ کھلواڑ اور یہ سلوک کرسکے۔ میں نے بڑے ضبط اور صبر سے کام لیا ہے۔ کوئی ایسی بات نہیں کی جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے نہیں کرنی چاہیے۔
دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ سے فلسطین کی مدد کریں، ہم سب مل کر فلسطین کی مدد کریں۔ ان کو ظلم سے بچائیں، ان پر جو ظلم کا سلسلہ جاری ہے وہ انسانیت کے خلاف ظلم ہے۔ ہم اس ظلم کو ہر طرح سے مذمت کرتے ہیں۔ ہر طرح سے رد کرتے ہیں، دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ انصاف سے کام لو اور فلسطین کا باعزت حل نکالو اور ان کا حق ان کو دیا جائے۔ وہ بھی چین اور سکون سے زندگی گزار سکیں، ان کو حق سے محروم کرنا اور اس کا حق کسی اور کو دینا ہم کبھی قبول نہیں کریں گے۔ پاکستان اور پاکستان کے عوام کبھی اس کو قبول نہیں کریں گے۔
نواز شریف نے کہا کہ میں نے سوچا کہ گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، آپ سے بھی کہوں گا کہ آپ بھی گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا۔ اپنے نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ ملت کے مقدر کا ستارا ہیں۔ اپنی زندگیاں منفی کاموں میں گزارنے کے لیے آپ نہیں ہیں۔ راستا کٹھن ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ پاکستان کی دوبارہ تعمیر کریں گے، مل کر بجلی کا ریٹ کم کریں گے۔ ڈالر سستا کریں گے، مہنگائی کم کریں گے۔ بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے، موٹر ویز تعمیر کریں گے تو پھر ستے خیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا ایجنڈا یہی ہوگا کہ ہم نے یہ سارے کام کرنے ہیں، اپنے اخراجات میں کمی کرنی ہے۔ اپنے قومی ملکیت کے اداروں کا انتظام بہتر طریقے سے کرنا ہے۔ برآمدات بڑھانا ہے، زراعت میں انقلابی اصلاحات کرنی ہیں، پاکستان کو آئی ٹی پاور بنانا ہے، ان شااللہ۔ انصاف کے نظام میں اصلاحات لے کر آنی ہیں۔ خواتین اور نوجوانوں کے لیے خصوصی اقدامات کریں گے۔ شہباز شریف یہ گفتگو سن رہے ہیں، ان کو بھی کہہ رہا ہوں اور پارٹی کے سارے رہنماؤں کو عوام کو پیغام دے رہا ہوں کہ شہباز شریف نے جو وعدہ کیا وہ کرکے دکھایا ہے۔
نواز شریف نے دعا کی کہ اللہ ہمارے حال پر رحم فرما، ملک اور قوم کو مصیبتوں سے نجات عطا فرما۔ ہمارے گھروں میں خوش حالی کے اسباب پیدا کر، ہمارے بچوں کو باعزت روزگار عطا فرما۔ ہمیں مہنگائی سے نجات عطا فرما، ہمارے بچوں کو پڑھنے لکھنے توفیق عطا فرما۔ ہمارے بچوں کو پڑھ لکھ کر اچھے اور نیک شہری بننے کی توفیق عطا فرما۔ اس ملک میں اتنی صلاحیت ہے کہ باہر کے لوگ یہاں آکر کام کریں تو ببھی بے روزگاری نہیں ہوگی۔ روزگار اتنا پیدا کرسکتے ہیں کہ یہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ میرے پاس بھی تسبیح ہے، لیکن میں تسبیح اس وقت پھیرتا ہوں، جب کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ بغل میں چھری منہ میں رام رام مجھے نہیں آتا اور آپ بھی یہی کیا کرو۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم شہباز شریف نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نواز شریف کا استقبال کرنے آئی ہے۔ مینار پاکستان میں تاریخ میں پہلے کبھی اتنا بڑا جلسہ نہیں ہوا۔ نواز شریف نے ہر بار قوم کی تقدیر بدلی ہے، نواز شریف نے جیلیں کاٹیں، جلاوطنی برداشت کی لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
اس سے قبل نواز شریف اسلام آباد ایئرپورٹ پر امیگریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد خصوصی پرواز میں لاہور کی طرف روانہ ہوئے۔ لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی اور پارٹی قائد کا استقبال کیا۔