فوجی عدالتوں میں شہریوں کا ٹرائل شروع، حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا

  • اتوار 22 / اکتوبر / 2023

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کا ٹرائل شروع ہوچکا ہے۔

وفاقی حکومت نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع ہونے سے متعلق سپریم کورٹ کو متفرق درخواست میں آگاہ کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے 3 اگست کے حکمنامے کی روشنی میں عدالت کو ٹرائلز کے آغاز سے مطلع کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت نے متفرق درخواست میں بتایا کہ 9 اور 10 مئی کے واقعات کی روشنی میں 102 افراد گرفتار کیے گئے۔ زیر حراست افراد کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹرائل کیا جا رہا ہے اور جو فوجی عدالتوں میں ٹرائل میں قصوروار ثابت نہ ہوا وہ بری ہوجائے گا۔

متفرق درخواست کے مطابق فوجی عدالتوں میں ہونے والا ٹرائل سپریم کورٹ میں جاری مقدمے کے فیصلے سے مشروط ہوگا۔ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے بعد جو قصوروار ثابت ہوگا ان کو معمولی سزائیں ہوں گی جبکہ 9 اور 10مئی کے واقعات میں ملوث جو افراد جرم کے مطابق قید کاٹ چکے انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ فوجی ٹرائل کے بعد سزا یافتہ افراد قانون کے مطابق سزاؤں کے خلاف متعلقہ فورم سے رجوع کر سکیں گے۔

متفرق درخواست میں بتایا گیا کہا فوجی تحویل میں لیے گئے افراد کو پاکستان آرمی ایکٹ1952 اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت گرفتارکیا گیا تھا۔ گرفتار افراد جی ایچ کیو راولپنڈی،کور کمانڈر ہاؤس لاہور، پی اے ایف بیس میانوالی،آئی ایس آئی سول لائنزفیصل آباد پرحملے میں ملوث ہیں، گرفتار افراد حمزہ کیمپ، بنوں کیمپ اور گوجرانوالہ کیمپ پر حملے میں ملوث ہونے پرتحویل میں ہیں۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل عدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ کاز لسٹ کے مطابق فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کے خلاف کیس کی سماعت 23 اکتوبر بروز پیر دن ساڑھے 11 بجے شروع ہوگی۔ جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کرےگا، جسٹس منیب اختر،جسٹس یحی آفریدی،جسٹس مظاہر نقوی اورجسٹس عائشہ ملک بینچ میں شامل ہیں۔