غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں تیزی، مزید 55 فلسطینی جاں بحق
اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں میں تیزی کے اعلان کے بعد حماس نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی پر رات گئے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 55 افراد جاں بحق ہوگئے۔
خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیل نےغزہ پر شدید حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ گزشتہ شب اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں مزید 55 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے۔ حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ ترجمان اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں میں اضافے کے اعلان کے بعد چند گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 30 سے زائد مکانات کو تباہ کر دیا گیا۔
شام کے سرکاری میڈیا نے عسکری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شام کے 2 اہم ہوائی اڈے غیرفعال ہوگئے ہیں۔ وزارتِ نقل و حمل نے پروازوں کو اللاذقیہ کی جانب موڑ دیا ہے۔ ذرائع نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’سانا‘ کے ذریعہ جاری کردہ بیان میں کہا کہ صبح اسرائیل کے فضائی حملے میں دمشق اور حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دمشق کے ہوائی اڈے پر ایک شہری کی موت واقع ہوگئی اور دوسرا زخمی ہو گیا۔
فلسطینیوں نے کہا ہے کہ انہیں اسرائیلی فوج کی جانب سے شمالی غزہ سے جنوب میں منتقل ہونے کے لیے نئی وارننگز موصول ہوئی ہیں۔ یہ اضافی انتباہ بھی دیا گیا ہے کہ اگر وہ وہیں رہے تو انہیں ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ کا ہمدرد سمجھا جائے گا۔ خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ پیغام گزشتہ روز سے غزہ کی پٹی میں موجود تمام لوگوں کو اسرائیل ڈیفنس فورسز کے نام اور لوگو کے ساتھ پمفلٹس اور موبائل فون آڈیو پیغامات کے ذریعے بھیجا گیا۔
پمفلٹ میں لکھا تھا کہ ’غزہ کے رہائشیوں کے لیے فوری انتباہ! وادی غزہ کے شمال میں آپ کی موجودگی آپ کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ جو کوئی بھی شمالی غزہ سے جنوب میں نہ جانے کا فیصلہ کرے گا، اسے ایک دہشت گرد تنظیم کا حامی سمجھا جائے گا‘۔
اسرائیلی فوج نے غزہ میں طے شدہ زمینی کارروائی سے قبل حملے تیز کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب اقوام متحدہ کے اداروں نے غزہ میں تباہ کن انسانی صورتحال سے خبردار کیا ہے۔ خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان جنرل ڈینیل ہگاری نے کہا کہ اسرائیل اب بمباری کو تیز کرے گا تاکہ زمینی حملے کے دوران اپنے فوجیوں کو درپیش خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ آج سے ہم حملوں کو تیز کر رہے اور خطرے کو کم کر رہے ہیں۔ ہم حملوں میں اضافہ کریں گے، اس لیے میں نے غزہ شہر کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے جنوب کی جانب بڑھتے رہیں۔
امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں کہا گیا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ ایران دہشت گرد گروہوں کو اسلحے کی فراہمی بند کر دے جو پورے خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق مسودے کے متن میں شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ریاستوں کو دہشت گرد حملوں کا جواب دیتے وقت عالمی قانون کی تعمیل کرنی چاہیے۔
یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ امریکا کا اس قرارداد کے مسودے پر ووٹنگ کب کروانے کا ارادہ ہے۔ قرارداد منظور ہونے کے لیے اِس کے حق میں کم از کم 9 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ لازمی ہوتا ہے کہ روس، چین، امریکا، فرانس یا برطانیہ کی طرف سے کوئی اسے ویٹو نہ کرے ۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک حالیہ پریس ٹاک میں اعتراف کیا کہ 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کرکے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے عمل میں خلال ڈالنے کا اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ جوبائیڈن نے واشنگٹن میں فنڈ ریزنگ کی ایک تقریب میں کہا تھا کہ حماس کے اسرائیل پر حملے کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ میں سعودی قیادت کے ساتھ اس معاملے پر بات کرنے والا ہوں۔ سعودی اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتے تھے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ فلسطینیوں کو مزید تنہا کردیتا جنہیں اس پورے عمل سے باہر رکھا گیا تھا۔ حالانکہ اس معاہدے کا ان کے مستقبل پر سب سے زیادہ اثر پڑنا تھا۔