سائفر کیس: عمران خان، شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد

  • سوموار 23 / اکتوبر / 2023

آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں فرد جرم عائد کردی۔

آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ پر جرم عائد کی گئی جب کہ دونوں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

عدالت نے ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے 27 اکتوبر کو گواہان کو طلب کرلیا۔ اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے بتایا کہ چالان کی نقول تقسیم کرنے کے حوالے سے آج بھی وکلا نے بحث کی۔ آج کا دن فرد جرم عائد کرنے کے لیے مقرر تھا، اوپن کورٹ میں فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی۔ فرد جرم سنتے وقت چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی عدالت میں موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سائفر کیس کی آئندہ سماعت 27 اکتوبر کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ اگلی سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو عدالت نے طلب کرلیا ہے۔

دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل ایڈووکیٹ عمیر نیازی نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے مؤکل نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ عمران خان نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر سوال اٹھایا ہے۔ وکیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کا حوالہ دیتے کہا کہ ان کے خلاف سازش کی گئی اور ان کی حکومت گرائی گئی۔

عدالت نے مدعا علیہان کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد کی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین اور شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب تک کیس سے متعلق تمام دستاویزات نہیں مل جاتیں وہ الزامات کا جواب نہیں دے سکتے۔

یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے 30 ستمبر کو عدالت میں چالان جمع کرایا تھا جس میں مبینہ طور پر عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشنز 5 اور 9 کے تحت سائفر کا خفیہ متن افشا کرنے اور سائفر کھو دینے کے کیس میں مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔

ایف آئی اے نے چالان میں 27 گواہان کا حوالہ دیا۔ مرکزی گواہ اعظم خان پہلے ہی عمران خان کے خلاف ایف آئی اے کے سامنے گواہی دے چکے ہیں۔ اعظم خان نے اپنے بیان میں مبینہ طور پر کہا تھا کہ عمران خان نے اس خفیہ دستاویز کا استعمال عوام کی توجہ عدم اعتماد کی تحریک سے ہٹانے کے لیے کیا جس کا وہ اُس وقت بطور وزیر اعظم سامنا کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ اس کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی 10 اکتوبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ کیس کی گزشتہ سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی جس کے بعد انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا۔