لوٹ آئے!

شفیق سلیمی کی پہچان بننے والا شعر ہے:
بے نام دیاروں کا سفر کیسا لگا ہے
 اب لوٹ کے آئے ہو تو گھر کیسا لگا ہے؟

 یہ شعر محاورتاً تو نواز شریف سے پوچھا جا سکتا ہے مگر معنوی اعتبار سے نہیں۔ کیونکہ میاں نواز شریف نے بے نام دیاروں کا سفر نہیں کیا۔ وہ تو پیدائشی طور پر شہزادے ہیں،

جنہیں ان کے والد نے بڑے لاڈ پیار سے پالا اور ضیا کے دور میں پنجاب کے گورنر جنرل غلام جیلانی کی کابینہ میں شامل کروایا اور صوبائی حکومت کا وزیر خزانہ بنوایا۔
لاڈوں پلے جس گورے چٹے سرمایہ دار نوجوان کو شملہ پہاڑی کے نزدیک ریڈیو پاکستان کے پہلو میں کھڑی عمارت کے ایک سجے سجائے کمرے میں بیٹھ کر اپنی فیکٹریوں کے معاملات دیکھنے تھے اسے یکدم ایک چھینی گئی میراث واپس دلا کر حکومتی ایوانوں کی طلسماتی فضا میں داخل کردیا گیا۔ جہاں کا ماحول اچھے خاصے دانش مند کی مت مار دیتا ہے۔ شریف خاندان کا بظاہر بھولا بھالا لاڈ پیار میں پلا نوجوان کیسے اپنے حواس میں رہ سکتا تھا۔ مگر والد محترم کے سایۂ عاطفت نے اپنے بیٹے کی قدم قدم پر رہنمائی کرتے ہوئے اسے دنیا داری کے سارے نشیب و فراز سمجھاتے ہوئے، دو تین بنیادی گر سمجھا دیے۔ بقول شخصے جن کا جوہر یہ تھا کہ دولت مند کے لئے دنیا وی اخلاقیات بھی اس کی خواہشات کے مطابق وضع ہوتی ہیں اور خواہشات کی تکمیل کیلیے ہر چیز خریدی جاسکتی ہے۔ یہاں تک کہ بندے بھی.. جن کی قیمت ان کے ماحول، سماجی مرتبے، ملبوس اور رہن سہن کے مطابق طے کرنا ہوتی ہے۔

اپنا ہدف حاصل کرنے کے لئے جو جس قیمت پہ خریدا جا سکتا ہے خریدو اور آگے بڑھنے میں ہر رکاوٹ روند ڈالو ... دولت میں دن دوگنا رات چوگنا اضافہ کس طرح کرنا ہے یہ گر تو بچپن میں ہی سکھا دیا گیا تھا۔ سو جب نواز شریف کو کارِ سرکار سونپنے کے لئے مقتدرہ کے حوالے کیا گیا تو وہ جانتے تھے کہ لوہا کب، کیسے اور کتنا گرم ہو تو اسے کہاں اور کتنی قوت سے ہتھوڑے کی ضرب لگانی ہے کہ وہ آپ کی مطلوب شکل میں ڈھل جائے۔ اس کے بعد اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے کتنے پانی میں بھگونا ہوتا ہے ؟ وہ پانی کتنا ٹھنڈا ہو کہ آگ بگولہ لوہے کی ساری حدت اس میں گھل جائے اور اسے اتنا ٹھنڈا کردے کہ لوہار کیا، اس کا کاریگر بھی اسے بلا خوف  ہاتھ میں پکڑ سکے۔

لوہے کی صنعت گری کا فن مشکل ترین ہے مگر باکمال لوگ اپنی ہنر مندی سے اسے زرگری کے فن جیسا بنا ڈالتے ہیں۔ اور بیک وقت لوہار و سنار کی صناعی ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن جاتی ہے یہاں تک کہ وہ چوبی ہتھوڑے کے استعمال کا ہنر آزمانے میں بھی مشاق ہو جاتے ہیں۔ لوہار اور سنار کے بھاری و ہلکے ہتھوڑے کے ساتھ چوبی ہتھوڑے کا تال میل ایک عجیب جلترنگ کا سماں باندھتا ہے جس کی مدھرتا سماعتوں پر سامرانہ ( سامری سے مشتق نظریہ ضرورت کے تحت تراشا گیا) اثرات مرتب کرتی ہے، تو کیف و سرور کا وہ عالم ہوتا کہ حالتِ سرشاری میں کسی کو اپنے پرائے کی تمیز تو کیا اپنے آپ کی خبر نہیں رہتی۔

ایسے میں اس سے سرزد ہونے والے افعال اس کی ذات سے جڑے ہر کس و ناکس کو ضرور متاثر کرتے ہیں مگر خود اس کی اپنی ذات گرد و پیش سے ورا ہی پائی جاتی ہے۔ اس لیے اسے ہوش و خرد میں آنے تک کے دورانیہ کے بارے میں آگاہی نہیں رہتی۔  ہو بھی تو وہ اس کے اظہار میں مصلحت پسندی سے کام لیتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ کون جانتا ہے کہ مصلحت پسندی وہ کلید ہے جس سے سیسہ پلائی دیوار میں بھی در بنایا جا سکتا ہے۔ لوہار سے زیادہ سیسے کی اوقات کا کسے ادراک ہوگا؟
آئیے اک غزل پڑھیں جو لکھی تو کئی برس پہلے تھی مگر معنویت آج آشکار کر رہی ہے :
کتاب ِزندگی کو سوچ کر پڑھا جائے
جو ہو سکے تو اسے عمر بھر پڑھا جائے
یہ پہلی بار میں ہم کو سمجھ نہیں آئی
تو کیوں نہ پھر اسے بارِدگر پڑھا جائے
کھلی پڑی ہے مرے سامنے کتابِ زیست
ہے پیش لفظ ہی اس کا خبر پڑھا جائے
نوشتِ فردا کو پڑھنا بہت ضروری ہے
زمانہ حال میں، ماضی مگر پڑھا جائے
قدیم شہر کی تہذیب مٹتی جاتی ہے
فصیل کھینچ کے اک ایک گھر پڑھا جائے
کسی فصیل کی تاریخ جاننے کے لیے
یہ لازمی ہے کہ پہلے سے در پڑھا جائے
گزشتہ دور کے اوراق پہ رقم ہے کیا
برائے خواندگی زیرِنظر پڑھا جائے
یہ کائنات کے اسرار کھل بھی سکتے ہیں
یہی ہے شرط کہ دست ِہنر پڑھا جائے
جو گل بدست سی اک شاخ ٹوٹ کر گر جائے
قلم لگا کے اسے اک شجر پڑھا جائے
ہے ابر آبِ تحیر کی خود نوشت کا باب
ہوا کے ساتھ اسے باندھ کر پڑھا جائے
ہر ایک گام  درختوں پہ لکھتا جاتا ہوں
کہ راستوں کو مرا ہم سفر پڑھا جائے!