پاکستان کمپرومائزڈ ملک ہے
- تحریر مختار چوہدری
- سوموار 23 / اکتوبر / 2023
اس وقت پاکستان کا تازہ اور گرما گرم موضوع میاں نواز شریف صاحب کی جاہ و جلال کے ساتھ واپسی ہے۔ مگر یہ خاکسار اس کی بجائے اس موضوع پر لکھنا چاہتا ہے جس کی بدولت یہ سب موضوعات بنتے ہیں۔ اور وہ موضوع ہے کمپرومائزڈ ہونا یعنی پاکستان میں رہنے کے لیے آپ کو کمپرومائزڈ ذہن بنا کر رہنا پڑتا ہے۔
آپ اگر کمپرومائزڈ ہیں تو پھر سمجھیں کہ آپ کے لیے خیر ہی خیر ہے. اگر آپ کمپرومائزڈ نہیں ہیں تو پھر اپنی خیر منائیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایک دو قتل بھی کر دیتے ہیں تو پولیس سے کمپرومائز کریں، وکیل سے کمپرومائز کریں، جج صاحب اور ان کے عملے سے کمپرومائز کریں۔ پھر آخر کار ان سب کی سہولتکاری سے آپ مقتول کے وارثوں سے بھی کمپرومائز کرکے باعزت بری ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد علاقے کے بڑے معتبر بن سکتے ہیں۔ اگلا الیکشن بھی آپ ہی جیتیں گے۔ لیکن اگر آپ نے کمپرومائز نہ کیا تو پھر جیل میں سڑیں گے یا گولی کا نشانہ بن جائیں گے۔
دوسری مثال، اگر آپ پاکستان میں کاروبار کر رہے ہیں. تو ٹیکس کے محکمہ اور ان کے مائی باپ (جو سب کے مائی باپ ہیں) سے کمپرومائز کریں پھر جتنا مرضی مال اکٹھا کریں، بیرون ملک جائیدادیں بنائیں، بچوں کی شادیوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کریں کسی کی مجال نہیں کہ آپ کو پوچھ سکے کہ آپ کی دولت آپ کے ٹیکس ادائیگی کے حساب سے آمدن سے کہیں زیادہ ہے۔ اور یہ کہاں سے آئی ہے؟ اور اگر آپ نے کمپرومائز نہ کیا تو پھر آپ پوری ایمانداری سے کاروبار کر کے اور پورا پورا ٹیکس دے کر بھی کہیں نہ کہیں پھنس سکتے ہیں۔
تیسری مثال سرکاری ملازمین اور افسران کی ہے۔ جو ملازمین اور افسران اپنے سے اوپر والوں کے ساتھ کمپرومائز (تعاون) کرتے ہیں، وہ اپنے اختیارات کا جائز ناجائز جیسے مرضی استعمال کریں۔ دفاتر میں جب مرضی جائیں اور جب مرضی چھٹی کریں، انہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی۔ اور جو اپنی دیانت اور فرض شناسی کے بل بوتے پر انعام کی خواہش رکھتے ہیں انہیں خوار ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اسی طرح عوام میں سے جس کو بھی کسی سرکاری دفتر میں کام ہو وہ جتنا تعاون کرے گا اسی کے مطابق اس کا کام جلدی اور اس کی مرضی کے مطابق ہوگا۔ جو تعاون نہیں کرے گا وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگا۔
اب ذرا آگے چلتے ہیں جہاں سے سب کچھ شروع ہوتا ہے. سیاستدان جنہوں نے اس ملک کا نظام بنانا ہوتا ہے، وہ جب سیاست میں آتے ہیں اور انتخابات میں جاتے ہیں تو سب سے پہلے وہ ریاست کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور اصل مقتدرہ سے عہد کرتے ہیں کہ ’ہم تیرے تھے. تیرے ہیں اور تیرے رہیں گے‘ اور ساتھ قائد اعظم کی تصاویر بھی پیش کرتے ہیں۔ اور وعدہ کرتے ہیں کہ ہم جب جب آپ کے پاس آئیں گے ساتھ بے حساب قائد اعظم لائیں گے. پھر جس سیاسی جماعت کی ٹکٹ حاصل کرنا ہوتی ہے، اس جماعت کی قیادت سے پورا پورا کمپرومائز کرتے ہیں۔ اس کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔ اس کے بعد عوام کے ساتھ بریانی کا تعاون کرتے ہیں اور ووٹرز میں جو ہوشیار ہوتے ہیں، ان کے ساتھ تھوڑا زیادہ تعاون کرتے ہیں اور پھر انتخابات میں کامیاب ہو کر سارے حساب برابر کرنے کے بعد آگے مستقبل کے ٹھکانوں اور اگلے انتخابات کے بندوبست بھی کر لیتے ہیں۔
زیادہ تگڑے سیاستدان اگلی سات نسلوں کے لیے بھی مال اور جائیداد اکٹھے کر لیتے ہیں۔ جب کبھی یہ سیاستدان اپنے عہد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کمپرومائز سے انکار کرتے ہیں تو پھر انہیں جیل جانا پڑتا ہے یا پھر جلاوطن کر دیا جاتا ہے۔ اور جب کبھی دوبارہ کمپرومائز پر آمادہ ہو جائیں تو پھر پورے پروٹوکول کے ساتھ واپس آ کر پھر سے حکمران بن سکتے ہیں۔ مجھے تو اب یہ شبہ ہونے لگا ہے کہ یہ ملک کا معرض وجود میں آنا بھی کسی کمپرومائز کا کمال ہی تو نہیں تھا؟
کیا پتا کچھ سامراجی طاقتوں کو اس خط میں ایک ایسے زمین کے ٹکڑے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو جس میں بیٹھ کر سازشیں تیار کی جا سکیں اور اپنے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ بظاہر تو یہ ملک قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں جدوجہد سے پاکستان بنا تھا جس کے لیے لاکھوں عوام نے اپنی جان، مال اور عزتوں کی قربانیاں دی تھیں۔ لیکن ملک کے معرض وجود میں آ جانے کے بعد کسی نے ان قربانیوں کو یاد رکھا نہ قائد کے فرمودات پر کوئی عمل ہوا۔ بلکہ قائد کی ایمبولینس میں تیل بھی نہ ڈالا جا سکا تھا۔ اگر ملک واقعی قائد اعظم کی ذہانت اور عوام کی قربانیوں کی بدولت آزاد ہوا تھا تو پھر قربانیاں دینے والوں کی نسلیں آج غلام کیوں ہیں۔ ان کے اوپر روزگار، تعلیم، صحت اور عزت کے دروازے کیوں بند ہیں؟ اور پاکستان کی مخالفت کرنے والوں اور قائد کے منشور و مشن کو پاؤں میں روندنے والوں کی نسلیں منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ اس ملک کے وسائل بھی انہی کے لیے ہیں، آئین اور قانون بھی انہی کے گھر کی لونڈیاں ہیں۔
دوسری طرف یہ بات زبان زد عام ہے کہ اس ملک کے تمام بڑے عہدوں کی منظوری بھی کسی طاقتور ملک کی ایما پر ہوتی ہے. ہمارے ملک کی بہت ساری مذہبی اور سماجی تنظیموں کو بھی دوسرے ممالک کنٹرول کرتے رہے ہیں اور وہی ان کی مالی مدد بھی کرتے ہیں۔ یعنی یہ تنظیمیں بیرون ملک کمپرومائزڈ ہیں اور ادھر ہی سے تعاون لیتی ہیں۔ اب دیکھیں نا کہ مولانا طاہر اشرفی صاحب ہر آنے والی حکومت میں شامل ہو کر وزیراعظم کے مشیر، معاون یا نمائندہ خصوصی بن جاتے ہیں۔ اب ان کی پیٹھ پر کسی طاقت کا ہاتھ تو ہوگا جو ان کی اتنی اہمیت ہے۔ ہم بھی کمپرومائزڈ ہو سکتے ہیں، مسئلہ مگر یہ ہے کہ اس ملک کے 85 فیصد عوام کی اتنی سکت ہی نہیں کہ وہ ہر کسی سے تعاون کر سکیں۔ لہذا یہ ملک صرف ان کا ہے، جن کے پاس کمپرومائز کرنے کے لیے وسائل ہوتے ہیں۔ یا وہ کمپرومائز کرکے وسائل پر قابض ہوتے ہیں۔