نواز شریف کو توشہ خانہ کے بعد ایون فیلڈ، العزیزیہ ریفرنس میں بھی ضمانت مل گئی

  • منگل 24 / اکتوبر / 2023

اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں ضمانت ملنے کے بعد ہائی کورٹ نے بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں دی گئی ضمانت میں 26 اکتوبر تک توسیع کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی خصوصی بینچ نے نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس پر سزا کے خلاف اپیل کی بحالی کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڈ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں نواز شریف کے وارنٹ واپس لے لیے ہیں اور مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ہمارے پاس دو الگ الگ درخواستیں ہیں۔ دونوں درخواستیں سزا کے خلاف اپیلیں بحال کرنے سے متعلق ہیں اور ہمیں ان پر نوٹسز جاری کرنے ہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ درخواستوں کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ درخواست گزار وجہ بتائے کہ وہ کیوں عدالت سے غیر حاضر رہا۔

اعظم نذیر تارڈ نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی تھی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل سے سوال کیا کہ اگر کوئی اور ہائی کورٹ باہر جانے کی اجازت دیتی ہے تو کیا یہ ہو سکتا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن نے سوال کیا کہ جب اپیلوں کی بحالی کی درخواستیں دائر ہوں تو عدالت کس قانون کی پیروی کرے۔

چیف جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ یہ روٹین کا معاملہ نہیں، یہ شوکاز کا معاملہ ہے۔ ہم دوسرے فریق کو نوٹس کریں گے، وہ جواب دیں گے۔ پھر آپ آ کر وجوہات بتا دیجیے گا، عدالت کا آپ کی وجوہات سے مطمئن ہونا ضروری ہے۔ اعظم نذیر تارڈ نے کہا کہ آپ ہماری حفاظتی ضمانت میں توسیع کر دیں تاکہ ہم مزید تیاری کے ساتھ آ سکیں۔

پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ اگر حفاظتی ضمانت میں توسیع کردی جائے تو ہمیں اعتراض نہیں جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ وہی نیب ہے، جس پر عدالت میں قہقہے بلند ہوئے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ میں ان مقدمات میں 5 سال بعد واپس آیا ہوں۔ 5 پانچ سال بعد سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کیا یہ وہی نیب ہے۔ کیا نیب کہہ رہی ہے کہ کرپٹ پریکٹسز کے الزامات برقرار رہیں لیکن ملزم کو چھوڑ دیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی سزا کے خلاف درخواستیں بحال کرنے کی درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کیا اور جمعرات 26 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں بھی جمعرات تک توسیع کردی۔

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم نواز شریف توشہ خانہ کیس میں چار سال بعد احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش ہوئے جہاں ان کی ضمانت منظور کرلی گئی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف آج سرنڈر کرنے کی غرض سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور احتساب عدالت اسلام آباد میں پیش ہوئے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے بعد انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی۔ عدالت کی جانب سے نواز شریف کی حاضری لگانے کی ہدایت کی گئی۔ نواز شریف سے عدالتی پیپر پر دستخط کرا لیے گئے۔ اس دوران کمرہ عدالت میں شور شرابہ اور دھکم پیل کی کیفیت دیکھی گئی جس پر تنگ آکر عدالت نے نواز شریف کو کمرہ عدالت سے واپس جانے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس کیس کی سماعت 20 نومبر تک ملتوی کر تے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر نقول تقسیم کی جائیں گی۔عدالت نے جائیداد ضبطی کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 نومبر کو جائیداد ضبطی کی درخواست پر دلائل طلب کر لیے۔

دوسری طرف حکومت پنجاب نے العزیزیہ ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی سزا معطل کر دی ہے۔ سزا معطلی کے فیصلے کی پنجاب کے نگراں وزیر اطلاعات اور سابق وزیر اعظم کے وکیل نے تصدیق کی ہے۔ پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر اور نواز شریف کے وکیل امجد پرویز دونوں نے ڈان ڈاٹ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اس پیشرفت کی تصدیق کی۔