لیول پلیئنگ فیلڈ کیوں نہیں؟

اگرچہ 1970میں ہونے والے پہلے عام انتخابات کے بعد ہمارے ہاں کسی بھی الیکشن میں تما م سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کے ایک جیسے مواقع (لیول پلیئنگ فیلڈ) نہیں ملے لیکن اس بار اس معاملے پر کچھ زیادہ ہی شور مچایا جا رہا ہے۔ہمارے ہاں شروع دن سے ہی عام انتخابات کے قریب کسی ایک جماعت یا اتحاد کے حق میں حالات سازگار بنا دئیے جاتے ہیں یعنی اس کی ہوا چلا دی جاتی ہے جب کہ دیگر جماعتیں یا کوئی ایک مخصوص جماعت لیول پلیئنگ فیلڈ سے محروم کر دی جاتی ہے۔

عام طور پرنگران حکومتوں کا کام ملک میں آزادانہ ومنصفانہ انتخابات کو یقینی بنانا ہوتا ہے اور یہ کام لیول پلیئنگ فیلڈ دئیے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا لیکن ہمارے ہاں یا تو نگران حکومتیں ہی لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کرنے کے معاملے میں دھاندلی کر جاتی ہیں یا پھر "نگرانوں کے نگران" اپنا کام ایسی مہارت سے دکھا جاتے ہیں کہ ساری کی ساری "پلیئنگ فیلڈ"کسی ایک جماعت کو مل جاتی ہے اور کسی ایک جماعت کو کھیلنے کے لیے"فیلڈ"ہی نہیں مل پاتی۔جس سیاسی جماعت یا اتحاد کو مرضی کی " پلیئنگ فیلڈ مل جاتی ہے اس کے نزدیک سارا انتخابی عمل شفاف ہوتا ہے اور جن جماعتوں کو اپنے حق میں جانے والی "فیلڈ " نہیں ملتی وہ لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا واویلا مچاتے ہوئے قبل از وقت ہی انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھا نے لگتی ہیں۔

دیکھا جائے توسیاسی جماعتیں لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا شکوہ 1977کے انتخابات سے کرتی چلی آ رہی ہیں لیکن ماضی بعید میں لیول پلیئنگ فیلڈ کی اصطلاح عام نہ ہونے کے باعث سیاسی جماعتیں اسے قبل از وقت انتخابی دھاندلی سے تعبیر کرتی تھیں۔اگرچہ ماضی کی طرح انتخابی دھاندلی اب بھی تین مراحل(الیکشن سے قبل، الیکشن میں اور بعد ازاں الیکشن) پر ہی ہوتی ہے لیکن اب الیکشن سے پہلے مختلف ہتھکنڈوں سے کی جانے والی دھاندلی کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔لیول پلیئنگ فیلڈ کی اصطلاح ہمارے ہاں زیادہ تر سیاسی و انتخابی حوالوں سے استعمال ہوتی ہے لیکن اگر اسے وسیع معنوں میں لیا جائے تو اسے ریاست کی جانب سے سماجی و معاشی اور سیاسی و انتخابی سطحوں پر تمام شہریوں کو رنگ و نسل اور دولت و عقیدہ کے امتیاز کے بغیر دئیے جانے والے یکساں اور مساوی مواقع کہا جا سکتا ہے۔جائزہ لیا جائے تو ہمارے ہاں کسی بھی سطح پر ریاست کی جانب سے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔سماجی سطح پر مذہبی وسیاسی اشرافیہ کو عام لوگوں سے ہٹ کر "فیلڈ"مہیا کی جاتی ہے جب کہ قانون و انصاف کے معاملات میں بھی لیول پلیئنگ فیلڈ کا کوئی رواج نہیں۔قانون صرف کمزوروں اور غریبوں کے لیے ہے اور انصاف تک رسائی کا حق صرف اشرافیہ اور طاقت ور طبقے کو حاصل ہے۔

ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں ایک بڑا فرق لیول پلیئنگ فیلڈ کا ہے۔ترقی یافتہ ملکوں میں تمام شہریوں کو سماجی و مذہبی اور معاشی وسیاسی سطح پر لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی جاتی ہے جب کہ ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک کے شہریوں کوکسی بھی سطح پر لیول پلیئنگ فیلڈ مہیا کرنے کے انتظامات نہیں کیے جاتے۔ہمارے ہاں سماج سے لے کر سیاست تک ہر میدان میں لیول پلیئنگ فیلڈ کا کوئی رواج نہیں رہا۔یہاں نہ تو ڈومیسائل برابر سمجھے گئے اور نہ ہی مختلف عقیدے اور مسالک رکھنے والوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی گئی۔بنگالیوں نے ایسے ہی ہم سے الگ ہونے کا فیصلہ نہیں کیا بل کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پیچھے دو دہائیوں تک سماجی، معاشی اور سیاسی سطح پر لیول پلیئنگ فیلڈ کا مہیا نہ کیا جانا ہی تھا۔ایک 70کے انتخابات میں بنگالیوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ کا موقع ملا لیکن ہم نے انتخابات کے نتائج کی بنیاد پر بننے والی حکومت کو تسلیم نہ کر کے لیول پلیئنگ فیلڈ کے اصول کی بدترین خلاف ورزی کی۔اگرچہ 70کے انتخابات میں بنگالیوں کو ملنے والے لیول پلیئنگ فیلڈ میں مقتدرہ کا کوئی رول نہیں تھا لیکن اس کے نتائج و اثرات کو دیکھتے ہوئے ملک کے "بڑے"اتنے محتاط ہو گئے کہ انہوں نے پھر اگلے کسی بھی الیکشن میں لیول پلیئنگ فیلڈ کو ممکن ہی نہیں ہونے دیا۔اگرچہ پچھلے 15سالوں سے سے ملک میں براہ راست آمریت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود سیاسی و انتخابی نظام پر مقتدرہ کا اثر ورسوخ اتنا گہرا ہے کہ اس کی مرضی ومنشاء کے بغیر اول تو حکومت بن ہی نہیں سکتی اور بن جائے تو چل نہیں سکتی۔

 آنے والے عام انتخابات میں سیاسی لیول پلیئنگ نہ ملنے کی بات اپنی جگہ حقیقت ہے لیکن یہ کوئی پہلی بار نہیں ہو رہا۔زیادہ پیچھے جانے کی بجائے موجودہ صورت حال کا 2018کے عام انتخابات سے موازنہ کر کے دیکھ لیں تو صاٖ ف پتہ چل جائے گا کہ اس وقت لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا سب سے زیادہ واویلا وہی جماعت مچا رہی ہے جسے پچھلے عام انتخابات میں اپنی مرضی کی "پلیئنگ فیلڈ"دی گئی۔آج اگر عمران خان یا ان کی جماعت زیر عتاب ہے تو پچھلے انتخابات سے قبل نواز شریف اور ان کی جماعت کو دیوار سے لگا دیا گیا تھا۔آج میڈیا کو بکاؤ کہنے والے ٹھنڈے دماغ سے سوچ لیں کہ ماضی میں اسی میڈیا کو گدی سے پکڑ کر دن رات"چور ڈاکو "کی گردان کروائی گئی تھی۔کھلی آنکھوں سے دیکھا جائے تو پچھلے عام انتخابات سے قبل بھی نہ صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کو نااہل کرایا گیابل کہ اس جماعت کے مرکزی قائدین کو قید وبند رکھ کے لیول پلیئنگ فیلڈ سے یکسر محروم کیا گیا۔

 کوئی شک نہیں کہ آج کے حالات میں ایک جماعت پر سیاسی جبر اپنی انتہاؤں پر ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں اس جماعت کو اقتدارکی مسند تک لانے کے لیے ایک جماعت کو خاص طور پر سیاسی جبر کا نشانہ بناکر لیول پلیئنگ فیلڈ سے محروم رکھا گیا۔کوئی شک نہیں کہ آنے والے انتخابات کے لیے عمران خان کو نااہل کر کے مائنس کر دیا گیا ہے لیکن نواز شریف کو دیکھیں تو انہیں اکیسویں صدی کی دو دہائیوں میں ہونے چار انتخابات میں سے تین میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کی بات کریں تو پی ٹی آئی کی نسبت (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی زیادہ سیاسی جبر کا شکار ہوئی ہیں۔کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی کا سیاسی جبر اور تنہائی منفرداور شدید نوعیت کی ہے لیکن اس کی بڑی وجہ 9مئی کا بوجھ ہے۔پی ٹی آئی کی نسبت دیگر کوئی جماعت 9مئی جیسی انتہا تک نہیں گئی۔