اس ملک کو بچالو نواز شریف

21اکتوبر کو نواز شریف کی وطن واپسی پر ن لیگ ایک بڑا عوامی جلسہ کرنے میں کامیاب رہی اس خدشے کا اظہار کیا جارہا تھا کہ موجودہ مایوس کن حالات میں لاہور کے مینارِپاکستان کی وسیع گراؤنڈ کو بھرنا شاید مشکل ہو لیکن ن لیگ والوں نے سخت محنت کرتے ہوئے ملک کے طول و عرض سے اتنے لوگ یہاں جمع کرلیے۔

جنہیں دیکھتے ہوئے مسلم لیگی صدر یہ کہہ رہے تھے کہ پچھلے 76برسوں میں یہاں اتنا بڑا جلسہ نہیں ہوا ۔ خیر ایسی بات بھی نہیں تھی۔ محترمہ کا اپریل 1986 والا جلسہ اس سے نہ صرف یہ کہ بڑا تھا بلکہ اس کا جوش و خروش بھی دیدنی تھا۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ن والوں کا یہ جلسہ ہمارے جناح ثالث کھلاڑی کے جلسوں سے کم نہ تھا۔ اگرچہ اس میں زندہ دلان لاہور کی بجائے دیگر علاقوں سے آئے ہوئے لوگ کہیں زیادہ تھے ۔ اس جلسے کی میڈیا کوریج بھی بھرپور ہوئی اور نواز شریف کی متوازن و جامع تقریر کو اندرون ہی نہیں بیرون ملک بھی سنا گیا۔

البتہ سٹیج پر تکینکی اعتبا ر سے کوئی بہتر اہتمام یا بندوبست نہیں تھا ۔ یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ن لیگ کے پاس کوئی ایسا باصلاحیت شخص نہیں جو سٹیج سیکرٹری کی ذمہ داری بطریق احسن ادا کرسکے ۔ اس طرح تلاوت وغیرہ میں بھی یہ اہتمام ہونا چاہیے تھا کہ اختصار کے ساتھ کیا پڑھنا ہے اور ترجمہ کے ساتھ کیا پیغام دینا ہے ۔ نواز شریف نے اپنی تقریر کا آغاز اس شعر سے کیا کہ کہاں سے چھیڑوں فسانہ اور کہاں تمام کروں، و ہ میری طرف دیکھیں تو میں سلام کروں۔ اس کے بعد انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے ملک و قوم کے مسائل و مصائب اور عوام محرومیوں کا دکھڑا سنایا بلکہ اپنی ہڈ بیتی بیان کرتے ہوئے فیملی سمیت اپنے دکھوں کی داستان سنائی بالخصوص اپنی شریف حیات اور اپنی والد ہ کی جدائی و محرومی پر تلخ یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں کس طرح انہیں اذیتیں پہنچائی گئیں ۔ قیدی باپ کے سامنے اس کی بیٹی کو گرفتار کیا گیا ۔ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا بیوی کی خبر پر بھی گھر والوں سے فون پر بات نہ کروائی گئی اور جس طرح موت کی خبر سنائی گئی وہ بھی دردناک کہانی ہے۔ افسوس میں اپنی ماں کو لحد میں نہ اتار سکا، یہ میرے عزیز میری سیاست کی نذر ہوگئے۔

اعتراض کیا جارہا ہے کہ اپنے اس عوامی جلسے میں نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف زبان نہیں کھولی کیونکہ وہ ڈیل کرکے آئے ہیں۔ جبکہ سمجھنے والوں کےلئے انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کا کچا چٹھا کھو کر رکھ دیا جب وہ کہہ رہے تھے کہ وہ کون لوگ ہیں جو نواز شریف کو ہر چند برسوں بعد قوم سے جدا کردیتے ہیں، تو مدعا واضح تھا بلکہ اس سے بڑھ کر وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ آپ کو معلوم ہے میرے خلاف دھرنے کون لوگ کروا رہے تھے؟ اس موقع پر انہوں نے غالب کا شعر پڑھتے ہوئے بھری بزم میں اس شعر کی تشریح بھی کردی۔ غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے، بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفان کیے ہوئے۔

یہ ساری رام کتھا سناتے ہوئے نواز شریف کا مدعا واضح تھا۔ البتہ حالات کے جبر میں وہ نپی تلی گفتگو کرتے رہے اور یہی ایک عملی سیاستدان کا تدبر ہوتا ہے کہ وہ صورتحال کی نزاکت کو دیکھ کر قدم بڑھاتا ہے اور اپنی نظر اپنے اصل ٹارگٹ پر رکھتا ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ میرے دل میں کسی سے انتقام لینے کی رتی بھر تمنا نہیں ہے ۔ میری تمنا میری قوم کی خوشحالی ہے ، عوامی دکھوں اور محرومیوں کا مداوا ہے ہم مل کر اس ملک کی دوبارہ تعمیر کریں، بجلی کے نرخ اور ڈالر کی قدر کم کریں ، بے روزگاری کا خاتمہ کریں ، موٹرویز بنائیں ، برآمدات بڑھائیں ، پاکستان کو آئی ٹی پاور بنائیں اسے جی ٹونٹی میں لے جانے کے قابل بنائیں ۔  یہی ن لیگ کا یجنڈا اور یہی نواز شریف کا بیانیہ ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے نیا 9نکاتی ایجنڈا بھی پیش کیا ۔

نواز شریف نے اپنی تقریر میں سب سے بڑھ کر خوبصورت بات یہ کہی کہ یہ بات پلے باندھ لیں کہ ہمسائیوں کے ساتھ لڑائی کرکے ہم ترقی نہیں کرسکتے۔ اس سلسلے میں انہوں نے بنگلہ دیش کی ترقی کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا تو ان دونوں حصوں میں کاریڈور یا راہداری بن چکی ہوتی۔ اور بھارت بھی اس پر معترض نہ ہوتا ۔ درویش کی نظر میں نواز شریف یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ بھارت کو اعتماد میں لے کر ہم زمینی طور پر ایسی کاریڈور بناسکتے ہیں جو بنگلہ دیش سے شروع ہوکر بھارت اور پاکستان سے گزرتے ہوئے، اسے سنٹرل ایشیا و یورپ تک لے جائے اور یہ سب اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ہم انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر نہیں بناتے۔  بھارت کو اعتماد میں لے کر ہی ہم خطے کے لیے اتنا ہیوی و سود مند اقدام اٹھا سکتے ہیں ۔ امید ہے کہ اب جب و ہ برسرِ اقتدار آئیں گے تو بھارت کو اعتماد میں لینے سے پہلے خود اپنی اسٹیبلیشمنٹ کو مدلل استدلال کے ساتھ یہ حقیقت منوائیں گے کہ جنونیت مسائل کا حل نہیں۔  اب جبکہ خود عسکریوں کی اپنی صفوں سے بھی اسی نوع کی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ فی زمانہ اب ممالک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں لہذا انڈیا دشمنی کے ساتھ پاکستان آگے بڑھنے کی بجائے مزید پستی میں گرتا چلا جائے گا ۔

نواز شریف نے اپنے سیاسی حریف جناح ثالث پر تنقید سے احتراز کیا اور کہا کہ میں تو اس شخص کا نام بھی نہیں لینا چاہتا حالانکہ زبان کی پھسلن سے وہ اس کا نام لے چکے تھے اور پی ٹی آئی کی معزز خواتین کے متعلق ناچ گانے کے حوالے سے اس نوع کے جملے بھی بول چکے تھے جو کم ازکم نواز شریف کو زیب نہیں دے رہے تھے۔ ساتھ وہ اس بات پر بھی اصرار کررہے تھے کہ انہوں نے میرے خلاف جو کچھ بھی کیا یا کہا ہے میں اس کا جواب بھی نہیں دینا چاہتا۔ میں وہ فرق برقرار رکھنا چاہتا ہوں جو میری اور ان کی تربیت میں ہے ۔ انہوں نے اپنے کارکنان سے بھی تلقین کی کہ وہ گالی کا جواب گالی سے نہ دیں ۔ نواز شریف ایک طرف تو یہ کہہ رہے تھے کہ تسبیح میرے پاس بھی ہے لیکن میں اسے اس وقت پڑھتا ہوں جب مجھے کوئی دیکھ نہ رہا ہو، بغل میں چھری منہ میں رام رام یہ مجھے نہیں آتا ۔ ایک حوالے سے وہ تیس مار خان کے مذہبی ٹچ یا تڑکوں کو ریاکاری کے معنوں میں بیان کرتے ہوئے اس پر تنقید کر رہے تھے جبکہ خود بھی اصل عوامی مسائل سے زیادہ نان ایشوز یا درود شریف کے فضائل وغیرہ کی تسبیحات و مناجات کے ذریعے حرکت وہی کررہے تھے۔ آخر میں تو یوں محسوس ہورہا تھا کہ ہم کسی سیاسی جلسے میں نہیں تبلیغی اجتماع میں آئے ہوئے ہیں۔

حضور آپ جو دعویٰ فرما رہے ہیں خود اس کی پاسداری بھی تو کریں ۔ آپ کا اپنا سگا داماد عوامی جلسوں میں جس نوع کی نفرت انگیز زبان بولتا ہے، کیا آپ خود یا اپنی بیٹی کے ذریعے اس کو بھی نہیں سمجھا سکتے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ آپ کی بدنامی ہوتی ہے، ملکی وقار اور ہماری خارجہ پالیسی پر بھی اعتراضات آتے ہیں ۔ اس کا ایسی اشتعال انگیز تقاریر سے کیا مقصد ہے کہ ہمار ایٹم بم عالم اسلام کا ایٹم بم ہے جسے ہم مسئلہ کشمیر و فلسطین میں ہندووں کے خلاف اور اسرائیل میں یہودیوں کے خلاف آزمائیں گے ۔ اس طرح اپنے بھائی اور سمدھی کو بھی کہیں کہ بولنے سے پہلے تولا کریں ۔

پی پی اور پی ٹی آئی یا دیگر جہاں بھی کھڑے ہیں خود ن لیگ کےلئے حالات اتنے سازگار نہیں ہیں جتنے اور جیسے آپ لوگ خیال کررہے ہیں۔ سمجھ بوجھ کے ساتھ قدم آگے بڑھانے ہوں گے۔ سب سے بڑھ کر عوامی دکھوں کا احساس و ادراک کرنا ہوگا۔ لوگ غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں رو رہے ہیں۔ آپ نے اگر یہ نعرہ دیا ہے کہ ’ اس ملک کو بچالونواز شریف ‘ تو اس کیلئے سخت محنت ، لگن اور تدبر کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا ۔