اسرائیلی فوج کی غزہ میں زمینی کارروائی

  • جمعرات 26 / اکتوبر / 2023

اسرائیلی فوج  نے غزہ کی پٹی پر زمینی کارروائی کی ہے تاہم ابھی باقاعدہ حملہ نہیں کیا گیا۔ اسرائیل غزہ میں مسلسل فضائی حملے کر رہا ہے جن میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد ساڑھے چھ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ اس کے ٹینکوں اور پیادہ فوج نے حماس کے متعدد سیلز، انفرااسٹرکچر اور اینٹی ٹینک میزائل لانچ کرنے والی پوسٹوں کو نشانہ بنایا ہے اور واپس آگئے۔ یہ آپریشن لڑائی کے اگلے مرحلے کی تیاری کے لیے کیا گیا۔

اسرائیلی حکام اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ حماس  سات اکتوبر جیسے حملے دوبارہ نہ کرسکے۔ ان حملوں میں 1400 افراد مارے گئے تھے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے بدھ کو ٹی وی پر نشر ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل زمینی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ یہ کارروائی کب، کیسے اور کتنی تعداد میں ہو گی۔ ادھر بدھ کو امریکہ کے صدر بائیڈن نے اسرائیلی اور فلسطینی خودمختار ریاستوں کی دیرینہ امریکی خواہش پر زور دیا۔

جو بائیڈن نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ فلسطینیوں کی امنگوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسرائیلی اور فلسطینی یکساں طور پر تحفظ، وقار اور امن کے ساتھ شانہ بشانہ زندگی گزارنے کے مستحق ہیں۔ وہ اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر شدت پسند آباد کاروں کے حملے پر پریشان ہیں۔ انہوں نے اسے  آگ پر پیٹرول ڈالنے کے قرار دیا۔

گفتگو میں بائیڈن نے 200 سے زیادہ یرغمالیوں کی حفاظت کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان یرغمالیوں میں کچھ امریکی بھی ہیں۔ صدر بائیڈن نے یرغمالیوں سے متعلق مزید کہا کہ وہ خطرے میں ہیں اور اگر ہم انہیں باہر نکال سکتے ہیں تو ہمیں ایسا کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ حماس نے حالیہ دنوں میں چار یرغمالیوں کو رہا کیا ہے جس میں ایک امریکی خاتون اور ان کی بیٹی جب کہ دو اسرائیلی خواتین ہیں۔ لیکن امریکی محکمہ خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ مزید یرغمالیوں کی رہائی مشکل ہو سکتی ہے۔

حماس کے زیرِ کنٹرول غزہ کی وزارتِ صحت نے بدھ کو کہا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری میں اب تک کم از کم ساڑھے چھ ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ نے غزہ کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت غزہ کا کوئی علاقہ اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہیں ہے۔