قطر میں 8 بھارتی شہریوں کو موت کی سزا سنا دی گئی
قطر کی عدالت نے گزشتہ برس گرفتار کیے گئے بھارت کے 8 شہریوں کو سزائے موت سنائی ہے۔ بھارتی حکومت نے اس فیصلے پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا ہے۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے ایک بیان میں کہا کہ اس کیس کو نہایت اہم سمجھتے ہیں اور قطری حکام کے ساتھ اس فیصلے کو اٹھائیں گے۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ بھارت کے قطر کی نجی کمپنی میں ملازمت کرنے والے بھارت کے 8 شہریوں کو اگست 2022 میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
بھارتی حکومت اور قطری حکام نے مذکورہ افراد پر عائد الزامات کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تاہم تمام افراد کا تعلق بھارتی بحریہ سے رہا ہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی اس حوالے سے رابطے کے باوجود کوئی ردعمل نہیں دیا۔ حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سماعت کی حساسیت کی وجہ سے اس مرحلے پر کیس سے متعلق کوئی بیان دینا مناسب نہیں ہوگا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے اس سے قبل کہا تھا کہ 8 بھارتی شہریوں پر عائد کیے گئے الزامات سے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ قطر میں بھارت کے 8 لاکھ سے زائد شہری مقیم ہیں اور کام کر رہے ہیں۔ خبر کے مطابق قطر میں بھارتی نیوی کے 8 سابق افسران کوآبدوز پروگرام پر جاسوسی کا الزام ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سزا پانے والے ریٹائرڈ بھارتی نیوی افسران قطر میں الظاہرہ گلوبل ٹیکنالوجیز اینڈ کنسلٹنسی سروسز میں ملازمت کر رہے تھے۔ یہ پرائیویٹ کمپنی ہے جو قطر کی دفاعی اور سیکیورٹی ایجنسیوں کو تربیت اور دیگر سروسز فراہم کرتی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ کمپنی مئی 2023 میں بند کردی گئی تھی، جس میں کئی بھارتی بحریہ کے سابق اہلکار کام کر رہے تھے۔
میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ قطر کے حکام نے سزا پانے والے بھارتی شہریوں تک قونصلر رسائی دی ہے اور بھارتی حکام ان کی رہائی کےلیے کوششیں کر رہے ہیں۔ رواں برس مئی میں الجزیرہ نے رپورٹ میں بھارتی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی کو 8 قیدیوں تک قونصلر رسائی حاصل ہے اور ان کی رہائی کی کوششیں کی گئی تھیں لیکن دوحہ کی جانب سے بتایا گیا کہ ثبوت سے واضح ہوتا ہے کہ سابق افسران نے اسرائیل کو معلومات فراہم کی ہیں۔