صدر سے مناظرہ کی بجائے الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے

الیکشن کمیشن نے صدر عارف علوی کے ان خدشات کو مسترد کیا ہے کہ ملک میں انتخابات جنوری کے دوران ہونے کا بھی امکان نہیں ہے۔ ایک پریس ریلیز میں الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ   یہ تاثر درست نہیں ہے ۔   ملک میں انتخابات  اعلان شدہ وقت  پر ہی ہوں گے۔  صدر کے بیان کی تردید کرنے اور صدر سے مناظرہ کا ماحول پیدا کرنے کی بجائے بہتر ہوتا کہ الیکشن کمیشن انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان کرے۔

گزشتہ روز صدر مملکت نے ایک ٹی وی انٹرویو میں انتخابات منعقد کروانے کے سلسلہ میں اپنی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں جنوری میں بھی انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ بنیادی طور سے یہ  ایک افسوسناک صورت حال ہے کہ ملک کا ایک  آئینی ادارہ ، صدر مملکت کے  عہدے پر فائز ایک شخص کے بیان کو غلط قرار دے اور اس دعوے کو مسترد کیا جائے۔  آئین کے تحت صدر کا عہدہ  اگرچہ رسمی ہے لیکن   یہ ملک کا سب سے بڑا آئینی عہدہ ہے۔ اس لیے اس عہدہ پر فائز ہونے والے شخص کو  ذاتی مفاد، سیاسی وابستگی اور رائے سے بالا ہوکر فراخدلی سے پورے ملک کا قائد بننا پڑتا ہے۔  اگرچہ قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو صدر کے عہدے پر منتخب کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ متعلقہ شخص اس عہدے پر متمکن ہونے کے بعد   پوری قوم کے  لیے احترام  کی علامت بنے گا اور  کسی سیاسی تنازعہ میں ملوث ہونے کی بجائے، مفاہمت و مصالحت کا کردار ادا کرے گا۔

بدقسمتی سے صدر عارف علوی یہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ گزشتہ سال اپریل میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد عمران خان نے پرجوش  احتجاجی مہم کی قیادت کی تو عارف علوی   کا طرز عمل بھی صدر کی بجائے پارٹی کارکن  جیسا دکھائی دینے لگا۔ اس کا اولین اظہار تو اسی وقت ہوگیا تھا جب عدم اعتماد کے بعد  شہباز شریف کو وزیر اعظم چنا گیا  اور صدر عارف علوی نے ان سے حلف لینے سے سے گریز کیا ۔  چئیرمین سینیٹ  صادق سنجرانی کو یہ فرض ادا کرنا پڑا۔ اس کے بعد انہوں نے حکومت کے قانون سازی کے اختیار میں مسلسل مداخلت  کی۔ حالانکہ اسی عہدے پر فائز ہوتے ہوئے عارف علوی سابق وزیر اعظم عمران خان کی خواہش پر کثرت سے  آرڈی ننس جاری کرکے قانون سازی  کامعیوب طریقہ اختیار کرنے میں کوئی عار نہیں  سمجھتے تھے۔ اسی طرح جب   قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر قاسم سوری  نے یک طرفہ طور سے   عمران خان کے خلاف متحدہ اپوزیشن پارٹیوں کی  طرف سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا ۔اور عمران خان  نے وزیر اعظم کے طور پر فوری طور سے قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس صدر کو بھیجی تو انہوں نے  کسی ہچکچاہٹ یا غور وخوض کے بغیر اس مشورے پر قومی اسمبلی توڑنے اور نئے انتخابات منعقد کروانے کا حکم جاری کردیا۔    بعد میں سپریم کورٹ نے تحریک عدام اعتماد مسترد کرنے، اسمبلی توڑنے اور انتخابات کے صدارتی حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس تمام کارروائی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ البتہ صدر عارف علوی   نے  اس پر کسی شرمساری کا اظہار نہیں کیا۔

پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد  مقررہ مدت میں انتخابات کے تنازعہ  کا حصہ بننے کے علاوہ    اگست میں قومی اسمبلی  تحیل ہونے کے بعد بھی صدر عارف علوی تدبر  کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ۔ وہ   اپنے مجموعی رویہ سے ملک کے  ہر عام و خاص کا صدر  نہیں بن سکے۔  اسی لیے ایک تو سابقہ حکومت نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرکے انتخابات کا اعلان کرنے کے بارے میں صدارتی اختیار   ختم کردیا اور یہ حق الیکشن کمیشن کو تفویض کردیا   گیا۔  دوسری طرف  چیف الیکشن کمشنر نے انتخابات پر مشاورت کے لیے  صدر کی دعوت کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ  انتخابات کا اعلان کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، صدر سے اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوسکتی۔  ملک کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر فائز ایک شخص کی دعوت کو یوں برسر عام مسترد کرتے ہوئے  چیف الیکشن کمشنر نے  عارف علوی کی بجائے درحقیقت صدر کے عہدے کی  توہین کی تھی لیکن صدارتی رتبے کو اس متنازعہ مقام تک پہنچانے میں صدر عارف علوی نے بھی کردار ادا کیا ہے۔

اسی پر اکتفا نہیں  اپنی پارٹی کے دباؤ  میں انہوں نے  آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے ترمیمی بلوں پر دستخط نہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا اور اپنے ہی عملے پر الزام تراشی کرتے ہوئے  کہا تھا کہ انہوں نے  مقررہ مدت میں ان بلوں کو اعتراض لگا کر واپس کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن ان کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔ یہ بیان انتہائی ناقص  تھا اور اس سے  صدر کے منصب کی بھد اڑانے کے سوا کوئی مقصد حاصل  نہیں کیا جاسکا۔ بعد از وقت یہ بھی واضح ہوگیا کہ عارف علوی نے عمران خان کی نگاہوں میں سربلند ہونے کے لیے خالصتاً سیاسی  مقاصد سے  یہ بیان جاری کیا تھا حالانکہ نہ اس بیان سے متعلقہ قوانین کا راستہ روکا جاسکا اور نہ ہی  نگران  حکومت نے صدر کے بیان کو کوئی اہمیت دینے کی ضرورت محسوس کی۔ اس طرح کے  ہتھکنڈوں سے عارف علوی نے عہدہ صدار ت کے وقار و احترام کو ناقابل  تلافی نقصان پہنچایا لیکن انہیں ابھی تک اس پر پشیمانی نہیں ہے۔

گزشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں الیکشن کمیشن کے اعلان کے بارے  میں شبہات کا اظہار کرنا صدر عارف علوی کے شایان شان نہیں تھا۔   موجودہ سیاسی حالات میں اس کا کوئی اثر بھی مرتب ہونے کا امکان نہیں تھا۔ بلکہ صدر عارف علوی تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد متوازن اور ہوشمندانہ  رویہ اختیار کرتے  تو وہ ملک کے موجودہ شدید سیاسی بحران اور تنازعہ  میں اہم کردار ادا کرسکتے تھے۔ لیکن  بغیر سوچے سمجھے کیے گیے اقدامات اور  بیانات کی وجہ  سے وہ یہ کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں۔ حالانکہ اگر وہ اعتدال پسند صدر کا کردار نبھاتے تو سانحہ 9 مئی کے بعد  پیدا ہونے والی صورت حال میں تحریک انصاف اور عمران خان  کی مدد کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوتے۔ تحریک انصاف کو اس مشکل میں ایسے لیڈروں کی ضرورت تھی جو اسٹبلشمنٹ کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرسکتے اور تنازعہ  کو قوم و ملک کے وسیع تر مفاد و ضرورت کی روشنی میں  طے کیا جاسکتا۔ متعدد سیاسی لیڈر عمران خان کی نفرت انگیز سیاسی مہم جوئی کی وجہ سے   موجودہ صورت حال میں یا تو تحریک انصاف کو مدد فراہم کرنے سے قاصر  ہیں یا  وہ  ایسا کردار کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ یہی موقع تھا کہ صدر عارف علوی اپنی پارٹی اور لیڈر کو سیاسی منظر نامہ میں  متحرک رکھنے کے لیے تعاون فراہم کرسکتے تھے۔  لیکن انہوں نے اپنے منصب کے مطابق   ایک ’بڑے‘ کا کردار ادا کرنے کی بجائے فریق بننے کو ترجیح دی اور  اپنی پوزیشن خراب کرنے کے علاوہ صدر کے عہدے کو  بھی  مذاق بنادیا۔

انتخابات کے بارے میں صدر کا بیان  اسی غیر ذمہ دارانہ رویہ کا پرتو  ہے۔ اگرچہ متعدد تجزیہ نگار یہ شبہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ کیا ملک میں جمہوریت کا بستر گول کیا  جارہا ہے اور کیا الیکشن کمیشن اپنے ہی اعلان کے مطابق جنوری میں انتخابات  منعقد کروا ئے گا ۔ لیکن ایسے اندازے قائم کرنے کے لیے کسی کے پاس کوئی ٹھوس معلومات نہیں ہیں بلکہ یہ اندازے ماضی قریب میں رونما ہونے والے واقعات  کی صورت حال اور ملک میں سیاسی  بے چینی  کی وجہ سے قائم کیے  جاتے ہیں۔ تاہم جناب عارف علوی کو سمجھنا چاہئے تھا کہ  وہ  نہ تو عام سیاسی کارکن ہیں اور نہ ہی وہ کوئی سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ وہ صدارت کے آئینی منصب پر فائز ہیں ۔ اس حیثیت میں ملک کے تمام آئینی اداروں کی حفاظت ان کے فرائض منصبی کا حصہ ہے۔ ان اداروں میں الیکشن کمیشن بھی شامل ہے۔  تاہم صدر علوی نے    اپنے عہدے کی اس نزاکت کو پیش نظر نہیں رکھا۔ اور   دوسری طرف الیکشن کمیشن علی الاعلان  ملک بھر کے صدر کی بات کو غلط قرار دے رہا ہے۔

صدر عارف علوی کے طرز عمل اور صدر کے طور پر ایک خاص سیاسی پارٹی کا ترجمان بنے رہنے کے طریقہ  کو مسترد کرنے کے باوجود الیکشن کمیشن کے اس رویہ کی تائید نہیں کی جاسکتی کہ  وہ ملک کے صدر کے خلاف بیان بازی میں ملوث ہو۔ الیکشن کمیشن کے بیان سے یوں لگتا ہے کہ  اس کے ارکان انتخابات کے بارے میں اپنے آئینی فرائض  تو پورے کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے لیکن  صدر کے ایک غیر موافق بیان کا نوٹس لینا ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ  حکمت عملی الیکشن کمیشن کے مینڈیٹ اور اختیار سے  ماورا ہے ۔  اسے  نہ تو ایسے تنازعہ کا حصہ بننا چاہئے اور نہ ہی اسے فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہئے۔  ملک کے صدر کو حرف تنقید بنانا الیکشن کمیشن کا کام نہیں ہے۔ اگر  صدر نے کسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے تو عوام اور میڈیا خود اس کا نوٹس لے سکتے ہیں۔ الیکشن  کمیشن کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے۔

الیکشن کمیشن اگر بہر صورت  صدر عارف علوی کے بیان کو اپنی  نیک نیتی اور غیر جانبداری  پر ’حملہ ‘ تصور کررہا تھا تو اسے صدر کا بیان مسترد کرنے کی بجائے بے یقینی کی اس فضا کو ختم کرنا چاہئے تھا جس کی وجہ سے عام طور سے یہ تاثر مستحکم ہورہا ہے  کہ ملک میں انتخابات کو ٹالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ موجودہ الیکشن کمیشن  اس  بارے میں  مکمل طور سے بری الذمہ نہیں ہے۔ پاکستان الیکشن کمیشن نے اصرار کیا ہے کہ حلقہ بندی کا کام مکمل ہوتے ہی  جنوری 2024 میں انتخابات منعقد ہوں گے۔ البتہ پیپلز پارٹی اور بعض دیگر جماعتیں تسلسل سے مطالبہ کرتی رہی ہیں  کہ  انتخابات کی  حمتی تاریخ کا اعلان کیا جائے۔ الیکشن کمیشن اگر جنوری کے آخری  ہفتے میں انتخابات کروانے کا پروگرام طے کرچکا ہے تو اسے اسی ہفتے کےدوران  حتمی  تاریخ کا اعلان کرنے میں کیا مشکل درپیش ہے؟

لیت و لعل سے کام لے کر الیکشن کمیشن درحقیقت ملک  کے جمہوری عمل کے بارے میں غیر ضروری بے یقینی اور شبہات پیدا کرنے کا سبب بنا ہے۔ اب صدر عارف علوی کے بیان کو مسترد کرنے سے بھی صدر کی نیک نیتی سے زیادہ الیکشن کمیشن کی نیت  اور ارادوں کے بارے میں سوالات سامنے آئے ہیں۔  الیکشن  کمیشن کو انتخابات کے سوال پر صدر سے مناظرہ کرنے  کی بجائے انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کرکے ملک میں پائی جانے والی سیاسی بے چینی کو ختم کرنا چاہئے۔