سیاست دان سے مدبر تک
- تحریر حماد غزنوی
- جمعہ 27 / اکتوبر / 2023
ایک تقریر سے چند اقتباسات: زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت آ گیا ہے… ہمارے درمیان جو خلیج وسیع تر ہو چکی ہے، اسے پاٹنے کی گھڑی آن پہنچی ہے … عہد کریں کہ آئندہ کبھی اس خوبصورت سرزمین پر کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ پر ظلم نہیں کرے گا…
انصاف سب کو ملے گا، امن و عافیت میں رہنے کا موقع سب کو ملے گا، روزگار سب کو ملے گا… یہ غربت، محرومی اور ابتلا کا طوق گردنوں سے اتار پھینکنے کا لمحہ ہے۔ یہ ایک یک سر نئے آغاز کی ساعت ہے۔( یہ نیلسن منڈیلا کی بہ طور جنوبی افریقہ کے صدر پہلی تقریر کا خلاصہ ہے)،
ظلم کے متلاطم اور مہیب دریا کے پار اترنے والوں کے دل میں انتقام کا سمندر موجزن ہونا کوئی انوکھی بات نہیں ہوا کرتی۔ تاہم جب کوئی شخص اپنی ذات سے اوپر اٹھ جاتا ہے، اس کا مقصد اس کا امام ٹھہرتا ہے، ایسے لوگوں کو تاریخ میں ”بڑے لوگ“ کہا جاتا ہے۔
”قوم کو منڈیلا کی واپسی مبارک ہو“ نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے مبینہ طور پر یہ جملہ عمران خان صاحب نے عدالتی کارروائی کے دوران ارشاد فرمایا۔ پہلے یہ خبر بھی آئی تھی کہ عمران خان نے جیل میں نواز شریف کی پوری تقریر انتہائی غور سے سنی۔ پہلا خیال ذہن میں آیا کہ یقیناً عمران خان نواز شریف کی تقریر میں صلح کل کے پیغام سے متاثر ہوئے ہیں۔ خان صاحب نے سوچا ہو گا کہ یار یہ اچھا آدمی ہے جس نے نہ تو منہ پر ہاتھ پھیر کر مجھے گالی دی، نہ میری نئی سائیکل واپس لینے کی دھمکی دی، نہ مجھے سائفرزادہ کہا، نہ گھڑی چور، نہ اسرائیل کا جوائی، نہ نو مئی کا غدار کچھ بھی نہیں کہا۔ بلکہ میرا ذکرہی نہیں کیا، اور یہ بھی کہہ رہا ہے کہ ’سب‘ جماعتیں اور ادارے مل کر ہی ملک کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں۔ تو شاید خان صاحب کو لگا ہو کہ یہ گفتگو تو کوئی اسٹیٹس مین ہی کر سکتا ہے۔ اور خان صاحب کی قلبِ ماہیت ہو گئی ہو۔
مگر دوست مصر ہیں کہ خان صاحب اپنے روایتی سوقیانہ پن سے کام لیتے ہوئے طنز فرما رہے ہیں۔ بہرحال میاں صاحب جگرِ لخت لخت کو جمع کرکے پھر کوئے ملامت کو لوٹ آئے ہیں۔ بلاشبہ نواز شریف کی سیاسی زندگی تلخیوں سے عبارت ہے۔ پچھلے 25 سال میں انہیں صرف ایک مرتبہ انتخاب لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جیل بھگتی، جلا وطنی سہی، کبھی کمانڈو انہیں اغوا کر لیتے ہیں، کبھی انہیں ہتھکڑیاں لگا کر توہین کی جاتی ہیں،۔کبھی اذیت دینے کیلئے ان کی بیٹی کو ان کے سامنے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ کلثوم نواز کے آخری دنوں میں جو رویہ ان کے مخالفین نے اپنایا وہ بھی ابتذال کے باب کا ایک مستقل عنوان رہے گا۔ حیرت کی بات ہے کہ جس شخص نے یہ سب اہانت برداشت کی اس کے لہجے میں تلخی نہیں ہے۔ لگتا ہے وہ پندار کا صنم کدہ ویران کر کے لوٹا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ انتقام اور بدلے سے کوسوں دور نکل آیا ہے۔ وہ تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں سے مخاطب ہے، وہ ایک نئے آغاز کا مشورہ دے رہا ہے۔
کیا اس مشورے میں کسی کی دلچسپی ہے؟ یہ مشورہ عمران خان کیلئے بھی ہے اور اداروں کیلئے بھی۔ اور مختلف جماعتوں کے حامیوں کیلئے بھی۔ عمران خان آج بھی اپنے سیاسی مخالفین کو شودرسمجھنا چھوڑ دیں تو ان کیلئے راستہ کھلنے کا امکان نسبتاً جلد پیدا ہو سکتا ہے۔ انہیں اب تک اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ وسیع تناظر میں سیاست دان ہی سیاست دانوں کے آخری حلیف ہوتے ہیں۔ نفرت کے کاروبار میں دونوں فریق خسارہ اٹھاتے ہیں۔ خان صاحب یہ دکان بند کر دیں تو کیا ہی اچھا ہو۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی ایک نئے آغاز کی اشد ضرورت ہے۔ اور ان کیلئے ’نئے آغاز‘ کا ہمیں تو ایک ہی مطلب سمجھ میں آتا ہے، اور وہ ہے آئین کے راستے پر سفر کا آغاز، باقی تو سب چالاکیاں ہم نے اس ریاست میں کرکے دیکھ لیں، اب اس راستے کو بھی آزما کر دیکھ لیں۔
کچھ دوستوں کو اندیشہ ہے کہ اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو نواز شریف کی ضرورت ہے۔ اور اگر نواز شریف کی حکومت بن بھی گئی تو دو تین سال میں مالکانِ قضا وقدر کا دل بھر جائے گا اور نواز شریف کا دم بھی وضع احتیاط سے رکنے لگے گا۔ یعنی وہی لغو کھیل، وہی لا یعنی چرخا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا کوئی طالب علم اس خدشے کو دلیل سے رد کرنے کی جرات اپنے اندر نہیں پاتا۔ دعا ہے کہ ان دوستوں کے خدشات غلط ثابت ہوں۔ وقت ختم ہو رہا ہے، ہمارے پاس اب کسی اوٹ پٹانگ تجربے کا وقت نہیں بچا۔ بہرحال نواز شریف اپنے وطن واپس آ چکے ہیں۔ اب ہمارے اداروں میں اتنا حوصلہ تو نہیں ہے کہ نواز شریف کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کی طویل فہرست پر برملا معافی مانگ سکیں۔ لیکن یہ ادارے اپنے عمل سے شرمندگی کا اظہار ضرور کر سکتے ہیں۔
ادھر قرائن بتا رہے ہیں کہ نواز شریف اب سیاست برائے سیاست کے موڈ میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کبھی یہ فقرہ بولا تو نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ”اللّٰہ انہیں سب کچھ دے بیٹھا ہے“۔ اب نواز شریف یقیناً کچھ ایسا کرنا چاہیں گے جس سے وہ تاریخ کے اوراق میں فقط ایک کامیاب سیاست دان کے طور پر نہ جانے جائیں۔ بلکہ ایک مدبر کے طور پر زندہ رہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)