عمران خان کو شفاف انصاف ملنا چاہئے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں عمران خان کو بعد از گرفتاری ضمانت دینے سے انکار کردیا ہے۔   اس  بارے میں  درج کروائی گئی ایف آئی آر ختم کرنے کی درخواست بھی  مسترد کردی گئی ہے۔   دوسری طرف عمران خان کے وکیل نے ایک بار پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔  عمران  خان کے ایکس اکاؤنٹ پر ایک بیان میں ملک کے عدالتی نظام پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ  کسی نام نہاد لندن سمجھوتہ کے تحت ایک سزا یافتہ مجرم   کوکلین چٹ دی جارہی ہے ۔  اور ان کی جان کو جیل میں خطرہ لاحق ہے۔

  اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس  عامر فاروق نے 16 اکتوبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے  ہوئے  درخواستوں میں  دیے گیے دلائل کو کسی میرٹ کے بغیر قرار دے کر انہیں منظور کرنے سے انکار کیا۔   ایف آئی آر ختم کرنے کی درخواست پر عدالت کا کہنا ہے کہ اس میں متعدد دوسرے لوگ بھی نامزد ہیں اس لیے ایف آئی آر کو جزوی طور سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ  کا کہنا ہے کہ ’ سائفر کے مندرجات پر امریکہ سے احتجاج تو کیا گیا تھا لیکن اس کے علاوہ کوئی سخت کارروائی نہیں ہوئی۔ کیوں کہ اس میں کسی قسم کی کوئی سازش نہیں تھی۔جبکہ عام جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے  عمران خان وزیر اعظم کے طور پر اپنے فرائض کے مطابق ردعمل نہیں دے رہے تھے بلکہ یہ سیاسی سرگرمی تھی‘۔  عدالت نے نوٹ کیا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی جن دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے، اس میں سزائے موت یا 14 سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ضمانت کے لیے جو دلائل دیے گیے ہیں وہ تمام شواہد ریکارڈ پر ہونے کی وجہ سے کارآمد نہیں ہوسکتے۔  سائفر کی نقل بھی  ابھی تک درخواست دہندہ کے قبضے میں ہے۔  درخواست دہندہ پر سنگین الزام عائد ہیں، اور بادی النظر میں ملزم اس جرم میں ملوث ہؤا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی  ہائی کورٹ کے فیصلہ میں واضح کیا گیا ہے کہ ’ اس فیصلہ میں دی جانے والی رائے عارضی نوعیت کی ہے اور فاضل ٹرائل کورٹ کو اس سے متاثر نہیں ہونا چاہئے‘۔

سائفر کیس میں استغاثہ نے  الزام عائد کیا ہے کہ ’ ملزم نے ممنوعہ جگہ (جلسہ عام) میں سائفر کو استعمال کیا اور جان بوجھ کر  غیر متعلقہ لوگوں کو خفیہ معلومات فراہم کیں جو ریاست پاکستان کے مفاد کے خلاف اقدام تھا ۔ خفیہ معلومات پر مشتمل یہ سائفر وزارت خارجہ نے   بھروسے اور اعتماد کے ساتھ فراہم کیا تھا لیکن آپ  نے نہ صرف سائفر کی نقل اپنے قبضے میں لے لی بلکہ اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جس سے مملکت پاکستان کی سکیورٹی متاثر ہوئی‘۔   استغاثہ کے مطابق ملزم نے نہ صرف سائفر کبھی واپس نہیں کیا بلکہ اس کے مندرجات 28 مارچ 2022 کو بنی گالہ کے ایک اجلاس میں غلط طور سے استعمال کیا گیا۔

یہ سنگین الزامات ہیں  اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے  ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ بھی غیر متوقع نہیں ہے۔   اسلام آباد ہائی کورٹ اس سے پہلے سائفر کیس میں  ٹرائل کورٹ میں فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کے خلاف عمران خان کی درخواست بھی مسترد کرچکی ہے۔ اگست کے آخر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں     عمران خان  دی جانے والی سزا معطل کردی تھی۔ اس کا  مطلب تھا کہ جب تک  زیریں عدالت کے  فیصلہ  کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر فیصلہ نہیں ہوجاتا ، اس وقت تک عمران خان کو جیل میں نہیں رکھا جاسکتا۔ تاہم 29 اگست کو توشہ خانہ کیس میں رہائی کے فوری بعد عمران خان کو  سائفر  کیس میں گرفتار کرلیا گیا اور وہ ابھی تک اسی  الزام میں قید ہیں۔ ان کے خلاف مقدمہ کی کارروائی بھی جیل میں ہی ہورہی  ہے۔ یہ اقدام بظاہر عمران خان  کی سکیورٹی کے لیے کیا گیا ہے لیکن عملی طور سے  یہ طریقہ اختیار کرکے  انہیں  میڈیا  کے ذریعے اپنے سیاسی حلقہ اثر سے مواصلت کرنے سے  روکا گیا ہے۔

 یہ بات متعدد بار دہرائی جاچکی ہے کہ کوئی بھی شخص ملک کے کسی بھی بڑے عہدے پر  کیوں نہ  فائز  رہا ہو اور اس کی سماجی حیثیت خواہ کچھ بھی ہو، اگر وہ کسی  جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی گرفت ہونی چاہئے اور اسے اپنے کیےکی سزا بھگتنی چاہئے۔ تاہم اس اصول پر اسی وقت عمل ہوسکتا  ہے اگر ملک کا عدالتی نظام شفاف ہو اور اس پر عوام کا اعتماد بحال کیا جاسکے۔ بدقسمتی سے ایسی صورت حال دیکھنے میں نہیں آتی۔ اس کی ذمہ داری جزوی طور سے ہی سہی عدلیہ پر  ہی  عائد ہوتی ہے۔  ملک کی اعلیٰ عدالتیں   ماضی میں طاقت ور  کے سامنے آئین کو نظریہ ضرورت کے تحت پڑھنے کی شہرت رکھتی ہیں۔ اور حال ہی میں سپریم کورٹ کے  سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس نے سیاسی  نقطہ نظر کی تکمیل کے لیے مرضی کے بنچ بنانے اور قانون کے علاوہ آئین کی من پسند تشریح کرنے کا شعار اختیار کیا تھا۔ اس طرز عمل سے  اعلیٰ عدلیہ  پر عوام کے اعتماد میں شدید کمی  واقع ہوئی ہے۔

سابق وزیر  اعظم نواز شریف کو چار سال کی جلاوطنی  سے  واپسی  پر   اپنے خلاف مقدمات میں  ضمانت بھی مل رہی ہے اور بادی النظر میں اب ان مقدموں میں انہیں ریلیف  ملنے کا بھی امکان ہے۔ مسلم  لیگ (ن) اور نواز شریف اس حوالے سے اتنے پراعتماد ہیں کہ   ابھی سے نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کی بات کی جارہی ہے۔ حالانکہ   سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق نواز شریف ساری زندگی   کسی سیاسی عہدے پر فائز نہیں ہوسکتے ۔  اگرچہ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ  2017 میں  عمران خان کو سیاسی طور سے کامیاب کروانے کے لیے  نواز شریف  کو عدالتوں کے ذریعے نااہل قرار دیا گیا  تھا اور جیل میں بھی ڈال دیا گیا۔ پھر چشم فلک نے یہ طرفہ تماشہ بھی اسی ملک میں دیکھا کہ  جیل میں  سزا بھگتنے والے ایک قیدی کو خصوصی پرٹوکول کے ساتھ  علاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔ عدالتوں کے علاوہ تحریک انصاف کی حکومت اس فیصلہ میں برابر کی شریک تھی۔ اس لیے عمران خان کو  بخوبی معلوم ہوگا کہ ملکی عدالتی نظام کو کس طرح بعض ریاستی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

وقت تبدیل ہونے کے ساتھ اب نواز شریف کو  عدالتوں سے سہولت حاصل کرنے کی امید ہے تو عمران کو بدستور جیل میں بند رکھنے کا اہتمام ہورہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ  نے سائفر کیس میں عمران خان کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے  ان کی ضمانت لینے سے انکار کیا ہے ۔ اگرچہ عدالت کاکہنا ہے کہ  ٹرائل کورٹ کو ہائی کورٹ  کی سرسری رائے سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن   عدالت عالیہ کو اس حوالے سے  حقائق اور شواہد پر غور کرتے ہوئے ریاستی اداروں سے یہ سوال تو کرنا چاہئے تھا کہ سائفر کیس میں  عمران خان نے  اس وقت ’قانون شکنی ‘ کا ارتکاب کیا تھا جب وہ وزیر اعظم تھے۔ ملک کا قانون کسی وزیر اعظم کو  اپنے عہدے کی وجہ سے کسی جرم  کی صورت میں سزا سے استثنی نہیں دیتا۔ تو پھر کیا وجہ ہے  کہ  مارچ 2022  میں سائفر  کے مندرجات عام کرنے کا  جرم ہونے کے فوری بعد کوئی ریاستی ادارہ یا عدالت حرکت میں نہیں آئی اور قصور وار کی گرفت نہیں کی جاسکی۔ بلکہ اس کے بعد بھی عمران خان     آزادانہ گھومتے رہے اور  سیاسی احتجاج منظم کرتے رہے لیکن  بطور وزیر اعظم ان کی غلطیوں پر ان کے خلاف کوئی شکایت سامنے نہیں آسکی۔ البتہ سانحہ 9 مئی کے بعد  جب تحریک انصاف اور عمران خان  زیر عتاب آئے تو ایک عدالت نے عجلت میں کارروائی کرتے ہوئے 5 اگست کو انہیں تین سال قید کی سزا سنا دی اور چند  ہی منٹ میں انہیں گرفتار کرکے جیل پہنچا دیا گیا۔

ملک کے طاقت ور اداروں اور ایک سیاست دان کی سرگرمیوں کے درمیان پائے جانے والے اس عدم توازن سے کسی عدالت کو متاثر نہیں ہونا چاہئے۔   ضمانت مسترد کرنے کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا  فیصلہ  خواہ قانونی میرٹ پر پورا ہی اترتا ہو لیکن انصاف  میں شفافیت کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اسی لیے اس کے بارے میں شبہات پیدا ہوں گے اور فوج کو براہ راست نشانہ بنانے کی بجائے عدالتوں کے ذریعے   اس کے سیاسی کردار  پر تنقید کی جائے گی۔ کیوں کہ عام تفہیم میں اس فیصلہ کو عمران خان کی سیاست ختم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جائے گا۔ ملکی عدلیہ کو موجودہ بحران میں سیاسی فریق بننے سے گریز کرنے کی ضرورت تھی۔ بدقسمتی سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ اس معیار پر پورا نہیں اترا۔ اسی لیے عمران خان کے وکیل  سلمان صفدر  نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔

امید کرنی چاہئے کہ عمران خان  اس فیصلہ کے  خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے  اورعدالت عظمی انہیں فوری ریلیف دینے کا اہتمام کرے گی تاکہ  یہ تاثر ختم ہوسکے کہ   ملک کا قانون سیاسی لیڈروں کو ملک میں بچھائی جانے والی  سیاسی بساط کے مطابق ہی  ’انصاف‘ فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے  کل تک جس عتاب کاسامنا نواز شریف کو تھا، اب عمران خان  اس سے  نبرد آزما ہیں۔  وقت آگیا ہے کہ ملکی عدالتیں سیاسی لیڈروں کو شفاف انصاف فراہم کریں تاکہ  سیاسی مقاصد کے لیے انتقامی کارروائیوں کا تاثر ختم ہو۔