نیب ترامیم پر فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کیلئے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل
سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے فیصلے کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہو گئی ہیں اور چیف جسٹس پاکستان نے اپیلوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے۔
پانچ رکنی لارجر بینچ 31 اکتوبر کو کیس کی سماعت کرے گا جس کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کریں گے۔ لارجر بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی زیر سربراہی 3 رکنی خصوصی بینچ نے عمران خان کی اپیل پر فیصلہ دیتے ہوئے نیب قانون میں ترامیم مسترد کردی تھیں اور انہیں آئین کے خلاف قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کے خلاف کرپشن کیسز بحال کردیے تھے جبکہ نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی بھی اجازت دے دی تھی۔
فیصلے کے ایک ماہ بعد نگران وفاقی حکومت نے قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کو غیر قانونی قرار دینے والی نیب ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 15 ستمبر کے فیصلے کو چیلنج کردیا تھا۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ کی اسلام آباد کی پرنسپل سیٹ کے لیے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کردیا گیا ہے جس میں آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر پانچ بینچ مقدمات کی سماعت کریں گے۔ پہلا بینچ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین پر مشتمل ہو گا۔ دوسرے بینچ کے ججز میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہوں گے۔
تیسرا بینچ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل ہو گا۔ چوتھے بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس جمال خان اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہوں گے۔ پانچواں بینچ جسٹس منیب اختر، جسٹس شاہد وحید اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل ہو گا۔
سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت بدھ کو ہوگی جبکہ 90 روز میں انتخابات کرانے سے متعلق مقدمے کی سماعت جمعرات کو ہوگی۔