غیرقانونی تارکین وطن کے انخلا کا عمل تیز کرنے کیلئے مزید کراسنگ پوائنٹس قائم
غیرقانونی تارکین وطن کی ملک بدری کے لیے حکومت کی مقرر کردہ آخری تاریخ نزدیک آ رہی ہے، حکام نے انخلا کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ’ہولڈنگ سینٹرز‘ قائم کر دیے ہیں اور اضافی بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھول دیے گئے ہیں۔
غیرقانونی تارکین وطن کی افغانستان اور ایران واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے حکومتِ بلوچستان مزید 3 کراسنگ پوائنٹس کھول رہی ہے۔ بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ کراسنگ پوائنٹس قلعہ سیف اللہ، قمرالدین کاریز اور ضلع چاغی میں براچہ نور وہاب میں کھولے جا رہے ہیں تاکہ افغان اور ایرانی بلوچ تارکین وطن کو 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن تک انخلا یقینی بنانے میں مدد ملے۔
اسی طرح خیبرپختونخوا میں غیرقانونی تارکین وطن کو خیبرپختونخوا کراسنگ پوائنٹس سے واپس بھیج دیا جائے گا۔ ڈیڈ لائن کے بعد حکومت صوبے بھر سے غیرقانونی تارکین وطن کو ملک سے نکالنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے اپنے پلان کو پوری قوت کے ساتھ نافذ کرے گی۔ رضاکارانہ طور پر اپنے وطن واپس جانے والے تمام غیرقانونی تارکین وطن کا ڈیٹا اپ ڈیٹ اور محفوظ کیا جائے گا۔ سندھ اور پنجاب سے آنے والے غیرقانونی تارکین وطن کو مکمل سیکیورٹی دی جائے گی اور انہیں ہولڈنگ سینٹرز میں رکھا جائے گا۔
جان اچکزئی نے کہا کہ کوئٹہ حاجی کیمپ کو ہولڈنگ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور سرحدی شہروں چمن اور پشین میں اضافی سینٹرز قائم کر دیے گئے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر اس طرح کے مزید سینٹرز دیگر علاقوں میں بھی قائم کیے جا سکتے ہیں۔ غیر قانونی تارکین وطن کو خوراک اور ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ حکومت پنجاب نے غیرقانونی تارکین وطن کی جاری ’میپنگ‘ میں صوبے میں 33 ہزار غیرقانونی تارکین وطن کی نشاندہی کی ہے، جن میں زیادہ تر افغان شہری ہیں۔ غیرقانونی تارکین وطن کو صوبے میں 36 ’ہولڈنگ پوائنٹس‘ میں ٹھہرایا گیا ہے۔ اگر غیرقانونی تارکین وطن 31 اکتوبر تک رضاکارانہ طور پر ملک نہیں چھوڑتے تو انہیں ملک بدر کر دیا جائے گا۔