اسرائیلی فوج نے غزہ میں زمینی کارروائی شروع کردی، حماس کا مقابلہ کرنے کا عزم
اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کی فوج غزہ میں اپنی زمینی کارروائی کو وسیع کر رہی ہے۔ اسے بڑے پیمانے پر فضائی اور سمندر سے حملوں کی حمایت حاصل ہوگی۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیل ہگاری نے کہا ہے کہ فورسز اب بھی غزہ میں ہیں اور جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب شمالی غزہ کی پٹی میں 150 زیر زمین اہداف کو نشانہ بنایا۔ بمباری میں سینکڑوں عمارتیں منہدم ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ادھر حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز نے کہا ہے کہ اس کے جنگجو غزہ کے شمال مشرقی قصبے بیت حنون اور البریج کے وسطی علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ القسام بریگیڈز اور تمام فلسطینی مزاحمتی قوتیں پوری طاقت کے ساتھ جارحیت کا مقابلہ کرنے اور دراندازی کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگان کے مطابق وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعہ کو اسرائیلی ہم منصب یواو گیلنٹ سے بات کی اور فوجی کارروائیوں کے دوران شہریوں کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہاہے کہ انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی زمینی کارروائیوں میں توسیع کے بارے میں رپورٹس دیکھی ہیں لیکن ان پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
جمعے کی شب اسرائیل نے غزہ میں شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں انٹرنیٹ اور فون سروسز منقطع ہوگئی ہیں۔ علاقے کے 23 لاکھ شہریوں کا بیرونی دنیا میں رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ فلسطینی شہری پہلے ہی بجلی منقطع ہونے کی وجہ سے تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ تازہ ترین حملوں نے فلسطینیوں کو تنہا کر دیا ہے ۔ وہ گھروں اور پناہ گاہوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کو خوراک اور پانی کی فراہمی ختم ہو نے کا سامنا ہے۔
اے پی کے مطابق غزہ میں بلیک آؤٹ ہونے کے باعث اسرائیل کے نئے فضائی حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں کا فوری طور پر پتا نہیں چل سکا ۔ ہلال احمر نے کہا ہے کہ وہ اپنی طبی ٹیموں تک نہیں پہنچ سکتا اور رہائشی اب ایمبولینسز کو کال نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امدادی کارکنوں کو حملوں سے زخمی ہونے والوں کو ڈھونڈنے کے لیے دھماکوں کی آواز کا پیچھا کرنا پڑے گا۔
بین الاقوامی امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ سیٹیلائٹ فون کا استعمال کرتے ہوئے صرف عملے کے چند افراد تک ہی پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
انٹرنیٹ مانیٹرنگ سروس نیٹ بلاکس کے مطابق غزہ میں مواصلاتی نظام معطل ہوچکا ہے۔ فلسطینی ہلال احمر نے کہا ہے کہ غزہ میں اس کی ٹیموں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ ’ہمیں خدشہ ہے کہ ہماری ٹیمیں ایمرجنسی طبی سروسز دینے کے قابل رہیں گی یا نہیں، خاص کر جب اس معطلی سے ایمرجنسی نمبر 101 متاثر ہوا ہے۔‘
اس دوران جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اکثریت نے اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری جنگ بندی کی قرار منظور کی جسے اسرائیل نے مسترد کیا ہے۔ قرارداد کے حق میں عرب ممالک اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب سے مجموعی طور پر 120 ووٹ آئے جبکہ 14 ملکوں نے اس کے خلاف ووٹ دیا اور 45 ملک غیر حاضر رہے۔