غزہ غیر محفوظ، عالمی برادری کیوں خاموش ہے؟

اقوام متحدہ کی غزہ میں کوئی محفوظ جگہ نہ ہونے کی وارننگ پر یورپی یونین کے رہنماؤں نے حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں "انسانی ہمدردی کی راہداریوں اور توقف "کا مطالبہ کرتے ہوئے  "محصور غزہ" میں پھنسے شہریوں تک امداد کی رسائی پر زور دیا ہے۔

24لاکھ کی آبادی والے غزہ میں خوراک، پانی اور ادویات کے صرف 74ٹرکوں کو داخل ہونے کی اجازت ملی ہے جنہیں امدادی گروپوں نے انتہائی ناکافی  قرار دیا ہے جب کہ اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ تنازع سے قبل تقریبا ً500ٹرک روزانہ وہاں داخل ہوتے تھے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈبلیو اے کے مطابق غزہ میں انسانی زندگی بچانے کے لیے درکار بنیادی اشیاء اور ایندھن کی اشد ضرورت ہے جہاں لوگ تین ہفتوں سے اسرائیل کی بمباری کے زیر اثر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے غزہ میں تین ہزار سے زائد بچوں کو نشانہ بنائے جانے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے"اجتماعی ضمیر"پر داغ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ریلیف کمشنر نے کہا تھا کہ"غزہ میں جنگ بندی نہ ہوئی تو تاریخ ہمارا محاسبہ کرے گی۔"حماس کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق تین ہفتوں سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک سات ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔حماس کے مطابق اسرائیلی بمباری میں زیر حراست 50اسرائیلی بھی مارے گئے ہیں۔واضح رہے کہ حماس کے جنگجو سات اکتوبر کے حملے میں اسرائیلی فوجیوں سمیت 200سے زائد افراد کو یرغما ل بنا کر غزہ لے گئے تھے۔

دوسری طرف اسرائیل حماس کا آپریشنل ڈھانچہ تباہ کرنے کے لیے غزہ پر ممکنہ زمینی حملے کی تیاریوں کو آخری شکل دے رہا ہے۔گزشتہ رات اسرائیلی دفاعی فورسز نے غزہ کی حدود میں داخل ہو کر ٹینکوں کی مدد سے "ٹارگٹڈ ریڈ" کی تاہم اب تک باقاعدہ زمینی آپریشن کے آغاز کا اعلان نہیں کیا گیا۔اگرچہ حماس کے بچھائے ہوئے سرنگوں کے جال سمیت کچھ اور وجوہات کی بنا پر اسرائیل زمینی حملے سے ممکن حد تک بچنے کو ترجیح دے رہا ہے۔ تاہم وہ سرحدوں پر تعینات فوجیوں کا مورال بلند ررکھنے اور یرغمالیوں کی رہائی کو ممکن بنانے کے لیے زمینی حملے کا تاثر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔دیکھاجائے تواسرائیل کے غزہ پر زمینی حملے میں تاخیر کی سب سے اہم وجہ 200سے زائد یرغمالی ہیں۔

دو روز قبل حماس نے چار یرغمالیوں کو انسانی ہمدردی کی بنا پر رہا کیا تھاجب کہ قطر پچاس مزید یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔اسی طرح اگرچہ اسرائیلوں کی ایک بڑی تعداد حماس کا نام و نشان مٹانے پر متفق ہے لیکن اس کے لیے وہ اسرائیلی فوجیوں اور یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے حق میں نہیں۔اسرائیل میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو پہلے ہی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کی پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں۔زمینی حملے کی صورت میں اسرائیلی فوجیوں یا یرغمالیوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ موجود رہے گا اور ایسے ممکنہ حالات اسرائیلی وزیراعظم کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیں گے۔

غزہ پر اسرائیلی زمینی حملے میں ایک بہت بڑا چیلنج غزہ کے نیچے حماس کی خفیہ سرنگوں کی وہ بھول بھلیاں ہیں جسے اسرائیل نے "غزہ میٹرو"کا نام دے رکھا ہے۔دو دن قبل اسرائیل ڈیفنس فورسز کے ترجمان نے کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں شہریوں کے لیے ایک پرت ہے اور پھر حماس کے لیے دوسری پرت۔ہم اس دوسری پرت تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ سرنگیں غزہ کے شہریوں کے لیے بنائے گئے بنکر نہیں ہیں۔یہ صرف حماس اور دیگر جنگجؤؤں کے لیے ہیں تاکہ وہ اسرائیل پر راکٹ داغتے، کاروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے اور جنگجوؤں کو اسرائیل میں داخل کرتے رہیں۔سرنگوں کے اس نیٹ ورک کے حجم کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کیوں کہ یہ ایک ایسے علاقے کے نیچے پھیلی ہوئی ہیں جو صرف41کلومیٹر طویل اور10کلومیٹر چوڑا ہے۔

2021میں ہونے والی لڑائی کے بعد اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے فضائی حملوں میں 100کلومیٹر سے زیادہ طویل سرنگوں کو تباہ کر دیا ہے۔اس دوران حماس نے دعوی کیا تھا کہ اس کی سرنگیں 500کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں اور صرف پانچ فیصد کونشانہ بنایا گیا ہے۔زیر زمین جنگ کے ماہرین کے مطابق غزہ کے اندر کی سرنگیں عام جنگی سرنگوں سے بہت مختلف ہیں۔ غزہ کے اندر کی سرنگیں سطح زمین سے 100فٹ نیچے ہیں اور ان کے داخلی دروازے مکانات، مساجد، اسکولوں اور دیگر عوامی عمارتوں کی نچلی منزلوں پر واقع ہیں تاکہ عسکریت پسند نشان دہی سے بچ سکیں۔یہ سرنگیں بجلی، روشنی اور ریل کی پٹڑیوں سے لیس ہیں اور حماس کے رہنما اور جنجگو وہاں چھپے ہوئے ہیں اور ان کے پاس کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز ہیں۔ماہرین کے مطابق اتنے وسیع علاقے پر پھیلی سرنگوں کو تباہ کرنے کی کوششوں سے زمین پر موجود اسرائیلی افواج، فلسطینی شہریوں اور یرغمالیوں کا بھی بھاری جانی نقصان ہوگا۔

اگرچہ امریکہ کے عرب اتحادی ممالک مصر، سعودی عرب، لبنان، اردن، متحدہ عرب امارات اور فلسطین اتھارٹی سب لڑائی روکنے کا ایک ساتھ مطالبہ کر رہے ہیں لیکن امریکہ کے خیال میں اس وقت جنگ بندی صرف حماس کو فائدہ دے گی۔امریکی حکومت کے بقول غزہ پر شدید بمباری کا مقصد حماس کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔غزہ کو غیر محفوظ بنانے کے اس غیر انسانی عمل پرعالمی برادری کی خاموشی اور کچھ نہ کر سکنے کی سب سے بڑی وجہ امریکہ بہادر کی اسرائیل کی غیر مشروط فوجی وسفارتی حمایت ہے۔امریکہ 1946سے لے کر اب تک اسرائیل کو260ارب ڈالر کی امداد دینے کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کے فورم پر درجنوں بار اسرائیل پر لگنے والی اقوام متحدہ کی پابندیوں کو ویٹو کر چکا ہے۔40سال قبل امریکی سیکرٹری خارجہ الیگزینڈر ہیگ نے کہا تھا کہ اسرائیل امریکہ کا سب سے بڑا جنگی طیارہ بردار جہاز ہے جو ڈوب نہیں سکتا، جس پر کوئی امریکی فوجی سوار نہیں اور یہ ایک ایسے خطے میں موجود ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے بہت اہم ہے۔

2014میں اس وقت کے نائب صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل نہ ہوتا تو ہمیں ایک ایسا ملک قائم کرنا پڑتا۔غزہ میں اسرائیل کے ظلم و جبر پر عالمی برادری کی خاموشی پرہمیں اس حقیقت کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اسرائیل کا قیام ہولوکاسٹ کے نتیجے میں ہی ممکن ہوا تھا۔ ہولوکاسٹ کے ازالے کے طور پر برطانیہ اور جرمنی سمیت مغربی یورپی ملکوں نے یہودیوں کو اسرائیل کی شکل میں ایک ملک دیا تھا۔ یورپی ممالک کی ہولو کاسٹ پر تنقید ممنوع قرار دینا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن سرائیل کے نسل پرستانہ رویے اور انسانی حقو ق کی بدترین خلاف ورزیوں پر ان کی زبان پر پڑے تالے ناقابل فہم ہی قرار دیئے جا سکتے ہیں۔