کرکٹ جنٹلمین کے خلاف منفی مہم!

میری کھیلوں سے دلچسپی صرف دیکھنے کی حد تک تھی۔ لڑکپن میں محمد علی کلے کی مکہ بازی کے مقابلے ٹی وی پر صبح سویرے لگتے تھے۔ تب تک ہمارے گھر ٹی وی نہیں تھا۔محلے کے ایک حاجی پتلی (ان کا اصل نام پتہ نہیں کیا تھا، ٹی وی لگا کے بچوں کو کنٹرول کرنے کیلئے وہ جس طرح متحرک ہوتے تھے اس بنا پر ان کا نام حاجی پتلی پڑ گیا تھا)۔

 اپنے گھر کے باہر ایک اونچی سی جگہ پر ٹی وی سیٹ رکھ کے محلے داروں کی تفریح طبع کا اہتمام کرتے تھے۔ جہاں مسجد سے نماز فجر سے فارغ ہو کر آنے والے بڑے بوڑھے اور اطفال و جوانان بھی جمع ہوتے۔ صبح صبح یہ میلہ باکسنگ کا مقابلہ ختم ہونے کے کچھ دیر بعد تک جاری رہتا۔ محمد علی کی فتح پر اس کے لیے نعرے لگتے، اس کے جیتنے کی یہ خوشی صرف اس لئے منائی جاتی تھی کہ وہ عیسائیت ترک کرکے اسلام قبول کر چکا تھا اور بطور مسلمان اسے مسیحی برادری کی جانب سے نفرت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ اس پر کئی بار حیلے بہانوں سے پابندیاں عائد کی گئیں،جیل میں بھی ڈالا گیا مگر اس کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ رفتہ رفتہ وہ مسلمانانِ عالم کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ اپنی چلبلی طبع کے باعث وہ ہردلعزیز شخصیت بن کر برسوں تک خبروں پر چھایا رہا۔ اور جب فوت ہوا تو اسے کئی بار جیل میں ڈالنے والی ریاستی طاقت نے اسے پورے قومی اعزاز کے ساتھ دفن کیا۔ یہ اس کے فن اور شخصی کردار کی پختگی تھی جس نے اس کے مخالفین کو بھی اس کی عظمت کا معترف کردیا۔

ہمارے ہاں اس زمانے میں بھولو پہلوان کا شہرہ تھا جس کی ہم نے تو کوئی کشتی نہیں دیکھی تھی البتہ اس کے چھوٹے بھائی اکرم عرف اکی پہلوان کی جاپان کے ریسلر انوکی سے ہونے والی کشتی دلچسپ رہی، جس میں اکی پہلوان نے "انوکی لاک " سے اپنی گردن چھڑوانے کیلئے اس کی کلائی پر اپنے دانت اتنے زور سے گاڑے کہ انوکی اس کی تکلیف عمر بھر محسوس کرتا رہا۔ اور بے شمار انٹرویوز میں اس نے اکی پہلوان کی اس بچگانہ حرکت کا دکھ بھرا اظہار کیا۔ بعد میں اس کا جھارا پہلوان سے بھی ایک مقابلہ ہوا جو فنی طور پر برابر رہا مگر انوکی نے سپورٹس مین سپرٹ دکھاتے ہوئے جھارا پہلوان کا ہاتھ پکڑ کر بلند کرکے اپنی عظمت کی دھاک بٹھا دی۔ انوکی عراق کے دورے پر کربلا کی زیارت کرنے گیا اور مسلمان ہو کر محمد حسین انوکی کے نام سے فوت ہوا۔

 ہمارے لڑکپن میں پاکستان کی ہاکی ٹیم کی بہت شہرت تھی۔ خالد محمود کی کپتانی میں پاکستان ہاکی کے کھیل میں عالمی کپ جیت کر لایا تو پورے پاکستان میں خوشی کا سماں تھا۔ بڑے بڑے شہروں میں  عالمی کپ کی نمائش  ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی پذیرائی کے لئے جلوس نکالے گئیمگر پھر ہاکی فیڈریشن میں سیاست گردی شروع ہوگئی اور آج ہمارے اس قومی کھیل کا کوئی پرسان حال نہیں۔ بالکل جس طرح اسکواش پر برسوں تک چھائے رہنے والے جہانگیر خان اور جان شیر خان کے بعد سکواش کا کھیل فراموش کر دیا گیا ہے۔

اب لگتا ہے کہ کرکٹ کی خیر نہیں۔ میرے جیسے لاکھوں شائقین کرکٹ ایسے ہیں جنہوں نے کبھی گیند بلے کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔میرے بڑے بھائی ضمیر مرحوم کرکٹ کے کھلاڑی تھے۔ اباجی کو بھی کرکٹ کا کھیل پسند تھا، ان کے دور میں ریڈیو پہ اردو اور انگریزی  زبانوں میں رواں تبصرہ نشر ہوتا تھا جس میں بہت کمال کے تبصرہ کرنے والے ہوتے تھے۔عمر قریشی،  افتخار احمد اور چشتی مجاہد انگریزی جبکہ حسن جلیل اور منیر احمد اردو زبان کے کمنٹیٹرز تھے۔  یہ سب لوگ اپنے زور بیان سے سامعین کو ناظرین بنا دیتے تھے۔ شارجہ میں جاوید میاں داد کے چیتن شرما کو مارے گئے چھکے پر افتخار احمد کی پرجوش آواز میں تبصرہ آج بھی یاد ہے۔  اس تبصرے نے ہی میاں داد کے چھکے کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت کے مبصرین کرکٹ ہر طرح کے تعصبات سے بالاتر صرف کھیل پر بات کرتے تھے۔ جب سے کرکٹ کے کھلاڑی کمنٹری بکس میں بیٹھے ہیں،تب سے ہیرو کو زیرو بنانے کا گندا کھیل شروع ہو گیا ہے۔ہر کوئی اپنے پسندیدہ کھلاڑی کو ٹیم میں دیکھنا چاہتا ہے اور اپنی مرضی کا کپتان بھی۔

اس حوالے سے جتنا گند موجودہ ورلڈ کپ کے موقع پر دیکھنے میں آیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ بابر اعظم کے خلاف مبینہ جواریوں پر مشتمل گروہ ورلڈ کپ سے پہلے ہی سے سرگرم تھا۔ان لوگوں نے کپتان کے خلاف ٹی وی سکرینز پر آکر جو زہر اگلا، اس نے ہمارے ہیروز کو ذہنی دبا ؤمیں لا کر حریفوں کو ان پر سبقت لینے کا موقع فراہم کیا۔میں ایک عام سا شوقین ہوں، اتنا جانتا ہوں کہ بابر اعظم کے خلاف جاری منظم پراپیگنڈا صرف اس لئے کیا گیا تاکہ اس نوجوان کو کپ جیت کر لمبے عرصے کی کپتانی نہ مل جائے۔کیونکہ ایسا ہونے سے ان کے بیٹوں اور دامادوں کو کرکٹ ٹیم کا کپتان تو کیا قومی ٹیم میں اپنی جگہ تک نہ ملتی۔بابر اعظم کرکٹ کے روایتی تصور "جنٹلمین" کاحامل کھلاڑی ہے۔یہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا واحد کپتان ہے جس کے دور میں قومی ٹیم کو عالمی درجہ بندی میں اول پوزیشن حاصل ہوئی۔ بطور کپتان اس نے رنزکے انبار لگا دیئے۔ سنچریاں اور ففٹیز کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ کیا۔جنوبی افریقہ کے خلاف ففٹی بنا کر سب سے کم اننگز میں پچاس ففٹیز بنا کر وہ ہاشم آملہ کا ریکارڈ توڑ چکا ہے۔

 اس کے علاوہ بھی بڑے بڑے کھلاڑیوں کے بیسیوں ریکارڈ اس نے توڑے اور ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر اس پر تند و تیز حملے کرنے والے اس کھلاڑی کو کپتانی سے تو کیا ٹیم سے ہی چھٹی کروانے کے لئے اتاولے ہو رہے ہیں۔تاکہ کسی کے داماد کو کپتانی مل جائے اور کسی کے بیٹے یا بھائی، بھتیجے کو ٹیم میں جگہ۔ قومی مفاد سے کھیلنے والے ان خود غرض لوگوں کو شٹ اپ کال جانی چاہیے۔ ورلڈ کپ تو ہاتھ سے گیا قومی پرچم سربلند رکھنے والے جنٹلمین سے قوم کو محروم نہیں ہونا چاہیے۔