مقامی حکومتوں کا مقدمہ کون لڑے گا؟

شاندار اسکول دیکھ کر ہم نے پوچھا: یہ اسکول اسٹیٹ چلاتی ہے یا فیڈرل گورنمنٹ ؟ اس نے مسکرا کر جواب دیا:  فیڈرل یا اسٹیٹ حکومت کا ہماری کاؤنٹی کے سکول سے کیا لینا دینا؟

ہم نے حیرت سے پوچھا:  اس شاندار سکول کی تعمیر اور اس کے جاری اخراجات کیسے فراہم ہوتے ہیں؟ وہ میری کم علمی اور بے خبری پر مسکرایا اور بولا:  امریکہ میں اسکول کاؤنٹی کی ذمہ داری ہیں۔ امریکہ میں لوگ رہائش اختیار کرتے ہوئے اس نکتے پر بہت زور دیتے ہیں کہ ان کی رہائشی کاؤنٹی میں اسکول کیسے ہیں؟ جن کاؤنٹیز کے مالی وسائل زیادہ  اور انتظامی صلاحیتیں بہتر ہیں،  وہاں سکولوں کی صورتحال اور  کوالٹی ایجوکیشن بہت بہتر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی کاؤنٹیز میں اسکولوں کی بہتر رینکنگ کی وجہ سے پراپرٹی کی قیمتیں بہت زیادہ  ہیں۔ 

ہم نے یہ مکالمہ امریکہ میں پانچ سال قبل جارجیا اسٹیٹ میں اٹلانٹا شہر کے ایک سکول کے سامنے اپنے میزبان سے کیا۔ گزشتہ 25 سالوں میں مختلف ممالک کا سفر کیا۔ بہت سے سیاسی نظام دیکھنے کا موقع ملا۔ کچھ ممالک میں آمرانہ،  کچھ میں جمہوری اور کچھ میں ملا جلا  لیکن  بیشتر ممالک میں نمائندہ مقامی حکومتوں کو کسی نہ کسی شکل میں ضرور پایا۔ مقامی حکومتوں  کی ہیت، ساخت اور نمائندگی کے مختلف انداز اور ماڈلز ہیں لیکن مقصد ایک ہی ہے یعنی مقامی آبادی اپنے وسائل اور اپنے مسائل پر خود توجہ دے۔

مقامی حکومتوں کا صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے ساتھ وسائل اور ذمہ داریوں کا واضح تعین کسی نہ کسی قانونی اور آئینی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں بالعموم  حکومتی نظم کے تین لیولز ہوتے ہیں۔ اول:  وفاقی یا مرکزی، دوم: صوبائی یا ریاستی, سوم : مقامی حکومتیں۔ ضرورت اور آبادی کے حساب سے مقامی حکومتوں کے مزید لیولز بھی مستعمل ہیں جیسے میونسپلٹی ، ٹاؤنز، ولیج وغیرہ۔ 

مقامی حکومتیں مقامی مسائل اور وسائل پر اپنی بہتر گرفت کی وجہ سے مقامی مسائل کو پائیدار انداز میں حل کرنے اور ترقی کا گراف اونچا رکھنے میں بالعموم کامیاب رہتی ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتیں نئی سیاسی قیادت کی تشکیل میں بھی ایک نرسری کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ترکی کے موجودہ صدر طیب اردوان استنبول کے میئر تھے۔ اپنی انتظامی صلاحیتوں کے بل بوتے پر دیکھتے ہی دیکھتے ملکی سیاسی منظر پر چھا گئے۔ اسی طرح انڈونیشیا کے موجودہ صدر بھی جکارتہ کےمیئر تھے۔ پڑوس میں نئی دہلی سے ابھرنے والی عام آدمی پارٹی کے سربراہ بھی مقامی حکومت کی دین ہیں۔ اسی طرح نیویارک ، لندن، پیرس، برسلز ، بیجنگ، شنگھائی سمیت دنیا بھر کے تمام بڑے اور درمیانے شہروں میں مقامی حکومتیں اپنے شہروں کے انفراسٹرکچر کو بہتر اور شہری نظام کو موثر اور پرکشش  رکھنے کے لئیے کوشاں رہتی ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ 75 سال میں جمہوریت اور سیاسی نظام میں مختلف تجربات کیے گئے۔ تاہم سب سے زیادہ تجربات مقامی حکومتوں کے وجود اور ڈھانچے پر کئے گئے۔ ملک میں جمہوری نظام برے بھلے انداز میں لشٹم پشٹم ڈگ بھرنے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن مقامی حکومتوں کا نظام اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکا۔ ایسا کیوں ہے؟ اس سوال کا علمی اور فکری جواب ڈھونڈنے کی کوشش میں معروف دانشور ، تجزیہ نگار و کالم نگار سلمان عابد نے انتہائی بامقصد کتاب تحریر کی ہے: مقامی حکومتوں کا مقدمہ سیاست:  جمہوریت، عدم مرکزیت اور شفاف حکمرانی۔

ان کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ مقامی حکومتیں جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ اگر یہ عمل کھوکھلا رہ جائے تو موثر اور پائیدار جمہوریت کا پنپنا بھی نامکمل ہے۔ اس وقت ملک میں انتخابات کا ماحول بن رہا ہے۔  انتخابات کے حوالے سے تمام تر فوکس وفاقی  اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پر ہے۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف کی واپسی کے بعد الیکشن کے ممکنہ منظر نامے پر تمام گفتگو وفاقی اور صوبائی الیکشن کے مختلف زاویوں پر مرکوز ہے۔ متوازی منظر میں پی ٹی ائی کے قائد عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی قید و بند سے سیاسی منظر پر چھائی ہوئی دھند  بھی موجود ہے۔ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں بھی اپنے اپنے انداز اور شکوے شکایتوں کے ساتھ الیکشن کے میدان میں اپنی اپنی بساط بچھانے میں مصروف ہیں۔

 ماضی کی سیاست اس امر کی گواہ ہے کہ جمہوری ادوار میں تمام بڑی جماعتوں کے منشور میں مقامی حکومتوں کے وعدے وعید کے باوجود حکومتوں میں آنے کے بعد ان جماعتوں نے ایڑی چھوٹی کا زور لگایا کہ مقامی حکومتوں کے الیکشن نہ ہوں۔ چند بار مجبوراً الیکشن کروانے پڑے تو الیکشن رولز اور ریگولیشن کچھ اس انداز میں ترتیب دے دیے گئے کہ مقامی حکومتوں کے پاس وسائل اور اختیارات نہ ہونے کے برابر ہوں۔ مزید براں مقامی حکومتوں کے انتظامی امور پر صوبائی حکومتوں نے بیوروکریسی کے  بالواسطہ کنٹرول سے انہیں عملاً  ناکارہ بنا کے رکھا ۔ 

عجیب طرفہ تماشہ ہے کہ آمریت کے دور میں اپنے قانونی جواز کی خاطر اور عوام کو اختیارات میں شرکت کا آسرا  دینے کے لیے ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں مقامی حکومتوں کا ڈول ڈال ڈالا جاتا رہا۔ ماضی اس امر کا گواہ ہے کہ سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ مقامی حکومتوں کے قیام سے گریز کیا جبکہ آمرانہ ادوار نے ان کا سہارا لینے کی کوشش کی۔ بار بار کی متضاد کوششوں نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی حکومتوں کا پودا کبھی بھی جڑ پکڑ سکا اور نہ پوری طرح اپنا جوبن حاصل کر سکا۔

سلمان عابد سنجیدہ قومی، علاقائی اور عالمی امور پر لکھتے ہیں۔ جمہوریت، انسانی حقوق ، مقامی حکومتوں کا نظام ، انتہا پسندی، صنفی امتیاز اور باہمی تنازعات جیسے نازک موضوعات پر ان کی دسترس کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔ مقامی سیاست کے علاوہ علاقائی سیاسی امور پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ پانچ کتابوں کے مصنف ہیں: 

پاکستان کا نیا سیاسی نظام اور مقامی حکومتوں کا کردار

مقامی حکومتوں اور اختیارات کی تقسیم

پاکستان میں جمہوریت کے تضادات

دہشت گردی ایک فکری مطالعہ

قلم  کے ساتھ انہیں یہ تعلق ورثے میں ملا۔ ان کے والد  انتہائی معروف صحافی اور مدیر تھے۔ سلمان عابد نے  اپنے والد عبدالکریم عابد پر ’ایک شخص ایک عہد کے نام‘ لکھ کر قابل فرزند ہونے کا حق ادا کیا۔

سلمان عابد نے مقامی حکومتوں کے اس مقدمے کی تیاری میں اپنے مشاہدات اور بیس سالہ عملی تجربے کے ساتھ ساتھ پولیٹیکل سائنس کے مقامی اور انٹرنیشنل لٹریچر کا گہرا اور منظم مطالعہ بھی کیا ۔ کتاب میں جمہوریت اور مقامی حکومتیں،  مغرب میں مقامی حکومتوں کے نظام کا جائزہ، ایشیائی ممالک میں مقامی حکومتوں کے نظام کا جائزہ، پاکستان میں مقامی حکومتوں کی اہمیت اور تاریخی پر منظر ، پاکستان میں مقامی حکومتوں کا موجودہ نظام ، مقامی حکومتوں کی ذمہ داریاں اور مقامی حکومتوں کے مستقبل پر تفصیلی باب تحریر کیے ہیں۔ اس کتاب کے سرسری مطالعے سے پاکستان کی سیاست کے مسنگ لنک کو سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔  سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوریت سے خائف لیکن  صوبائی اور مرکزی سطح پر  وسائل اور اختیارات پرکامل کنٹرول کی خواہش مند رہتی ہیں۔ اسی لیے کم و بیش تمام سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کے قیام سے گریز پا رہی ہیں۔

یہ کتاب پولیٹیکل سائنس کے لٹریچر میں ایک وقیع اضافہ ہے۔ یہ کتاب ہماری سیاست کے ایک مسنگ لنک کی نہ صرف نشاندہی کرتی ہے بلکہ اس موضوع کے تاریخی اور فکری پس منظر کو کھنگال کر مقامی حکومتوں کے مسائل اور ان کے لیے تجاویز بھی پیش کرتی ہے۔ اس اعتبار سے سلمان عابد کی یہ کتاب سیاست اور نظام حکومت  سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے معرکے کی چیز ہے۔

 بقول سلمان عابد بدقسمتی سے مقامی حکومتوں کے نظام میں عدم تسلسل، باقاعدگی سے انتخابات کروانے سے گریز، مقامی حکومتوں کو سیاسی سطح پر بنیاد بنا کر معطل کرنا ، ان کے انتظامی اور مالیاتی اختیارات پر قدغن لگانا اور کئی کئی برس تک ان مقامی حکومتوں کے انتخابات نہ کروانے کے عمل کے پیچھے ایک بنیادی وجہ ان اداروں کے آئینی تحفظ کی عدم موجودگی ہے۔ اس لیے اس نظام کو ائینی تحفظ دینے کے لیے  آئین میں مناسب ترامیم کرنا ہوں گی تاکہ ان اداروں کو ائینی تحفظ حاصل ہو سکے۔

حالیہ سیاسی جوار بھاٹے سے  گمان پیدا ہو رہا ہے کہ ایک بار پھر سیاست ڈیل، ڈھیل اور پٹے ہوئے راستے پر سفر کے لیے تیار ہے۔ مقامی حکومتوں کا قیام اور بااختیاری کسی بھی سیاسی بحث مباحثے کا حصہ نہیں ہے۔ اس اعتبار سے اس کتاب نے دانستہ نظر انداز کئے جانے والے موضوع کی بروقت نشان دہی کی ہے ۔