غزہ پر اسرائیلی بمباری سے مجموعی شہادتیں 7700 سے بڑھ گئیں

  • اتوار 29 / اکتوبر / 2023

غزہ میں شدید اسرائیلی بمباری سے مزید سینکڑوں شہید ہوگئے۔ غزہ کا دنیا سے رابطہ بدستور منقطع ہے جبکہ ایلون مسک نے غزہ میں سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ سروس فراہم کردی ہے۔

جاں بحق ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 7700 سے تجاوز کرچکی ہے۔ ان میں 3600 بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ میں زمینی حملوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور حملے موثر انداز میں جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج نے حماس کی فضائی کارروائی کے انچارج کو نشانہ بنانے اور جنوبی لبنان میں بمباری  کا دعویٰ بھی کیا۔ القسام بریگیڈ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی میں راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔

بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے مطابق اسرائیلی فورسز نے غزہ میں بھرپور طاقت کے ساتھ آپریشن اور وحشیانہ بمباری شروع کردی ہے، جس کی نتیجے میں غزہ کی پٹی میں مواصلاتی نظام مکمل تباہ ہوگیا ہے۔ الجزیزہ کے مطابق فلسطینی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی جوال نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری سے آخری بچنے والی انٹرنیشنل کیبل بھی تباہ ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے غزہ کا رابطہ دنیا سے کٹ گیا ہے۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق غزہ میں 100 سے زائد فضائی طیارے بمباری کررہے ہیں جبکہ ٹینکس اور توپوں کے ذریعے بھی بمباری کی جارہی ہے۔  ہر طرف تباہی اور آگ لگی نظر آرہی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہگری نے کہا کہ آج کی رات ہماری فورسز غزہ میں زمینی آپریشن کا دائرہ بڑھا رہی ہیں۔  مختلف علاقوں میں شدید بمباری بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ شہر کے لوگ اپنے گھروں سے جنوبی علاقوں کی طرف نقل مکانی کرلیں کیونکہ اسرائیل کی جانب سے فضائی کارروائیاں بھی کی جائیں گی۔

ہگری نے کہا کہ ہماری افواج مغویوں کی بازیابی کیلیے اس مشن کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچائے گی اور ہم ہر طریقے سے دفاع کیلیے بھرپور انداز سے تیار ہیں۔

اسرائیل کی توپوں نے غزہ میں قائم الشفا اسپتال کے قریب بھی شدید بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں جانی نقصان کا اندازہ نہیں ہوسکا۔ غزہ میں قائم الشفا اسپتال کے ترجمان نے اس اسرائیلی دعوے کی تردید کی ہے کہ اسپتال حماس کا ہیڈکوارٹر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔  ترجمان نے کہا کہ اسرائیل نے جھوٹی آڈیو ریکارڈنگ تیار کرکے ہم پر الزام عائد کیا کہ اسپتال میں حماس کے لوگ موجود ہیں۔

اُدھر وزیر صحت نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ آپریشن سے قبل غزہ پر ہونے والی وحشیانہ بمباری میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 7400 سے تجاوز کرگئیں جبکہ 21 ہزار کے قریب لوگ زخمی ہیں۔ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں سے اب تک 110 فلسطینی شہید اور 1950 زخمی ہوئے ہیں۔

اردن کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں شروع کیے جانے والے تازہ آپریشن پر کہا ہے کہ اسرائیل اب دنیا کو جہنم بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ معصوم نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کا عمل قابل نفرت اور قابلِ مذمت ہے۔

دوسری طرف ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے اسرائیل کے غزہ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اب حد سے تجاوز کر لیا ہے جو کسی کو بھی اس کے خلاف کارروائی پر مجبور کر سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ایرانی صدر رئیسی نے مزید کہا کہ واشنگٹن ہم سے کوئی قدم نہ اٹھانے کو کہتا ہے لیکن وہ خود اسرائیل کی وسیع حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔

ان کے مطابق ’امریکہ نے مزاحمتی اتحاد کو پیغامات بھیجے لیکن ان کا جواب انہیں واضح طور پر میدان جنگ میں ملا‘۔ مزاحمتی اتحاد سے مراد پورے مشرق وسطیٰ میں ایران کی حمایت یافتہ فورسز کا نیٹ ورک ہے جس کا حماس ایک حصہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکی حکام ایران کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل اور حماس جنگ سے دور رہے کیونکہ وہ وسیع تر علاقائی تنازع کو روکنے کا خواہاں ہے۔