سپریم کورٹ نے نیب عدالتوں کو نیب کیسز کا فیصلہ کرنے سے روک دیا

  • منگل 31 / اکتوبر / 2023

نیب ترامیم فیصلے کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی، اٹارنی جنرل اور تمام ایڈوکیٹ جنرل کو بھی نوٹس جاری کیا ہے جبکہ ماتحت عدالتوں کو نیب کیسز کا فیصلہ کرنے سے روک دیا ہے۔

نیب ترامیم فیصلے کے خلاف اپیلیوں پر سماعت ساڑھے گیارہ بجے شروع ہوئی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ لارجر بینچ میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللّٰہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی شامل ہیں۔

 سپریم کورٹ نے عدالتی حکم اور اپیلوں کی نقول چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں فراہم کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے صوبوں اور اسلام آباد کے ایڈوکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کر دیے۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد نیب ترامیم انٹرا کورٹ اپیل دوبارہ مقرر کی جائے گی۔

حکم نامے کے مطابق عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ تیسری نیب ترمیم مئی میں آئی جبکہ فیصلے میں اس کا جائزہ نہیں لیا گیا۔ تیسری نیب ترمیم کے بعد مقدمہ کی چھ سماعتیں ہوئی تھیں اور بتایا گیا کہ تیسری ترمیم کے بعد ٹرائل کورٹس بھی کنفیوژن کا شکار ہیں کہ کیسے آگے چلا جائے۔ ابتدائی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ نیب قانون میں تین ترامیم کی گئیں، عدالت کو بتایا گیا کہ نیب کی تیسری ترمیم کو چیلنج نہیں کیا گیا۔

نیب ترامیم کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی فاروق ایچ نائیک کی استدعا بھی مسترد کر دی گئی۔ سپریم کورٹ نے کیس کے حتمی فیصلے تک تمام متعلقہ عدالتوں کو حتمی فیصلہ کرنے سے بھی روک دیا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ کیس کی آئندہ سماعت تک متعلقہ عدالتیں نیب کیسسز کا حتمی فیصلہ نہ کریں۔ متعلقہ عدالتیں ٹرائل تو جاری رکھ سکتی ہیں مگر ٹرائل پر حتمی فیصلہ نہ دیں۔ کوئی ملزم ٹرائل کورٹ سے ضمانت لینے کا بھی حقدار ہوگا۔

سماعت سے قبل وفاقی حکومت نے انٹرا کورٹ اپیل کی پہلی سماعت پر کیس میں التوا مانگا جس کے لیے درخواست دائر کی گئی۔ درخواست میں موقف دیا گیا کہ وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان بیرون ملک ہیں۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل پاکستان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وکیل مخدوم علی خان کو وکیل کیا گیا ہے۔ اصل کیس اور اپیل دونوں میں مخدوم علی خان ہی وکیل تھے اس لیے مخدوم علی خان کی جانب سے کیس ملتوی کرنے کی درخواست دی گئی ہے۔ مخدوم علی خان 3 نومبر تک چھٹی پر ہونے کے باعث بیرون ملک ہیں۔