غزہ میں حماس اور اسرائیلی فوج میں لڑائی، نیتن یاہو نے جنگ بند کرنے سے انکار کردیا
غزہ میں اسرائیل فوج کا حملہ جاری ہے اور خبروں کے مطابق حماس اور اسرائیلی فوجہوں مٰن شدید جنگ ہورہی ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوج کی تین گاڑیوں پر ٹینک شکن میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔
حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈز کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی غزہ میں تین اسرائیلی گاڑیوں پر حملہ کیا۔ گاڑیوں پر اس وقت ٹینک شکن میزائل سے حملہ کیا گیا جب وہ التوام کے علاقے میں غزہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس سے قبل کی ایک تازہ بیان میں حماس کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی غزہ میں کریم کراسنگ کے قریب اسرائیلی فوج کے زمینی دستوں پر مارٹر گولوں سے حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان پیٹر لرنر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی افواج اور حماس کے درمیان گزشتہ رات سے بڑے پیمانے پر جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اسرائیلی فوج حماس کو قدم بہ قدم ہر حملے میں تباہ کر رہی ہے۔
دوسری طرف خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے یمن کے حوثی باغیوں نے آج اسرائیل پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ جنوبی اسرائیل میں بحیرہ احمر پر ایلات بندرگاہ پر آج ایک نامعلوم ’فضا میں موجود ہدف‘ کے باعث سائرن بجنے کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس دوران کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
غزہ میں وزارتِ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر کے بعد سے کم سے کم 8525 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 3542 بچے اور 2187 خواتین شامل ہیں جبکہ 130 طبی کارکنان بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبے کے باوجود اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے اور وزیر اعظم نتن یاہو نے فوری جنگ بندی کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے خاتمے کا منصوبہ جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ نے غزہ میں صورت حال مخدوش ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
اس سے قبل فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے بتایا کہ القدس ہسپتال کا قریبی علاقہ اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں موجود افراد کے پاس پانی کی کمی ہے اور امریکہ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں غزہ میں انسانی امداد پہنچنے کی رفتار تیز ہو گی۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ نامی تنظیم کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کے دوران اب تک 31 صحافی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 26 فلسطینی اور چار اسرائیلی صحافی ہیں۔ ایک لبنانی صحافی بھی ہلاک ہوا ہے جبکہ آٹھ صحافی زخمی ہوئے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق نو صحافی لاپتہ یا حراست میں ہیں۔
سوموار کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کمیٹی نے کہا کہ غزہ میں صحافیوں کو اسرائیلی بمباری اور زمینی حملے کے پیش نظر شدید خطرات کا سامنا ہے۔ ہلاک ہونے والے صحافیوں میں رشدی سراج نامی فلسطینی فلم ساز اور عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے ویڈیو گرافر اعصام عبداللہ بھی شامل ہیں۔ اعصام لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیل کی جانب سے ہونے والی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر تفتیش کر رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے روئٹرز اور اے ایف پی کو بتایا ہے کہ وہ غزہ میں ان خبر رساں اداروں سے منسلک صحافیوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی۔