طاقتور اسٹیبلشمنٹ ، مہرے سیاستدان اور نڈھال عوام

اس بدقسمت ملک کو پہلے دن سے ہی سایہ آشوب نے آ لیا اور ایک ایسے دائرے میں گھمادیا جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ پاکستان ایک ایسے وقت میں معرض وجود میں آیا جب دنیا جنگوں سے تائب ہو کر اقتصادی ترقی کا رخت سفر باندھ رہی تھی اور نئی طاقتیں ابھر رہی تھیں۔

دنیا کی سیاست نئے نظریات پر استوار ہو رہی تھی جن ممالک نے آمریت سے جمہوریت کی طرف رجوع کر لیا اور اپنے ممالک کے اندرونی و بیرونی معاملات میں گفت و شنید کو ہی بڑا ہتھیار بنا لیا، وہ ترقی کی جانب چل پڑے اور جن ممالک کے اندر آمریت نے اقتدار کے کھیل کی لت لگا دی اور اپنے ہمسائیوں کے ساتھ بھی بگاڑ رکھی اور اپنی قوم کے سر پر جنگی اور مذہبی بھوت سوار کر دیا وہ زوال کا شکار ہوئے۔ آمریت ایک ایسا آشوب ہے جو کسی بھی قوم کی اجتماعی فراست کو گروہی تعصب، جنگی جنون، مذہبی گروہ بندیوں اور جاہلیت میں بدل دیتا ہے۔ چونکہ آمر کی پہلی کوشش اپنا اقتدار مضبوط کرنا ہوتی ہے جس کے لیے وہ قوم کو نئے نئے بیانیے دیتا ہے، قوم میں تقسیم پیدا کرتا ہے، ایک گروہ کو لالچ دیکر دوسرے کے ساتھ لڑواتا ہے۔ پھر کبھی ایک گروہ کو اقتدار میں شامل کر کے دوسرے کو زیر عتاب لاتا ہے تو کبھی دوسرے کو عتاب سے نکال کر اقتدار میں حصہ دے کر پہلے والے پر تازیانے برساتا ہے۔

پاکستان بھی ایسا ہی ایک ملک ہے جس میں جمہوریت تو پنپ نہ سکی لیکن آمریت کی جڑیں مضبوط ہوتی رہیں۔ کہنے کو تو پاکستان میں زیادہ وقت جمہوری ادوار کہلاتا ہے مگر اس جمہوری چہرے کے پس پردہ آمریت ہی موجود رہی ہے۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو کے تین چار برس کو استثنی دے بھی دیا جائے جس میں 73 کا آئین بھی ملا تو باقی 73 برس آمریت کے سائے تلے ہی گزرے ہیں۔

اب سوال یہ بھی ہے کہ اس ملک میں جمہوریت کیوں نہیں چل سکی تو اس کا مختصر جواب تو یہی ہے کہ جب جمہور کو ہی زندہ نہیں رہنے دیا گیا تو پھر جمہوریت کیسے جاں بر ہو سکتی تھی۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ 25 کروڑ زندہ لوگوں کا ملک ہے جس میں زندہ دلان لاہور بھی شامل ہیں تو یہ بھی سوچ لیں کہ زندہ ہونے کے لیے اپنی سوچ کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ پھر سوچیں کہ کیا ہم اپنی ہی سوچ کے ساتھ زندہ ہیں؟ کیا ہم بااختیار ہیں؟

اس خاکسار نے ایک بار اوسلو کے محفل ریسٹورنٹ پر ایک بھری محفل میں (جس میں 6 برگیڈیر سمیت 16 فوجی افسران بھی تھے) وفد کے سربراہ برگیڈیر صاحب سے سوال پوچھا کہ کیا آپ اپنا ووٹ اپنی مرضی اور آزادی سے استعمال کرتے ہیں تو ان کا جواب نفی میں تھا۔ اچھا ہوا انہوں نے جواب نفی میں دیا اگر ہاں کہتے تو اگلا سوال بہت ہی مشکل ہونا تھا۔ اگر برگیڈیر عہدہ کا بندہ ووٹ دینے میں آزاد نہیں ہوا تو پاکستان کے کروڑوں مزارعے، مزدور اور غربت کے مارے لوگ کہاں آزادی سے ووٹ استعمال کرتے ہوں گے؟ اس کے بعد ہماری تعلیم بھی کنٹرولڈ نصاب میں لپٹی ہوئی ہے۔ ہماری مذہبی اور دینی تعلیم بھی اپنی اپنی ٹوپیوں اور پگڑیوں کے سائے میں ہی پروان چڑھتی ہے۔ کسی کو سوال کرنے کی اجازت ہے نہ کسی سوال کا جواب

تو اس کا مطلب تو یہی ہے نا کہ ہم اپنی سوچ کے ساتھ زندہ نہیں ہیں پھر زندہ کیسے ہوئے؟

اس وقت جو پاکستان کے حالات ہیں، معاشی بحران منہ کھولے کھڑا ہے، سیاسی افراتفری اور ملک عدم استحکام کا شکار ہے. ادارے اپنی جگہ پریشان کہ اب عوام کے اندر وہ پہلے والا مقام نہیں رہا ہے لیکن ہماری مقتدرہ عرف عام میں اسٹیبلشمنٹ نے اپنا رویہ اور روٹین بدلے ہیں نہ سیاستدان ہوش کے ناخن لینے کو تیار ہیں۔

دراصل ہمارے ملک میں سیاستدان نہیں، اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں جب تک خود ان کے سر میں چوٹ نہیں لگتی اس وقت تک یہ جمہور کے نہیں کسی اور کے نمائندے ہوتے ہیں اور جب ٹھوکر مار کر اقتدار سے نکال دیے جاتے ہیں تو پھر روتے کرلاتے عوام کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ کوئی جمہوریت کو مضبوط کرنے کی آواز بلند کرتا ہے تو کوئی ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ مستانہ بلند کرتا ہے۔ آج کل حقیقی آزادی کی تحریک چلانے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ جمہوریت کی مضبوطی، ووٹ کی عزت اور حقیقی آزادی کس طرح ہو سکتی ہے۔ آپ ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان رہتے ہو اور جس کو بھی اسٹیبلشمنٹ تھوڑی لفٹ دیتی ہے وہ ادھر دوڑ پڑتا ہے۔ اور عوام ہیں ان کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں۔

آج کل اسٹیبلشمنٹ بھی ایک بار پھر اپنے ’بوڑھے گھوڑے‘ پر سوار ہو کر عوام میں اپنی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش میں ہے۔ اسی لیے چند دن پہلے سپہ سالار صاحب نے نیشنل سیکورٹی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمارے لیے  ہر پاکستانی کی سلامتی بہت اہم ہے۔ لیکن یہ وضاحت نہیں کی کہ ان کی نظر میں کون سی جماعت کے لوگ پاکستانی ہیں اور کون کون غداری کے مرتکب ہو کر زیر عتاب ہیں۔ نیز سپہ سالار صاحب نے اپنی اس خواہش کا اظہار بھی فرمایا ہے کہ دانشور اور سول سوسائٹی عوام بالخصوص نوجوان نسل کے اداروں کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈے کے حوالے سے علم میں اضافہ کرے۔ جناب والا اس کے لیے اداروں کو بھی یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ ادارے اس ملک کے ادارے ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں کوئی کردار نہیں ہے۔ وہ صرف اور صرف آئین اور قانون میں دئیے گئے اختیارات کو ایمانداری اور مکمل غیر جانبداری سے استعمال کرتے ہیں۔

باقی سیاستدان آپ کے مہرے ہیں جس کو جہاں رکھنا چاہو رکھو لیکن تھوڑا سا عوام کے حالات کا بھی خیال کریں۔ عوام بیروزگاری کا شکار، مہنگائی اور غربت کے نیچے کراہ رہے ہیں۔ اور بھوکے پیٹ کوئی بات سمجھ آتی ہے نہ کوئی فلسفہ کام دیتا ہے۔