رفح کراسنگ سے غیرملکی شپریوں کا غزہ سے مصر کی طرف انخلا

  • بدھ 01 / نومبر / 2023

مصر، اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک معاہدے کے تحت غزہ میں موجود غیر ملکیوں اور شدید زخمیوں کو مصر داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔

قطر نے امریکہ کے تعاون سے مصر، اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے میں ثالث کا کردار ادا کیا۔ معاہدے کے تحت غیرملکی پاسپورٹ رکھنے والوں اور کچھ شدید زخمی افراد کو مصر اور غزہ کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی۔ یہ انخلا کب تک جاری رہے گا اس کی کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی ہے۔

معاہدے میں دیگر معاملات جیسے حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد اور غزہ میں انسانی بحران کو کم کرنے جیسے مسائل شامل نہیں ہیں۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے رپورٹ کیا ہےکہ رفح سرحد کھلنے کے بعد غیرملکی پاسپورٹ رکھنے والوں نے جنگ زدہ علاقے کو چھوڑنا شروع کردیا ہے۔ امکان ہے کہ بدھ کو لگ بھگ 400 غیر ملکی یا دہری شہریت رکھنے والے افراد اور تقریباً 90 بیمار و زخمی غزہ سے نکل جائیں گے۔

اس سے قبل رفح کراسنگ پر موجود ایک مصری عہدے دار نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ بدھ کو غیرملکی پاسپورٹ رکھنے والوں کے پہلے گروپ کو غزہ کی پٹی سے مصر جانے کی اجازت دی جائے گی۔ مصری اور فلسطینی حکام کے مطابق مصر کے سرکاری ٹیلی ویژن چینلز نے براہِ راست تصاویر شیئر کیں ہیں جس میں ایمبولینسز کا ایک بیڑہ 81 شدید زخمی فلسطینیوں کے علاج کے لیے مصر کی طرف سے ٹرمنل میں داخل ہو رہا ہے۔

سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد سے شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ اب زمینی لڑائی میں داخل ہوچکی ہے۔ اسرائیل کی فورسز غزہ میں زمینی آپریشن کر رہی ہے جہاں اس نے حماس کے مختلف ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

 ادھر حماس کی القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے منگل کو ٹیلی گرام ایپ پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ حماس نے ثالثوں کو بتایا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملے کے دوران پکڑے گئے 200 یا اس سے زیادہ غیر ملکیوں میں سے کچھ کو جلد رہا کردے گی۔ ابو عبیدہ نے اس بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ یرغمالیوں کی تعداد کتنی ہے اور وہ کس ملک سے تعلق رکھتے ہیں ۔

حماس اور اسرائیل کی جنگ میں اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل میں 1400 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جب کہ غزہ میں جوابی بمباری میں حماس کے زیرِ کنٹرول فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق 8500 سے زیادہ لوگ جان سے گئے ہیں جن میں 67 فی صد خواتین اور بچے ہیں۔

ڈاکٹروں کی تنظیم ایم ایس ایف نے بتایا ہے کہ جو بچے  ہسپتال میں علاج کی غرض سے لائے گئے ہیں وہ شدید زخمی ہیں اور وہ بہت زیادہ جھلس گئے ہیں۔ نرس محمد حواجرح کے مطابق یہ بچے بغیر اپنے خاندان کے ہسپتال تک آئے ہیں۔ ان بچوں کی اکثریت چیخ و پکار کر رہی تھی اور وہ بچے اپنے والدین کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ ایم ایف ایف نے جبالیہ کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے فوری طورپر سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں منگل کے روز ہلاک ہونے والے اپنے 11 فوجیوں کے نام ظاہر کر دیے ہیں۔ اسرائیل نے حماس کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔ اسرائیل کے کل ہلاک فوجیوں کی تعداد 326 ہو گئی ہے۔ منگل کو غزہ میں اسرائیل کے ہلاک ہونے والے تمام 11 فوجیوں کی عمریں 19 سے 24 کے درمیان تھیں۔

ادھر بولیویا نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ یوں بولیویا پہلا لاطینی امریکی ملک بن گیا ہے، جس نے غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائی پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات توڑ لیے ہیں۔

اس فیصلے کا اعلان ایوان صدر کی وزیر ماریہ نیلا پراڈا اور خارجہ امور کے وائس چانسلر فریڈی ممانی نے منگل کے روز کیا۔

وائس چانسلر فریڈی ممانی نے کہا کہ بولیویا نے ’غزہ کی پٹی میں جارحانہ اور غیر متناسب اسرائیلی فوجی حملے کی مذمت ہوئے ریاست اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کا عزم کیا ہے۔

ان کے مطابق ’ہم غزہ کی پٹی میں حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو اب تک ہزاروں شہریوں کی موت اور فلسطینیوں کی جبری بے گھری کا سبب بن چکے ہیں۔ بولیویا نے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سےخوراک، پانی اور زندگی کی دیگر اہم ضروری اشیا تک عوام کی رسائی مشکل ہو گئی ہے۔