سپریم کورٹ فیض آباد دھرنے کا راز جنرل فیض حمید سے معلوم کرے!

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے  ایک بار پھر 2017 کے فیض آباد دھرنا   فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ اب یہ معاملہ مزید کچھ عرصہ کے لیے مؤخر  کردیاگیا ہے کیوں کہ عدالت عظمی نے الیکشن کمیشن کو تحریک لبیک پاکستان کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ جمع کروانے کے لیے  ایک ماہ کی مہلت دی ہے۔   عدالت نے انوسٹی گیشن بیورو، تحریک انصاف، وزارت دفاع، متحدہ قومی موومنٹ اور اعجاز الحسن کی  درخواستیں واپس لینے کے سبب  خارج کردیں۔ البتہ پیمرا، الیکشن کمیشن اور شیخ رشید کی درخواستوں پر سماعت جاری رہی۔

اس دوران میں سپریم کورٹ نے پیمرا اور الیکشن کمیشن کے بارے میں سخت ریمارکس دیے اور اس امر پر افسوس کا اظہار کیا  کہ  عدالت کے سامنے سچ بیان کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ معزز جج حضرات نے   الیکشن کمیشن سے ٹی ایل پی  کی فنڈنگ  کے سوال پر تند و تیز سوال کیے اور الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا  الیکشن کمیشن ملک کے ساتھ مخلص  ہے؟  الیکشن کمیشن کے وکیل نے اس کا اثبات میں جواب دیا۔  مقدمہ کی سماعت کے دوران میں اس موقع پر دلچسپ  منظر دیکھنے میں آیا جب چیف جسٹس  قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ’ یہ بڑا عجیب اتفاق ہے کہ متعدد آئینی اداروں نے ایک ہی روز نظر ثانی کی درخواست دائر کی‘۔ اس پر اٹارنی جنرل منصور عثمان  اعوان نے جواب دیا کہ’ یہ حقیقت بھی اتفاق ہی ہے کہ نظر ثانی کی درخواستوں پر سماعت چار سال بعد شروع ہوئی  ہے‘۔

نظر ثانی کی اپیلوں پر سماعت کرنے والے بنچ کی سربراہی چیف جسٹس خود کررہے ہیں جبکہ  بنچ  میں جسٹس  امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل ہیں۔ فیض آباد دھرنا کے  معاملہ پر سپریم کورٹ نے سوموٹو نوٹس  لیا تھا جس پر حتمی فیصلہ     6فروری 2019 میں جاری ہؤا تھا  ۔ دورکنی بنچ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مشیر عالم شامل تھے۔ 43 صفحات پر مشتمل  فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا تھا۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے سپریم کورٹ کے  دیگر فیصلوں  سے مختلف تھا کیوں کہ اس میں سول معاملات میں عسکری اداروں اور انٹیلی  جنس ایجنسیوں کی مداخلت اور فیض آباد دھرنا کے حوالے سے ان کے کردار پر ریمارکس  موجود   تھے ۔ اس فیصلہ میں مسلح افواج کے سربراہان کو پابند کیا گیا تھا کہ ان تمام عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو اپنے آئینی اختیار  سے تجاوز   کے مرتکب ہوئے ہیں۔

فیض آباد دھرنا کیس میں جاری ہونے والے حکم پر تو عمل درآمد نہیں ہوسکا تاہم وفاقی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دائر کردیااور انہیں عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے اس ریفرنس  کو  خارج کردیا تھا۔ اس سال ستمبر میں جسٹس قاضی فائز  عیسیٰ نے  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا حلف اٹھانے کے بعد اس   عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستوں پر سماعت کے لیے تین رکنی بنچ  مقرر کیاتھا ۔ پہلی سماعت میں ہی متعدد  درخواست دہندگان نے اپنی  پیٹیشنز واپس لینے کی استدعا کی۔ البتہ آج کی سماعت کے دوران بنچ میں شامل فاضل ججوں کی طرف سے یہ سوال کیا جاتا رہا کہ آخر کیا وجہ ہے  کہ  متعدد اداروں نے  نظر ثانی کی درخواستیں دائر کیں اور اب انہیں واپس لینے کی خواہش ظاہر کی جارہی ہے۔  چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ ’ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہفیض آباد دھرنے کا اصل ماسٹر مائنڈ کون تھا‘۔

سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے فیض آباد دھرنا کے حقائق جاننے کے لیے قائم کی گئی  حکومتی کمیٹی کو  بھی مسترد کردیا گیا۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ اس حکم کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیوں کہ یہ کمیٹی  انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت قائم نہیں ہوئی۔  سب ادارے اس ایکٹ کے تحت بننے والی تحقیقاتی کمیٹی کے ساتھ تعاون کے پابند ہوتے ہیں۔ البتہ جو کمیٹی حکومت نے قائم کی ہے، ججوں کے خیال میں اس کے سامنے کوئی گواہی دینے کے لیے بھی پیش نہیں ہوگا۔ اٹارنی جنرل نے  حکومت سے ہدایت لے کر   انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت کمیٹی قائم کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کرنے کا وعدہ کیا۔

سپریم کورٹ   میں  سماعت کے دوران میں سب سے دلچسپ مرحلہ پیمرا کے سابق چئیرمین  ابصار عالم کے بیان کے حوالے سے دیکھنے میں آیا۔  اس مقدمہ  کی سابقہ سماعت کے دوران میں چیف جسٹس نے   اعلان کیا تھا کہ دھرنے سے متاثر ہونے والا کوئی بھی شخص نئی معلومات فراہم کرنے کے لیے عدالت میں بیان حلفی جمع کرواسکتا ہے۔ اس عدالتی رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیمرا کے سابق چئیرمین ابصار عالم نے گزشتہ روز ایک بیان حلفی جمع کروایا تھا جس میں انہوں نے آئی ایس آئی اور اس کے افسروں پر ملک کے ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کو کنٹرول کرنے کی غیر قانونی سرگرمیوں کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے بیان حلفی میں کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق ڈائیریکٹر جنرل میجر جنرل فیض حمید اور ان کے معاونین نے ان سے رابطہ کرکے بعض صحافیوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا بصورت دیگر  سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی تھی۔ ابصار عالم نے کہا کہ انہوں نے  یہ  ہدایات  ماننے سے انکار کیا ۔اور ایجنسیوں کے ایما پر ہی بعض افراد نے ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے دسمبر 2018 میں انہیں ان کے عہدے سے علیحدہ کردیا۔ حالانکہ ان کی چار سالہ مدت کے ابھی دو سال ہی پورے ہوئے تھے۔

پیمرا کے سابق چئیرمین کا یہ بیان اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کے اس الزام سے مماثلت رکھتا ہے جس میں انہوں نے  جنرل فیض حمید پر الزام لگایا تھا کہ وہ دو بار ان سے ملنے آئے  اور واضح کیا کہ اگر نواز شریف کو  قانونی ریلیف دیا گیا تو آئی ایس آئی کی دو سال کی محنت رائیگاں جائے گی۔  شوکت صدیقی کو بعد میں  روالپنڈی بار کونسل میں ایک قابل اعتراض تقریر کرنے کی  پاداش میں سپریم جوڈیشل کونسل نے نوکری سے نکال دیا تھا۔ سپریم کورٹ میں شوکت صدیقی کی اپیل پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔  فیض آباد دھرنا کیس میں جس فوجی افسر کی سرگرمیوں کا حوالہ موجود ہے ،  وہ بھی فیض حمید ہی ہیں جو 2017 میں میجر جنرل کے طور پر آئی ایس آئی کے ساتھ وابستہ تھے اور بعد میں  اس ادارے کے سربراہ بنائے گئے۔ 2021 کے آخر میں اس وقت  کے وزیر اعظم عمران خان اور سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان   جنرل فیض حمید  کے معاملے پر ہی اختلافات شروع ہوئے تھے۔ جنرل باجوہ نے فیض حمید کا تبادلہ کردیا تھا لیکن عمران خان اس کی توثیق سے انکارکررہے تھے۔  البتہ    ان دونوں کے درمیان  کشیدگی کے ماحول میں عمران خان کو آرمی چیف کا فیصلہ ماننا پڑا تھا۔

2022 کے دوران  اپوزیشن جماعتوں نے مل کر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس تحریک کی بنیادی وجہ یہی بتائی جاتی ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کو اندیشہ لاحق ہوگیا تھا کہ عمران خان جنرل باجوہ کے   بعد جنرل فیض حمید کو آرمی چیف  بنائیں گے تاکہ وہ   فوج کے تعاون سے طویل عرصہ تک ملک پر حکومت کرسکیں۔   اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہوگئی اور  شہباز شریف وزیر اعظم بنے۔   فیض حمید اس وقت کور کمانڈر کے طور پر بہاولپور میں تعینات تھے۔  تاہم اسی سال نومبر میں جب نئے آرمی چیف کی تقرری کا مرحلہ آیا تو  عمران خان نے تحریک انصاف  کی قیادت کرتے ہوئے  اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا اور کسی بھی طرح جنرل عاصم منیر  کی  اس عہدے پر تعیناتی  روکنے  کی کوشش کی۔ وہ اس وقت تک جنرل فیض حمید کو ہی آرمی چیف بنوانا چاہتے تھے۔ جنرل عاصم منیر کی تعیناتی کے بعد  فیض حمید اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے حالانکہ وہ جنرل عاصم منیر سے جونئیر تھے اور نئے آرمی چیف کی کمان میں خدمات انجام دے سکتے تھے۔

اس وقت جس وقوعہ کو سانحہ9 مئی کے نام سے جانا جاتا ہے ، اس  کے درپردہ بھی تحریک انصاف اور عمران خان کی  یہی خواہش  تھی کہ کسی طرح جنرل عاصم منیر  کے خلاف فوج میں ہی بغاوت کروائی جائے اور  عمران خان کا  کوئی پسندیدہ جنرل فوج کی کمان سنبھال کر سیاسی معاملات کو تحریک انصاف کی خواہشات کے مطابق طے کرے۔  2017 سے  مئی 2023 کے دوران رونما ہونے والے تمام اہم سانحات میں  لیفٹیننٹ جنرل  (ن) فیض حمید کا کردار اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ملک میں اس وقت جو شدید بے چینی، سیاسی تقسیم ، انتخابات کے حوالے سے بے یقینی  کے علاوہ معاشی مسائل کابوجھ  دیکھنے میں آرہا ہے، اس  کے درپردہ درحقیقت ان پانچ برسوں کے دوران میں سیاسی معاملات  میں  عسکری اداروں کی   براہ راست مداخلت  تھی۔ سیاسی منظر نامہ اپنی مرضی کے  مطابق تیار کرنے میں  دیگر عہدیدار  بھی  ملوث رہے ہوں گے لیکن جنرل فیض حمید اس ساری مدت میں اس مداخلت میں کلیدی کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ متعدد عناصر ان کی طرف براہ راست اشارے کرتے رہے ہیں۔ اب پیمرا کے سابق چیرمین نے سپریم کورٹ  میں جمع کروائے  گئے بیان حلفی میں فیض حمید کا نام لے کر ان پر ملکی میڈیا کو کنٹرول کرنے کا سنگین الزام لگایا ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ملک میں آئین کو بالادست دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ سیاسی امور میں عسکری اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مداخلت کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ فروری 2019 میں فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اب  ان کی عدالت میں   ایک اہم عہدے پر فائز رہنے والے شخص نے ایک فوجی افسر کا  نام لے کر  آزادی اظہار رائے سلب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔  شہریوں کے آزادی رائے کو ملک کا  آئین تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس پس منظر میں سپریم کورٹ کو حکومت کی طرف سے   حقائق تلاش کرنے کے لیے ’بااختیار کمیٹی‘ کا  انتظار کرنے اور ان   اداروں پر غصہ نکالنے کی بجائے  جو بوجوہ  طاقت کے مراکز کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں، خود براہ راست کارروائی کا اہتمام کرنا چاہئے۔

سابق  جنرل فیض حمید کے خلاف اب گواہ بھی موجود ہے اور شواہد بھی دستیاب ہیں۔ ایسے میں مزید  سرکاری  تحقیقات کے لیے اٹارنی جنرل  سے مکالمہ کی بجائے سپریم کورٹ خود فیض حمید کو عدالت میں طلب کرے اور انہیں ان حقائق کی تفصیل  بیان کرنے کا حکم دیا جائے جنہیں ابھی تک سرکاری راز بناکر چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وہ  فیض آباد دھرنے کے اصل ماسٹر مائینڈ کا نام جاننا چاہتے ہیں۔ اس سوال کا جواب جنرل فیض حمید کے سوا کوئی دوسرا نہیں دے سکتا۔   چیف  جسٹس چئیرمین پیمرا  اور الیکشن کمیشن کو شرمندہ کرنے کی بجائے ،  درپردہ سرگرم اس کردار کو طلب کریں جو ساری سچائیوں کا ’امین‘ ہے اور جس کے پاس فیض آباد دھرنے کے علاوہ بیسیوں ایسے معاملات کے راز محفوظ ہیں جس نے ملک میں جمہوری نظام تباہ کرنے میں کردار  ادا کیا ہے۔

چیف جسٹس اگر کسی قانونی یا دوسری وجہ سے ایسا اقدام نہیں کرسکتے تو فیض آباد دھرنا کیس کے خلاف نظر ثانی درخواستیں واپس لینے  کی سب  درخواستوں کو قبول کرکے فیض آباد دھرنا کیس میں  عدالتی حکم  پر عمل درآمد پر اصرار  نہ کریں۔ اس فیصلہ کو تاریخی دستاویز کے طور پر عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنالیا جائے ۔ مستقبل کا مؤرخ خود ہی سراغ لگا لے گا کہ کس نے کس وقت  آئینی اختیار سے تجاوز کیا تھا اور کون اس لاقانونیت پر خاموش رہنے پر مجبور تھا۔