عمران خان کو سلوپوائزن نہیں دیا جارہا: ڈاکٹر فیصل سلطان

  • جمعرات 02 / نومبر / 2023

عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ بظاہر عمران خان کو سلوپائزنگ دینے کی کوئی علامت نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بات جیل میں عمران خان کا معاینہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔  

 ادھر راولپنڈی پولیس نے 9 مئی کے کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا بیان ریکارڈ کرلیا جو کہ اڈیالہ جیل میں ریکارڈ کیاگیا۔ اڈیالہ جیل میں بیان ریکارڈ کرتے وقت عمران خان کے وکیل بھی موجود تھے۔ بیان ریکارڈ کرنے کے ساتھ ہی عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو ملاقات کی اجازت مل گئی جہاں انہوں ںے عمران خان کا طبی معائنہ کیا۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفت گو میں ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ وہ مکمل تندرست ہیں۔ انہوں نے کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں کی۔ وہ کم خوراک روٹین میں کھاتے ہیں، ان کا مزاج بالکل ٹھیک ہے اور وہ اپنی خوراک سے مطمئن ہیں۔ طبی معائنے میں ایسی کوئی بات محسوس نہیں ہوئی کہ جس سے اندازہ ہو کہ انہیں سلو پوائزن دیا گیا۔ شاید کسی موقع پر انہوں نے کسی خدشے کا اظہار کیا ہو تو شاید اسے غلط بیان کر دیا گیا ہو۔ ظاہری ملاحظہ میں ان کی صحت درست تھی اور سلو پوائزن کے حوالے سے کوئی علامات موجود نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے غذا کے بارے میں کوئی شکایت نہیں کی۔ وہ صحت مند انسان کی طرح محدود خوراک لیتے ہیں۔ جیل میں شاید وہ اس طرح ورزش نہیں کر پا رہے جس طرح وہ گھر میں کرتے تھے۔

 دریں اثنا ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنما اور سینئر وکیل حامد خان نے صحافیوں سے گفت گو میں کہا کہ عمران خان کی صحت کے لیے ہم سب فکرمند ہیں۔ ہمیں تشویش ہے چیئرمین پی ٹی آئی پر پہلے بھی حملے کیے جاچکے ہیں۔ اتنے عرصے سے انہیں ٹینشن میں رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہمیشہ بات چیت ہوسکتی ہے۔ باقی کس سے بات ہوسکتی ہے، وہ وقت کے ساتھ سامنے آجائے گا۔ ابھی پی ٹی آئی کے ساتھ ظلم و جبر ہو رہا ہے۔ باقی جماعتوں کو کھلی چھٹی ہے اور وہ اپنی سیاسی مہم چلا رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کو لیول پلینگ فیلڈ نہیں مل رہا۔

حامد خان نے کہا کہ ایک پارٹی کا سربراہ مجرم ہے، اسے سرکاری پروٹوکول میں لایا گیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پہلے سے ہی اسے وزیراعظم نامزد کردیا گیا ہو۔ دوسری طرف ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کو ہر قسم کی سیاسی مہم سے روک دیا گیا ہے۔ ہم سب کو چیئرمین پی ٹی آئی کے بارے میں تشویش ہے۔ اتنے عرصے سے انہیں پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔ ہمارا ورکر یا تو جیل میں ہے یا انڈر گراؤنڈ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سینٹرل کمیٹی بھی کام نہیں کرسکتی۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین بھی جیل میں ہیں۔ جو بھی جبر ہو، ہماری جماعت ہر نشست پر الیکشن لڑے گی۔ پہلے جنوری کے آخری ہفتہ میں الیکشن کا کہا گیا اور اب فروری کا اعلان کیا گیا ہے۔  یہ خود اپنے اعلان پر قائم نہیں ہیں، کیا اعتبار ہے کہ یہ اپنے اعلان پر قائم رہیں گے۔